Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال : وسیلہ اختیار کرنے کی شرعی حیثیت واضح فرمائی جائے۔

 

جواب: چونکہ یہ ایک اہم سوال ہے۔اس لئے اس کا جواب ذرا وضاحت سے ذکر کیا جارہا ہے۔

’’توسل‘‘ عربی زبان کالفظ ہے اور باب تفعل سے مصدرہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ : ’’کسی مقصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے کوئی ذریعہ اختیار کرنا ‘‘۔

شرعی نقطہ نظر سے اس کی دوقسمیں ہیں :

پہلی قسم : جائز وسیلہ

مقصد تک رسائی کے لئے صحیح وسیلہ اختیار کیا جائے۔ اس کے مختلف طریقے ہیں۔

پہلا طریقہ : اللہ تعالیٰ کے ناموں کاوسیلہ اختیار کرنا۔ اس کے بھی دوطریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ عام انداز میں وسیلہ اختیار کیاجائے۔ جیساکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں غم اور پریشانی کی یہ دعا :

’’ اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ عَبْدُکَ ، اِبْنُ عَبْدِکَ، اِبْنُ أَمَتِکَ،نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ،مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ،عَدْلٌ فِیَّ قَضَائُ کَ ، أَسْأَلُکَ اَلّٰلہُمَّ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَلَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ،أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِیْ کِتَابِکَ، أَوْعَلَّمْتَہُ أَحَداً مِنْ خَلْقِکَ،أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ …………‘‘۔

’’اے اللہ میں تیرا غلام ہوں۔ تیرے غلام کا بیٹا ہوں تیری باندی کا بیٹاہوں۔میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ تیرا فیصلہ مجھ میں جاری وساری ہے ، تیرافیصلہمبنی بر انصاف ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے ذریعے دعا کرتاہوں، جس کے ساتھ تو نے اپنے آپ کو موسوم کررکھاہے ، یا اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے، یا اسے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے ، یا اپنے پاس علم غیب میں محفوظ کرچھوڑا ہے کہ توقرآن مجید کو میرے دل کی بہار بنادے…………‘‘۔ -- مسند أحمد، 392/1، حدیث: 3712--

 

تو یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کا عمومی وسیلہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ:

’’میں تجھ سے تیرے ہر نام کے ذریعے مانگتاہوں‘‘۔

دوسرا طریقہ خاص ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کے کسی خاص نام کا وسیلہ اس نام کے ساتھ مناسبت رکھنے والی کسی خاص ضرورت کے لئے اختیار کرے۔ مثلاً حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  سے پوچھا کہ وہ نماز میں کون سی دعا پڑھا کریں تو آپ نے فرمایا تم یہ دعا پڑھا کرو:

’’اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ‘‘۔ -- صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء فی الصلاۃ۔حدیث: 6326--

اس دعا میں انہوں نے مغفرت اور رحمت طلب کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے دوناموں ’’الغفور‘‘ اور ’’الرحیم‘‘ کا وسیلہ اختیار کیا ہے اور یہ ان کی مطلوبہ دعا کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔

 

وسیلے کی مذکورہ بالاقسم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہے :

{وَلِلّٰہِ الْأَسْمَائُ الْحُسْنیٰ فَادْعُوہُ بِہَا }-- الاعراف:180-

’’اور اللہ تعالیٰ کے خوبصورت نام ہیں۔ان کے ذریعے تم اس سے دعا کیا کرو‘‘۔

اس آیت کریمہ میں ’’دعا‘‘ سے مراد ضروریات زندگی طلب کرنا بھی ہے اور عبادت کرنا بھی۔

 

دوسرا طریقہ:

اللہ تعالیٰ کو اس کی صفات کاواسطہ دے کر دعا کرناوسیلے کی دوسری قسم ہے۔ پہلی قسم کی طرح اس کے بھی دوطریقے ہیں۔

پہلا طریقہ عام ہے مثلاً دعاکرنے والا کہے :

’’اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے خوبصورت ناموں اور صفات عالیہ کاواسطہ دے کر مانگتاہوں‘‘۔

اس کے بعد اپنی خواہش ذکرکردے۔

دوسرا طریقہ خاص ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ کو خاص صفت کا واسطہ دے کر اس سے کسی چیز کی دعا کی جائے۔ جیسے حدیث شریف میں آتاہے :

’’اے اللہ! تو عالم غیب ہونے اور مخلوق پر قادر ہونے کے باعث مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لئے زندہ رہنا بہتر ہے۔ اگر تیرے علم کے مطابق میرافوت ہوجانا بہتر ہوتو مجھے فوت کردے ‘‘۔-- مسند أحمد، 264/4، حدیث: 18325--

اس دعا میں اللہ تعالیٰ کو اس کی دو صفتوں ’’علم‘‘ اور ’’قدرت‘‘ کاواسطہ دیا گیا ہے اور یہ دونوں مطلوبہ دعا سے بھی مناسبت رکھتے ہیں۔

اسی طرح اس کی فعلی صفت کا واسطہ بھی دیا جاسکتاہے۔ جیسے ہم درود میں کہتے ہیں :

’’اے اللہ ! جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور آل ابراہیم پرر حمت فرمائی ایسے ہی محمد اور آل محمد  صلی اللہ علیہ و سلم  پر بھی رحمت فرما‘‘۔

 

تیسراطریقہ  :   اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا واسطہ دے کر دعا کرنا

مثلاً کوئی شخص اس طرح کہے :

’’اے اللہ ! میں تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تیرے رسول پر بھی ایمان لایا ہوں لہٰذا تو مجھے معاف فرمادے اور مجھے توفیق بخش ‘‘۔یا کہے :’’اے اللہ! میں تجھ پر ایمان لانے اور تیرے رسول پرایمان لانے کی بنا پر تجھ سے دعا کرتاہوںکہ ……………‘‘۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی اس قسم سے تعلق رکھتاہے :

{إِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْا َٔرْض وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَا ٓ یَاتٍ لِّأُوْلِیْ الْا َٔلْبَابِ الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْداً وَعَلیٰ جُنُوْبِہِمْ…………… رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلایْمَانِ أَنْ آمِنُوْا  بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا رَبََّنَافَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّآتنِا وَتَوَفَّناَ مَعَ الْأَبْرَارِ} -- 190:193--

’’آسمان اور زمین کی تخلیق اور دن رات کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہوئے یاد کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔………… اے ہمارے رب ! ہم نے ایمان ایمان کے منادی کو سنا (یہ کہتے ہو ئے ) کہ تم اپنے پروردگار پر لے آئو۔ تو ہم ایمان لے آئے لہٰذا تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے گناہ ختم کردے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ فوت کرنا ‘‘۔

اس میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کو وسیلہ بناکر دعاکی گئی ہے کہ ان کے گناہ بخش دئیے جائیں ، ان کی غلطیاں معاف کردی جائیں اور انہیں نیک لوگوں کے ساتھ فوت کیا جائے۔

 

چوتھا طریقہ  :  نیک عمل کو وسیلہ بنانا

اس سلسلہ میں غار میں پناہ لینے والے تین آدمیوں کا واقعہ حدیث میں بیان ہواہے اور وہ مشہور ومعروف ہے کہ وہ ’’وہ رات گزارنے کے لئے غار میں داخل ہوئے تو اس کا منہ پتھر کے ذریعے بند ہوگیا۔ پھر ہرایک نے اپنے نیک عمل کو وسیلہ بنا کر دعا کی۔ ایک نے والدین سے حسن سلوک کووسیلہ بنایا ، دوسرے نے اعلیٰ درجے کی پاک دامنی کو اور تیسرے نے مزدور کو اس کے حق کی ادائیگی کا وسیلہ بنایا۔ ہر ایک نے یہ کہا کہ :

’’اے اللہ ! اگر میں نے یہ کام تیری رضا کی خاطر کیا ہے تو ہمیں اس مصیبت سے نجات دے ‘‘۔-- مسند أحمد، 117/2، حدیث: 5973-- صحیح البخاریحدیث2215،مسلم حدیث2743۔

