Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: فوت شدہ بزرگوں اورنیک لوگوں کی جاہ ومنزلت اور ان کے حق وحرمت کاواسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعاکرنا جائز کیوں نہیں؟

 

جواب: یہ طریق کار بدعات میں سے ہے۔ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے توفرمایا ہے کہ:

{وَلِلّٰہِ الْا َٔسْمَائُ الْحُسْنیٰ فَادْعُوْبِہَا}

’’اللہ تعالیٰ کے خوب صورت نام ہیں تم ان کے واسطے سے دعاکیاکرو ‘‘۔

اور فرمایا:

{قُلِ ادْعُوْا اللّٰہَ أَوِ ادْعُوْا الرَّحْمٰنَ أَیَّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْا َٔ سْمَائُ الْحُسْنیٰ}

’’آپ کہیں کہ تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر جوبھی پکار و اس کے خوب صورت نام ہیں ‘‘۔

 

اگرہم اللہ تعالیٰ سے کسی شخص کی جاہ ومنزلت یا نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  کی جاہ کے واسطے سے دعاکریں تو یہ درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر مخلوقات میں سے کسی کاکوئی حق نہیں ہے۔ ہمیں تو اس کے اسماء وصفات کے واسطے سے دعا کرنی چاہیئے یاپھر نیک اعمال کے ذریعے قرب اور وسیلہ تلاش کرنا چاہئے نہ کہ مخلوقات کے ذریعے۔ کیونکہ مخلوق کا اللہ تعالیٰ پر کوئی حق نہیں ہے کہ ’’فلا ں کے حق کے واسطے سے ‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے۔ کسی صاحب تحقیق نے کیا خوب کہاہے :

مَالِلْعِبَادِ عَلَیْہِ حَقٌّ وَاجِبُ

اللہ تعالیٰ کے ذمے بندوں کا کوئی حق واجب نہیں ہے

کَلاَّ وَلَاسَعْیَ لَدَیْہِ ضَائِعُ

ہر گز نہ ہی کسی کی محنت اس کے ہاں رائے گاں جاتی ہے

اِنْ عُذِّبُوْا فَبِعَدْلِہِ أَوْ نُعِّمُوْا

اگران پر عذاب ہوتا ہے تو اس کے عدل کی وجہ سے ان پرانعامات

 

فَبِفَضْلِہِ وَہُوَ الْکَرِیْمُ الْوَاسِعُ

ہوتے ہیں تو اس کے فضل کی بدولت ہے وہ تو از حد سخی

اور فراخی کا مالک ہے

 

یہ تو ہے ایک پہلو ،ایک دوسرا پہلویہ ہے کہ اگر آپ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعائوں پر غورکریں تو آپ کو کوئی ایسی دعا نہیں ملے گی جس میں انہوں نے سابقہ لوگوں میں سے کسی نبی یا کسی بزرگ کے جاہ ومرتبہ کے واسطے سے دعا کی ہو۔ اسی طرح صحابہ کرام نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم یا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کے جاہ ومرتبہ کے وسیلے سے کبھی دعا نہیںکی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم   کے بعد اس امت میں سب سے افضل ہیں۔ وہ تو اللہ کے اسماء وصفات، اس کی عظمت اورقدرت کا ملہ کا واسطہ دے کر اس سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ وہ منفر د،یکتا ،عظمت کا مالک اور بے نیاز ہے۔ اس کا کوئی مولود ہے نہ والد۔ اس کا کوئی ہم پلہ نہیں۔

یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ انہوں نے کبھی کہا ہو ہم تیرے نبی کی حرمت کے واسطے سے یا نبی کے مقام ومرتبہ کی بدولت یا تیرے نبی کی عظمت کے وسیلے سے یا حضرت آدم علیہ السلام کے مقام کی بناپر یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی برکت کے باعث یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی برکت اور مقام ومرتبہ کی بدولت تجھ سے دعا کررہے ہیں۔ یہ تمام طریقے ناجائز ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔

حدیث شریف میں آتاہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  نے حضرت عبد اللہ بن عباس  سے کہاتھا:

’’جب بھی تم مانگو اللہ تعالیٰ سے مانگو۔جب تم مددچاہو تو اللہ سے چاہو‘‘۔ -- سنن ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء فی صفۃ اوانی الحوض۔حدیث: 2516--

اسی طرح حدیث(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام تراشی والی  )حدیثمیں ہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا :

’’اے عائشہ ! تم کھڑی ہوکر نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  کا شکریہ اداکرو‘‘۔

توانہوں نے جواباً کہا تھا:

’’نہیں ! میں تواس اللہ تعالیٰ کا شکریہ اداکرتی ہوں جس نے میری بریت آسمان سے اتاری‘‘۔ واللہ اعلم۔ -- ریڈیو اسٹیشن پر نشر ہونے والافضیلہ الشیخ عبد اللہ بن حمید کا فتویٰ--

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles