Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

http://opentruths.com/images/kaba-icon.png

Watch Live Kaba

shabaan

 

شب برات کی فضیلت اور اس كا حكم

﴿ قسم ہے تيرے رب كی! يہ اس وقت تك مومن نہيں ہو سكتے جب تك كہ آپس كے تمام اختلافات ميں آپ كو حاكم تسليم نہ كرليں، پھر آپ ان ميں جو فيصلہ كر ديں اس ميں وہ اپنے دل ميں كسی طرح تنگی اور ناخوشی نہ پائيں اور فرمانبرداری كے ساتھ قبول كر ليں﴾ النساء ( 65 ).

اس معنی اور موضوع كی آيات بہت زيادہ ہيں، اور يہ آيات اختلافی مسائل كو كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم پر پيش كرنے اور پھر ان كے فيصلہ پر رضامندی كے وجوب پر واضح نص ہيں، اور يہی ايمان كا تقاضا ہے، اور بندوں كے ليے جلد يا بدير بہتر بھی ہے: ﴿ اور انجام كے لحاظ سے بہتر ہے ﴾. يعنی اس كا انجام اچھا ہے. 

یاد رہے کوئی بھی عبادت اس وقت تک مقبول نہ ہوگی جب تک شارع علیہ السلام نے اس کا حکم جاری نہ فرمایا ہو، نفلی اور کم سے کم ثواب والی نماز، روزہ کی جانب رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم کی واضح فرامین کتب احادیث کی زینت ہیں ایسا کوئی بھی عمل آپ علیہ السلام نے اپنی امت سے مخفی رکھا ہو  یہ نا ممکن ہے۔  کسی عمل کا واضح حکم، قولی ، فعلی صورت میں نہ دیا ہو اسے اگر ہم اپنائیں اور یہ گمان رکھیں کہ ہم نیک عمل کر رہے ہیں تو ہماری خام خیالی ہوگی۔

 بخاری و مسلم ميں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حديث مروی ہے كہ نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھی ہمارے اس دين ميں كوئی نيا كام ايجاد كيا جو ( درا اصل) اس ميں سے نہيں تو وہ ناقابل قبول ہے "

Read more...  

 

It is mustahabb to fast a great deal in the month of Sha’baan. 

Ahmad (26022), Abu Dawood (2336), al-Nasaa’i (2175) and Ibn Maajah (1648) narrated that Umm Salamah (may Allaah be pleased with her) said: “I never saw the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) fast two consecutive months apart from the fact that he used to join Sha’baan and Ramadaan.” 

According to a version narrated by Abu Dawood: “The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) never used to fast any complete month in the year, apart from Sha’baan, which he used to join to Ramadaan.” Classed as saheeh by al-Albaani in Saheeh Abi Dawood, 2048. 

The apparent meaning of this hadeeth is that the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) used to fast the entire month of Sha’baan. 

But it was also narrated that the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) used to fast all of Sha’baan apart from a few days. 

Read more...  

﴿ ماهوالمقصودبالليلة الخاصة الواردة في سورة الدخان؟ (باللغة الأردية)

فتوى


محمد صالح المنجد حفظه الله

مراجعة

شفيق الرحمن ضياء الله المد ني

الناشر

2009 - 1430


بسم الله الرحمن الرحيم

سوال : پندرہ شعبان کی کیا اہمیت ہے ؟ کیا یہی لیلۃ القدرہے جس میں ہرشخص کے سال بھرکے انجام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ,سورۃ الدخان میں ذکر کی گئی رات سے کیا مقصود ہے ؟کیا یہ شعبان والی رات ہی ہے,یا لیلۃ القدر؟

جواب:

الحمد للہ
نصف شعبان یعنی پندرہ شعبان کی رات باقی عام راتوں کی طرح ہی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم
سےاس کا کوئي ثبوت نہیں ملتا کہ اس رات لوگوں کے انجام ؛یا تقادیر کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔

آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 8907 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔

اوراللہ کے فرمان:( إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (3-4) الدخان " یقینا ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل فرمایا ہے ، بیشک ہم ڈرانے والے ہیں ، اس رات میں ہر ایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے " میں تواس سلسلے میں ابن جریر طبری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ : اس میں وارد شدہ رات کے بارہ میں اہل تفسیر نے اختلاف کیا ہے کہ یہ سال کی کون سی رات ہے ، بعض تواسے لیلۃ القدر ہی قرار دیتے ہیں ، اورقتادہ رحمہ اللہ تعالی عنہ سے یہی منقول ہے کہ اس سے مراد لیلۃ القدر ہی ہے ۔

اوردوسرے اہل علم کا کہنا ہے کہ : نصف شعبان کی رات ہے ، لیکن اس میں صحیح قول لیلۃ القدر والا ہی ہے ، یہ ایسے ہی ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : " بے شک ہم ڈرانے والے ہیں" ۔ دیکھیں تفسیر طبری ( 11 / 221 )۔

اوراللہ تعالی کا فرمان :

" اس میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے" حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں کہا ہے کہ :

"مطلب یہ ہے کہ اس رات میں اس سال کے معاملات کومقدر کیا جاتا ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

"اس رات میں ہر مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے"

اوراسی سے امام نووی نے اپنی بات کی شروعات کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ : علماء کا کہنا ہے کہ لیلۃ القدر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں فرشتے اقدار کولکھتے ہیں ، اس لیے کہ فرمان باری تعالی ہے :

" اس میں ہرمضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے " ۔

عبدالرزاق اوردوسرے مفسرین نے صحیح اسانید کے ساتھ اسے مجاھد ، عکرمہ اورقتادہ وغیرہ سے روایت کیا ہے ۔

توربشتی کا قول ہے ، یہاں "القدر" دال پر جزم کے ساتھ وارد ہوئي ہے ، اگرچہ "القدر"دال پر زبر کے ساتھ شائع اورمشہور ہے جس کا معنی فیصلے کا قصد وارادہ کرنا ہے تواس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے یہ مراد نہيں بلکہ اس سے توجوفیصلے ہوچکے ہیں اس برس میں ان کا اظہار اورتجد ید مراد ہے تا کہ جوکچھ ان کی طرف بھیجا جارہا ہے وہ مقدار کے ساتھ حاصل ہو ۔

اورلیلۃ القدر کی بہت عظيم فضیلت ہے اوراس کے لیے ہے جواس میں عمل کرے اورعبادت کرنے میں بھی کوشش کرے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : (إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ(1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ(2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ(3) تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ(4)سَلامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ )- سورة القدر

" یقینا ہم نے اسے قدر والی رات میں نازل کیا ہے ،اور توکیا سمجھے کہ قدر والی رات کیا ہے ؟ قدروالی رات ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، اس میں ہر کام کوسرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح جبریل علیہ السلام اترتے ہیں ، یہ رات سرا سر سلامتی کی ہوتی ہے ، اورفجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے "

لیلۃ القدر کی فضیلت میں بہت ساری احادیث وارد ہيں جن میں مندرجہ ذیل حدیث بھی شامل ہے :

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ) رواه البخاري : الصوم/1768)

"جس نے بھی لیلۃ القدر میں ایمان اوراجروثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ، اورجس نے بھی ایمان اوراجروثواب کی نیت سے رمضان المبارک کے روزے رکھے تواس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں " صحیح بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : 1768 ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد

 

 
Powered by Tags for Joomla