سوال: جادوزدہ آدمی سے جادو کودورکرنے کاشریعت اسلامیہ میں کیاحکم ہے ؟ نیز ’’منتر ‘‘ کی کیا حیثیت ہے؟
جواب: جادوزدہ آدمی کے جادو کو دورکرنے کی دوحیثیّتیںہیں
۔۱ اگر یہ عمل قرآن مجید ، مسنون دعائوں اور حلال دوائوں سے کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں مصلحت ہے اور کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ یہ تو کیا جاناچاہئیے کیونکہ یہ بلاضرر اصلاح ہے۔
۔۲ اگر جادو کو کسی حرام طریقے سے ختم کیا جائے مثلاً جادو کو اس جیسے جادوہی کے ذریعے ختم کیا جائے تو اس میں علما ء کی آراء مختلف ہیں۔ کچھ علماء اسے مجبوری کے تحت جائز قرار دیتے ہیں جب کہ کچھ دیگر علماء نے اسے منع قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل وہ حدیث نبوی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’منتر‘‘ کے متعلق پوچھا توآپ نے فرمایا کہ :
’’یہ شیطانی کام ہے ‘‘۔ - سنن أبو داود، کتاب الطبّ، باب فی النشرۃ۔حدیث: 3868- -
لہٰذا جادو کو جادو کے ذریعے ختم کرنا حرام ہے۔ انسان کو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا اور گریہ زاری کرنی چاہئیے تاکہ اس کی تکلیف ختم ہوجائے۔ اِرشادِ ربّانی ہے :
{وَإذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إذَا دَعَانِ - -البقرۃ:186 -
’’جب آ پ سے میرے بندے میر ے متعلق پوچھیں تو میں بہت نزدیک ہوں۔ جب کوئی دعا کرنے والا مجھ سے دعاکرے تو میں اس کی دعا قبول کرتاہوں ‘‘۔
اور فرمایا:
{أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّاِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَائَ الْا َٔرْضِ أَلـٰـہٌ مَّعَ اللّٰہِ قَلِیلْا ً مَّاتَذَکَّرُوْنَ} - -النمل: 62 -
’’کون ہے جو بے بس کی دعا کو قبول کرتاہے اور تکلیف کو دورکرتاہے اور تمہیں زمین پر نائب بناتاہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو ‘‘۔
اور توفیق تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ -
-فتاویٰ ابن عثیمین: 2,176,177 -