توچٹا ن پیچھے ہٹ گئی۔

 

پانچواںطریقہ اپنی حالت زار کووسیلہ بنانا

دعاکرنے والا اللہ تعالیٰ کو اپنی حالت ِزار اور ضرورت مندی کا واسطہ دے کر سوال کرے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا:

’’اے پروردگار ! جوخیر بھی اس وقت تو میرے لیے اتارے ، میں اس کا حاجت مند ہوں ‘‘۔  -- القصص: 24 --

 

حالت ِزار کاذکرکرکے دعا کرنے کی مثال حضرت زکریا علیہ السلام کی یہ دعا ہے :

’’اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میرے سر پر بڑھاپا شعلہ زن ہوچکاہے اوراے میرے رب ! میں تجھے پکار کر کبھی محروم نہیں رہا ‘‘۔-- مریم: 4 --

یہ وسیلے تمام جائزطریقے ہیں کیونکہ یہ مقصد حاصل کرنے کے بہتر اسباب ہیں۔

 

چھٹا طریقہ  :  نیک آدمی کی دعا کو وسیلہ بنانا

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  سے دعا کی درخواست کیا کرتے تھے کہ آپ کسی کے لئے مخصوص یا سب کے لئے عام دعا کردیں۔ حدیث شریف میں آتاہے کہ ایک آدمی جمعہ کے روز آیا۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  خطبہ دے رہے تھے۔ اس نے عرض کیا یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  ! مویشی ہلاک ہورہے ہیں ‘ معیشت تنگ ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہماری مدد فرمائے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے ہاتھ اٹھائے اور تین مرتبہ فرمایا :

’’اے اللہ ! ہماری فریا د رسی کر‘‘۔ -- صحیح البخاری، کتاب الاستسقائ، باب الاستسقاء فی خطبۃ الجمعۃ غیر مستقبل القبلۃ۔حدیث: 1014،صحیح مسلم،حدیث: 897--

آپ منبر سے ابھی نہیں اترے تھے کہ بارش کے قطرے آپ کی داڑھی مبارک پر برس کر نیچے گرنے لگے اورہفتہ بھر بارش ہوتی رہی۔ آئندہ جمعے وہی آدمی یا کوئی اور آدمی آیا۔آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔ اس نے عرض کیا : یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم ! بارش سے سیلاب آگیاہے ،عمارتیں گررہی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعافرمائیں کہ وہ بارش کو روک دے۔نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے ہاتھ اٹھائے اوردعاکی:

’’اے اللہ ! ہمارے اردگرد بارش برسا ،ہمارے اوپر نہ برسا ‘‘۔

آپ آسمان کی جس سمت بھی اشارہ کرتے بادل چھٹ جاتے ،لوگ باہر نکلے تو دھوپ چمک رہی تھی ‘‘۔ -- بخاری ومسلم

کچھ اور بھی ایسے واقعات ہیں جن میں صحابہ کرام نے خصوصی دعائیں بھی کروائیں مثلاً نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے ذکر کیا کہ :

’’میری امت کے ستر ہزار افراد حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ تو دم کرواتے ہیں۔ نہ علاج کرواتے ہیں اور نہ ہی فال لیتے ہیں۔ محض اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ‘‘۔

حضرت عکاشہ بن مِحصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور عرض کرنے لگے : اے اللہ کے رسول(  صلی اللہ علیہ و سلم )! آپ اللہ تعالیٰ سے دعاکریں کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرما یا:

’’توان میں شامل ہے ‘‘۔

 

یہ بھی توسل کا ایک جائز طریقہ ہے کہ ایک شخص کسی مستجاب الدعوات شخصیت سے دعاکروائے۔ البتہ ایسے میں ہونا یہ چاہیئے کہ آدمی کے مد نظر اپنا بھی فائدہ ہو اور دعاکرنے والے کا بھی۔ تاکہ یہ محض اپنے مانگنے کی صورت نہ بن جائے۔ اگر دعا کرنے والے کا بھی فائدہ مقصو ہوگا تو اس کے ساتھ ساتھ نیکی کرنے کا پہلو پایا جائے گا۔ حدیث میں آتاہے کہ جب کو ئی شخص اپنے بھائی کے لئے پس پشت دعاکرتاہے تو فرشتہ کہتاہے :

’’اے اللہ قبول فرما۔ اور اسے بھی ایسے ہی عطاکر ‘‘۔

اس طرح وہ شخص نیک کام کرنے والوں میں شمار ہوتاہے جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں۔

 

دوسری قسم : ناجائز وسیلہ

ناجائز وسیلہ یہ ہے کہ آدمی ایسی چیز کو وسیلہ بنائے جوشرعاً وسیلہ نہیں بن سکتی۔ ویسے بھی اس قسم کا وسیلہ لغو وباطل اور عقل ونقل کے خلاف ہوتاہے۔ مثلاً کسی فوت شدہ سے کہنا کہ وہ آدمی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعاکرے یہ وسیلہ نہ صرف شرعی لحاظ سے غلط ہے بلکہ انسان کی بے وقوفی ہے کہ وہ فوت شدہ سے دعا کروائے۔ فوت شدہ کے عمل تو اس کی وفات کے ساتھ ہی منقطع ہوجاتے ہیں۔اس کا وفات کے بعد کسی کے لئے دعا کرنا کیسے ممکن ہے۔ حتی کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  بھی وفات کے بعد کسی کے لئے دعانہیں کرسکتے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی وفات کے بعدا ٓپ  صلی اللہ علیہ و سلم  کو اللہ تعالیٰ سے دعاکرنے کے کو نہیں کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جب قحط سالی ہوگئی تو آپ نے ان لفظوں سے دعاکی :

’’اے اللہ ! ہم تجھ سے نبی  صلی اللہ علیہ و سلم  کی وساطت سے دعاکیاکرتے تھے تو ہمیں باران رحمت دے دیتاتھا۔ اب ہم تیرے نبی کے چچا کی وساطت سے دعا کرتے ہیں لہٰذا تو ہمیں سیراب فرمادے ‘‘۔ -- صحیح البخاری، کتاب الاستسقائ، باب سوال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا۔حدیث: 1010--

ان کے کہنے پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر دعاکی۔

اگر کسی فوت شدہ شخص سے بھی دعاکرانا جائز ہوتا اور جائز وسیلہ قرارپاتا توحضرت عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  سے دعاکرواتے۔ کیونکہ آپ کی دعاحضرت عباس رضی اللہ عنہ کی دعا کی نسبت زیادہ قابلِ قبول ہے۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کو فوت شدہ کی دعا کاواسطہ دینا غلط ، ناجائز اورحرام ہے۔

ناجائز وسیلہ کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آدمی نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  کے مقام ومرتبہ کاواسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعاکرے۔کیونکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  کامقام ومرتبہ دعاکرنے والے کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔بلکہ اس کا فائدہ توصرف رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  کی ذات گرامی کو ہے دعا کرنے والے کو اس کا کیا فائدہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس کا واسطہ دیتاپھر ے۔ یہ بات توپہلے بھی بیان ہوچکی ہے کہ وسیلہ حاصل کرنے سے مراد تو یہ ہے کہ فائدہ مند اور صحیح وسیلہ اختیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں آں حضرت  صلی اللہ علیہ و سلم  کے مقام ومرتبہ کا تمہیں کیا فائدہ ہے؟ اگر تم ان کوصحیح واسطہ دینا چاہتے ہو تو یہ کہو کہ :

’’اے اللہ ! میں تجھ پر ایمان لانے اور رسول  صلی اللہ علیہ و سلم  پر ایمان لانے کا واسطہ دیتاہوں ،یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  کے ساتھ اپنی محبت کا تجھے واسطہ دیتاہوں یہ وسیلہ صحیح بھی ہے اور اس کیلئے مفیدبھی‘‘۔

  -- فتاویٰ ابن عثیمین :335-340/4

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles