Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال : کلمہ ء شہادت کی وضاحت فرمائی جائے؟

 

جواب : کلمہ شہادت کے دوحصّے ہیں ایک ’’لَا إلٰہَ إلاَّ اﷲ‘‘ اور دوسرا ’’مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ‘‘ اور ان دونوں کا اقرار اسلام کی کلید ہے، اس کے بغیر اسلام میں داخل ہونا ناممکن ہے۔جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو آپ نے انہیں یہ فرمایا تھاکہ تم نے سب سے پہلے انہیں ان دوچیزوں کے اقرار کی دعوت دینا ہوگی کہ ’’اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے ‘‘ اور ’’حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے رسول ہیں ‘‘۔

’’لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ‘‘ کے اقرار کے ذریعے انسان اپنی زبان اور دل سے اس بات کا اعترف کرتا ہے کہ ’’ اللہ کے علاوہ کوئی بھی سچّا معبود نہیں ہے ‘‘ اور یہ فقرہ نَفی واثبات دونوں پر مشتمل ہے۔ ’’لَاإلٰہ َ‘‘میں نفی کاپہلو ہے ’’إلَّااللّٰہ ‘‘ میں اِثبات کا پہلو ہے۔اس میں دل کے اِیمان ویقین کے بعد زبان کے ذریعے اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے نیز اس میں عبادت کو صرف اللہ کے لئے خالص کرنے اور دوسروں سے اس کی نفی کا معنی پایا جاتاہے۔

لفظ ’’حَقٌّ ‘‘ کو پوشیدہ تسلیم کرنے سے لوگوں کے اس اشکال کا جواب خودبخود سمجھ میں آجاتاہے کہ ’’اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے‘‘ کاکیا مطلب ہے ؟ جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی معبودوں کی عبادت ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی انہیں معبود کہاہے اور ان کے عبادت گزاروں نے بھی۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{فَمَاأَغْنَتْ عَنْہُمْ اٰلِہَتُہُمُ الَّتیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ لَّمَّا جَآئَ اَمْرُ رَبِّکَ}- -ہود:- 101

’’جب آپ کے ربّ کا حکم آجائے تو اللہ کے علاوہ جن معبودوں سے یہ دعائیں کرتے ہیں وہ انہیں بچانہیں سکیں گے‘‘۔

 

اسی طرح ارشاد فرمایا:

{وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ إِلٰہاً آَخَرَ }- -بنی اسرائیل:- 39

’’اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنائیں ‘‘۔

اورفرمایا:

{وَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ إلٰہًا آخَر } - -القصص:- 88

’’اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے معبود سے دعا نہ کریں ‘‘۔

اور فرمایا:

{لَنْ نَدْعُوَا مِنْ دُوْنِہ إلٰہاً }- الکھف : 14 - -

’’ہم اس کے علاوہ کسی اور معبود سے ہر گز دعا نہیں کریں گے ‘‘۔

جب اللہ عزوجل کے علاوہ بھی معبود موجود ہیں تو ہم یہ کس طرح کہتے ہیں کہ ’’لا الٰہ الا اللّٰہ ‘‘ ( اللہ کے سواکوئی معبود نہیں )، اسی طرح ایک دوسرا اشکال یہ ہے کہ ہم غیر اللہ کے معبود ہونے کو کیسے تسلیم کرلیں جب کہ تمام رسولوں نے اپنی قوم سے یہ کہا ہے :

{اُعْبُدُوْ اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلٰہٍ غَیْرُہُ}- -الأعراف:- 59

’’تم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی بھی معبود نہیں ہے ‘‘۔

اس کا جواب ’’لَا إلٰہ إلَّا اللّٰہ ‘‘ میں خبر کو محذوف تسلیم کرنے سے واضح ہوجاتاہے اور معنی یہ بنتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن معبودوں کی تم عبادت کرتے ہو وہ معبود تو ہیں لیکن باطل اور ناحق طور پر۔ کیوں کہ معبودیت میں ان کا کچھ بھی حق نہیں ہے اس معنی کی نشاندہی قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ بھی کرتی ہے :

{ذَالِکَ بِأَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْحَقُّ وأَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ } - -لقمان:۰۳-

’’یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی (معبود ) حق ہے اور اس کے علاوہ جن سے وہ دعائیں کرتے ہیں وہ باطل وناحق ہے اور یقینااللہ تعالیٰ ہی بلند وبرتر ہے ‘‘۔

نیز فرمایا:

{أَفَرَأَیْتُمُ اللّٰاتَ وَالْعُزّٰی وَمَنَا ۃَ الثَّالِثَۃَ الْا ُٔخْریٰ أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْا ُٔنْثٰی تِلْکَ اِذاً قِسْمَۃٌ ضِیْزَیٰ إِنْ ہِیَ إِلاَّ أَسْمَائٌ سَمَّیْتُمُوْہَا أَنْتُمْ وَآبَائُ کُمْ مَا أَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطَانٍ } - -النجم:- 19-23

’’کیاتم نے کبھی لات، عُزّی اور تیسری دیوی منات پرکبھی غور کیا ؟ کیا تمہارے تو بیٹے ہوں اور اللہ کی بیٹیاں ؟ یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہے۔ دراصل یہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ چند نام تم نے اور تمہارے باپ داد ا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی کوئی سند نازل نہیں کی ہے ‘‘۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق فرمایا:

{مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ إِلاَّ أَسْمَائً سَمَّیْتُمُوْہَا اَنْتُمْ وَآبَائُ کُمْ مَا أَنْزَلَ اللّٰہُ بِہَامِنْ سُلْطَانٍ } - -یوسف:- 40

’’تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہو وہ تو محض چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی ہے ‘‘۔

تو ’’لاَ إلٰہَ إلَّااللّٰہ ‘‘ کا معنی یہ ہوا کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی سچّامعبود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جتنی بھی چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے ان کے پرستار جس معبودیّت کا دعویٰ کرتے ہیں وہ حق نہیں ہے ،باطل ہے۔ سچّی معبودیت صر ف اللہ عزوجل ہی کی ہے۔

’’مُحَمَّدُ رَّسُوْ لُ اللّٰہ ‘‘کا اقرار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زبان کے ساتھ اقرار کرتے ہوئے دل میں اس بات پر یقین کیا جائے کہ حضرت محمد بن عبد اللہ قریشی ہاشمی اللہ عزوجل کی طرف سے تمام جنّوںاور انسانوں کی طرف بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ جَمِیْعاًنالَّذِیْ لَہُ مُلْکُ السَّمٰوَاتِ وَالْا َٔرْضِ لَا إلٰہَ إِلاَّ ہُوَ یُحْیٖیْ وَیُمِیْتُ فَأٓمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْا ُٔمِّیِ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمَاتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ}- -الاعراف:- 158

’’آپ کہہ دیں کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جس کی ملکیّت میں آسمان وزمین ہیں۔ جن کے علاوہ کوئی بھی سچّا معبود نہیں ہے ،وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت۔ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے ایسے رسول پر ایمان لے آئو جو اس کا اُمّی نبی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی باتوں پرا یمان رکھتاہے، نیز اس کی اتباع کرو تاکہ تم ہدایت یافتہ ہوجائو‘‘۔

اور فرمایا:

’’تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلیٰ عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا‘‘۔ - -الفرقان:- 1

’’وہ ذات سرا پا برکت ہے جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل کیا تاکہ وہ پورے جہاں کے لئے آگاہ کرنے والا بن جائے ‘‘۔

اس اقرار کا تقاضایہ ہے کہ آپ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کریں۔ جو کام انہوں نے کرنے کو کہے ہیں وہ سرانجام دیں اور جن کا موں سے روکاہے ان سے با ز آجائیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کریں۔

اس کاایک اور تقاضا بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ یہ نظریہ اختیار نہ کریں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا پروردگار ہونے اور کائنات میں تصرّف کرنے یا عبادت میں کوئی حق ہے بلکہ وہ تو عابد ہیں معبود نہیں ہیں۔ سچّے رسول ہیں اللہ کی مشیئت کے بغیر خود اپنے یا کسی دوسرے شخص کے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{قُلْ لاَّأَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَائِنُ اللّٰہِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَا أَقُوْلُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مُایُوْحیٰ إِلَیَّ } - -الأنعام:- 50

’’آپ کہہ دیں کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا ہوں میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب ہی جانتاہوں اور نہ ہی میں یہ کہتاہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو اپنی طرف کی جانے والی وحی کی اتّباع کرتاہوں ‘‘۔

لہٰذا آپ تو حکم کے پابند ہیں، جو حکم ہوتاہے اس کی اتّباع کرتے ہیں۔

اس طرح دوسرافرمان یو ں ہے کہ :

{قُلْ إِنِّیْ لاَأَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وََّلَا رَشَداً قُلْ إِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰہِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَداً}- -الجن:21 ـ-  22

’’آپ کہہ دیں کہ میں تمہارے نفع ونقصان کا مالک نہیں ہوں۔ آپ کہہ دیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے مجھے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی اس کے علاوہ مجھے کبھی بھی کوئی پناہ گاہ مل سکتی ہے ‘‘۔

نیز فرمایا:

{قُلْ لاَّأَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلاَ ضَرًّا إِلاَّ مَاشَائَ اللّٰہُ وَلَوْکُنْتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ  السُّوْئُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِیْرٌ وَّبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ} - -الاعراف:- 188

’’آپ کہہ دیں کہ اللہ کی مرضی کے بغیر میں خود اپنے بھی کسی نفع ونقصان کا مالک نہیں ہوں اور اگر میں غیب جانتاہوتا تو میں بہت سی بھلائی جمع کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی میںتوایسے لوگوں کو محض آگاہ کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں جو ایمان لاتے ہوں‘‘۔

شرک کی اَقسام

توحید کا متضادّ شرک ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں جواصل میں دوہی قسمیں بنتی ہیں :

۔ ۱  شرکِ اَکبر

۔۲ شرک ِاَصغر

شرک ِاَکبر

اس میں درج ذیل امور شامل ہیں :

o غیر اللہ کی مکمل عبادت کرنا یا عبادت کا کچھ حصہ بجالانا۔

o دین اسلام کے طے شدہ فرائض مثلاً نماز، روزہ وغیرہ میں سے کسی فریضہ کا انکارکرنا۔

o اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ ان کاموں میں سے کسی کام کی حرمت کا انکارکرنا جو دین اسلام میں جانے پہچانے ہیں۔ مثلاً : زنا وشراب وغیرہ۔

o مخلوق کی ایسی بات کو جائز سمجھ کر نا ماننا جس سے خالق کی نافرمانی لازم آرہی ہو۔

o دین اسلام کی مخالفت کرتے ہوئے کسی رئیس ، وزیر ، عالم یاکسی اورشخص کی اطاعت کرنا۔

o اس کے علاوہ وہ تمام کام اس میں شامل ہیں جن سے غیر اللہ کی جزوی عبادت ہورہی ہو مثلاً ولیوں سے دعا کرنا ، ان سے فریا دکرنا ، ان کے لئے نذر ونیاز لے جانا، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیزکو حلال سمجھنا۔

o کسی فریضہ کو ساقط قراردینا مثلاً : یہ نظریہ رکھنا کہ نماز، روزہ ، زکوٰۃ یا حج فرض نہیں ہے۔ یا یہ نظریہ اختیار کرلینا کہ شریعت ان کا وجودہی نہیں ہے۔

مذکورہ بالا تما م کام کفر اکبر اور شرک اکبر ہیں کیونکہ ان سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کاتکذیب ہوتی ہے۔

o اس طرح اللہ تعالیٰ کی کسی ایسی حرام کردہ چیزکو حلال سمجھنا جو دین میں ہر خاص وعام کو معلوم ہیں مثلاً زنا کاری اور شراب خوری ، والدین کی نافرمانی ،ڈاکہ زنی یا لواطت ،سود خوری جیسے معلوم الحرمت کاموں کو جائز سمجھنا جن کی حرمت قطعی ہے اور اجماع کے ذریعے ثابت ہے۔ ان چیزوں کو اگر کوئی شخص حلال سمجھے گا ، اللہ تعالیٰ  ہمیں اس سے بچائے،وہ بالاتفاق کافر ہوجائے گااور اس کی حیثیت شرک اکبر کا ارتکاب کرنے والے شخص کی سی ہوگی۔

o اسی طرح جو شخص مذہب کامذاق اڑائے تو اس کی حیثیت بھی اس جیسی ہوگی اور وہ بھی کفر اکبر کامرتکب ہوگا جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{قُلْ أَبِاللّٰہِ وَآیَاتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تِسْتَہْزِؤُوْنَ لاَتَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ} - -التوبۃ:۶۶۔۵۶-

’’آپ کہہ دیں کیا تم اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑایا کرتے تھے ؟ تم بہانے نہ کرو تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے ‘‘۔

o اسی طرح اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کی تحقیر کرتاہے جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت بخشی ہے مثلاً قرآن مجید کی توہین کرنا، اس پر پیشاب کرنا ، اسے پائوں تلے روندنا ، اس کے اوپر بیٹھ جانا یا اسی قسم کی کوئی ہتک آمیز حرکت کرنا تما م کام بالاتّفاق موجب کفر ہیں۔ ایسا کرنے سے وہ شخص اللہ تعالیٰ کی تنقیص وتحقیر کرتا ہے کیونکہ قرآن مجید اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کلام ہے جو شخص اس کی توہین کرتاہے وہ اللہ تعالیٰ کی توہین کرتاہے۔

ان تمام کاموں کو علماء کرام نے ارتداد کے باب میں ذکر کیا ہے چاروں مذاہب میں اس کے لئے ’’مُرتد کی سزا ‘‘ کا عنوان قائم کیا گیاہے اور اس میں انہوں نے کفر اور گم راہی کی تمام اقسام ذکر کی ہیں۔ یہ مسائل ازحدلائق اعتناء ہے بالخصوص ہمارے اس دور میں جب کہ ارتداد نے مختلف روپ دھار لئے ہیں اور اکثر لوگوں کے سامنے معاملہ مشتبہ ہوگیاہے۔ جوشخص انہیں معلوم کرلے گا اسے اسلام کے منافی امور،اسبابِ ارتداد ،اَنواعِ کفرو ضلال سے آگاہی حاصل ہوجائے گی۔

شرک ِاصغر :

اس سے مرادہ وہ کام ہیں جن پر لفظ ’’شرک ‘‘ کا اطلاق ہوا ہے لیکن وہ شرک اکبر کے درجے تک نہیں پہنچتے مثلاً:ریاء کاری ، شہرت طلبی دکھلاوے کے لئے نمازیا تلاوت یا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا وغیرہ ان کاموں کوشرکِ اصغر کہاجائے گا۔ حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’مجھے تمہارے متعلق شرک ِاصغر کا زیادہ خطرہ ہے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: ریاکاری شرکِ اصغر ہے اللہ عزوجل قیامت کے دن ریاکاروں سے کہے گا: جنہیں دکھلانے کے لئے تم دنیا میں عمل کیاکرتے تھے ان کے پاس جائو اور دیکھو آیا تمہیں کئی صلہ ملتاہے؟‘‘ - مسند احمد، 428/5، حدیث: 23630- -۔

اسے احمد نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے جب کہ طبرانی ،بیہقی اور دیگر محدثین نے بھی اسے محمود بن لبید ہی سے بطور مرسل روایت کیا ہے اگر چہ محمود لبید نے صغرِ سنّی کے باعث اسے بذات خودرسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے نہیں سنا تاہم صحابہ کی مرسل احادیث کو اہل علم نے صحیح اور قابل حجّت قرار دیا ہے۔

اسی طرح یہ کہنا کہ ’’جیسے اللہ تعالیٰ چاہے اور وہ شخص چاہے ،یا اگر اللہ تعالیٰ اور وہ شخص نہ ہو تا،یا یہ اللہ تعالیٰ اور اس شخص کی طرف سے ہے ‘‘۔

یہ سب شرک اصغر میں سے ہے جیساکہ سنن ابو داؤد میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ :

’’تم ایسے نہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور وہ شخص چاہے بلکہ تم کہو جیسے اللہ تعالیٰ چاہے پھر وہ شخص چاہے ‘‘۔ - سنن أبو دواد، کتاب الأدب، باب لایقال خبثت نفسی۔حدیث: 4980- -

سنن نسائی میں حضرت قتیلہ کی روایت ہے کہ یہود یوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کہا کہ تم شرک کرتے ہو کیونکہ تم کہتے ہوکہ جیسے اللہ تعالیٰ چاہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہے۔ اسی طرح تم کہتے ہو کہ ’’کعبہ کی قسم !‘‘تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام کو حکما ً فرمایا کہ ’’جب تم کہنا چاہو تو ایسے کہو ربِّ کعبہ کی قسم ہے ،  جیسے اللہ تعالیٰ چاہے پھرجیسے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )چاہیں ‘‘۔ - سنن النسائی : کتاب الأیمان والنذور،باب الحلف بالکعبۃ - حدیث :37731- -

نسائی ہی کہ ایک دوسری روایت جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کی ہے اس میں ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : یار سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ! جیسے اللہ تعالیٰ چاہے اور آپ چاہیں تو آپ نے فرمایا:

’’کیا تم نے مجھے اللہ کاشریک بنادیا ہے (بلکہ کہو ) جیسے اللہ اکیلا چاہے ‘‘۔ - السنن الکبری للنسائی حدیث :10825 کتاب عمل الیوم واللیلۃ 333، باب النھی أن یقال ماشاء اللّٰہ وشاء فلان، مسند أحمد (1؍215       ) حدیث :  1839،  قال الألبانی : حسن ، صحیح ابن ماجہ (2117) قال شعیب صحیح لغیرہ- -

اللہ تعالیٰ کے فرمان :

{فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ أَنْدَاداً وَّأَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} - -البقرۃ:۵۴-

کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ’’یہ امّت محمدیہ کاشرک ہے جو تاریکی شب میں سیاہ پتھر پر چلنے والی چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ مثلاً کوئی آدمی کہے’’اللہ کی قسم اور میری زندگی کی قسم ‘‘ یااس طرح کہے کہ ’’اگر اس کی کتیانہ ہوتی تو چورہم تک پہنچ چکے تھے ، اگر بطخ نہ ہوتی تو چور ہم تک پہنچ چکے تھے ‘‘۔

یایوں کہے :  ’’ جیسے اللہ چاہے اور وہ شخص چاہے، اگر اللہ تعالیٰ نہ ہو اور وہ شخص نہ ہو‘‘  ان باتوں میں وہ شخص ‘‘ کا اضافہ نہ کریں۔ یہ تمام ترشرکیہ الفاظ ہیں (ابن ابی حاتم۔ اس کی سند حسن ہے )

اس طرح کے تمام اقوال شرک اصغر کے زمرہ میں آتے ہیں۔

غیر اللہ کی قسم اٹھانا ، کعبہ ، انبیاء ، امانت ، کسی شخص کے حیاء اور شرف وبزرگی کی قسم اٹھانا یہ سب کام شرک اصغر ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’جوشخص غیر اللہ کی قسم اٹھاتاہے وہ شرک کرتاہے ‘‘۔ (اس کی سند صحیح ہے )- مسند احمد: 2 : 35، حدیث : 4904 - -

اس طرح حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’جوشخص غیر اللہ کی قسم اٹھائے اس نے کفر کیا یافرمایا اس نے شرک کیا ‘‘۔

ممکن ہے کہ راوی کے شک کی بناپر’’أو ‘‘کہاہو۔جبکہ ’’أو‘‘کامعنی ’’واو‘‘یعنی ’’اور ‘‘بھی ہوسکتاہے توحدیث کامطلب یہ ہو گاکہ اس نے کفر بھی کیااور شرک بھی کیا( اس کی سند صحیح ہے)- مسنداحمد : 125:2، سنن الترمزی کتاب النذور والأیمان، باب ماجاء  أن من حلف بغیر اللّٰہ فقد أشرک حدیث: (1535۔ أبوداؤد کتاب الإیمان والنزور،باب فی کراھیۃ الحلف بالأ باء حدیث :3251 ، - صحیح - -۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

’’جوشخص قسم اٹھاناچاہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے یا خاموش رہے ‘‘۔ - -بخاری ومسلم-  - -صحیح البخاري، کتاب الأیمان والنذور، باب لاتحلفو ا بائکم حدیث:  (6646: صحیح مسلم کتاب الإیمان، باب النھی عن الحلف بغیراللّٰہ تعالیٰ حدیث : 1646 -

اس مفہوم کی بہت سی احادیث موجود ہیں۔

(ملاحظہ )  مذکورہ بالا ’’شرکِ اَصغر ‘‘ کی اقسام ہیں۔ جب کہ یہی چیزیں کرنے والے کی نیّت کے لحاظ سے شرک اکبر بھی بن سکتی ہیں۔مثلاً اگر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  شیخ بدوی یا کسی بزرگ کی قسم اٹھاتے ہوئے دل میں یہ ہوکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرح ہے یا اسے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاکر دعاکرے یا یہ نظریہ رکھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ کائنات میں تصرّف کرتاہے تو یہ نظریہ شرک اکبر ہوجائے گا۔ البتہ اگر غیر اللہ کی قسم اٹھانے والا یہ نیّت نہ کرے بلکہ غیر ارادی طور سے عادتاً اس کی زبان پر یہ الفاظ آجائیں تو یہ ’’شرکِ اَصغر ‘‘ ہوگا۔

شرک کی ایک اور قسم بھی ہے۔ اسے ’’شرک خفی ‘‘ کہتے ہیں۔ اہل علم نے اسے تیسری قسم قراردیا ہے۔ اس کی دلیل میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ’’کیا میں تمہیں دجّال سے بھی زیادہ خطرناک چیز نہ بتائو ں؟ صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  بتائیں، تو آپ نے فرمایا :’’وہ ہے شرکِ خفی ‘‘ کہ آدمی نمازپڑھتے ہوئے اس وجہ سے زیادہ خشوع وخضوع کرے کہ کوئی شخص اسے دیکھ رہا ہے‘‘۔ - مسند احمد، 30/3، حدیث: 11252، سنن ابن ماجہ،  حدیث:  4204، حسن- -

دراصل یہ تیسری قسم نہیں ہے بلکہ یہ ’’شرک اصغر ‘‘ میں سے ہے جو کبھی کبھی مخفی بھی ہوتاہے کیونکہ یہ دل ہی دل میں رہتاہے جیساکہ حدیث میں بیان ہواہے۔ ریاکاری کیلئے تلاوت کرنا ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرنا، ریاکاری کے لئے جہاد کرنا وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔

ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کے لحاظ سے اس کا شرعی حکم مخفی ہو جیساکہ ابن عباس کی مذکورہ بالا حدیث میں اس کی کچھ اقسام ذکر ہوئی ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مخفی ہو جب کہ ’شرک اکبر ‘‘ میں سے ہو۔ جیساکہ منافق بظاہر تو عمل کرتے ہیں لیکن ان کے باطن میں کفر ہوتاہے جسے وہ ظاہر نہیں کرتے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{إِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ یُخَادِعُوْنَ اللّٰہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ وَاِذَا قَامُوْا إِلیٰ الصَّلاَۃِ قَامُوْا کُسَالیٰ یُرَاؤُوْنَ النَّاسَ وَلاَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ إِلاَّ قَلِیْلاً مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذَالِکَ لَا إِلیٰ ہٰـؤُلاَئِ وَلَا إِلیٰ ہـٰـؤُلاَئِ } - -النسائ:۱۴۱ـ۳۴۱-

’’منافق ، اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جب کہ وہ انہیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ سست ہوکر کھڑے ہوتے ہیں وہ لوگوں کو دکھلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا بہت کم ذکر کرتے ہیں۔ وہ درمیان میں اٹکے ہوئے ہیں نہ وہ اِن کی طرف ہیں اور نہ اُن کی طرف ‘‘۔

ان کا کفر اور ان کی ریاکاری بہت سی آیات میں بیان ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔آمین

گذشتہ وضاحت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شرک خفی بیان کردہ دوقسموں (شرکِ اکبر ؍ شرکِ اصغر) سے خارج نہیں ہے۔ اگر چہ اسے شرکِ خفی کانام دے دیاجائے کیونکہ شرکِ خفی بھی ہوتاہے اور جلی بھی۔

شرکِ جَلی :

مردوں سے دعائیں اور فریادیں اور ان کیلئے نذر ونیاز وغیرہ شرک ِجلی ہے۔

شرک خفی :

لوگوں کے ساتھ نما ز پڑھنے والے ،اور روزہ رکھنے والے منافقوں کے دلوں کا شرکِ خفی ہے۔ کیونکہ یہ باطن میں کافر ہوتے ہیں۔ بتوں کی عبادت کو جائز سمجھتے ہیں اور مشرکوں کے دین پر قائم ہوتے ہیں۔ یہ ’’شرک ِاکبر ‘‘ ہے۔ البتہ یہ دلوں میں پوشیدہ ہوتاہے۔

اسی طرح ’’شرِک خفی ‘‘ اصغر بھی ہوتاہے۔مثلاً کوئی شخص تلاوت اور صدقہ وغیرہ کے ذریعے لوگوں کی تعریف کا خواہاں ہوتو یہ شرکِ خفی ہے لیکن شرکِ اصغر ہے۔

لہٰذا شرک کی دوہی قسمیں ہیں۔ایک شرکِ اکبر اور دوسری شرکِ اصغر۔ اور یہ دونوں خفی بھی ہوتے ہیں۔ مثلا منافقین کا شرک جوکہ شراکِ اکبر ہے اور ریاکاری کے لئے نماز، صدقہ اور دعاکرنے والے کاشرکِ، شرکِ اصغر اور خفی ہے۔

ہر صاحب ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس سے بچے اور ان تمام اقسام سے دور رہے۔ بالخصوص شرک اکبر سے بچے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نافرمانی اور مخلوق کے ہاتھوں ہونے والہ سب سے بڑاجرم ہے۔ اسی کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے :

{وَلَوْ أَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} - -الانعام:۸۸-

’’اگر وہ انبیاء شرک کرتے تو ان کے عمل بھی باطل ہوجاتے ‘‘۔

اسی کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے :

{إِنَّہُ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃُ وَمَاوَاہُ النَّارُ } - -المائدۃ:72-

’’جوشخص بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتاہے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنّت کو حرام کردیا ہے اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے ‘‘۔

نیز فرمایا:

{إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ ماَدُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَائُ}- -النسائ:۶۱۱-

’’ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو معاف نہیں کرتا اور اس کے علاوہ جسے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے‘‘۔

جوشخص اسی حالت میں فوت ہوجاتاہے وہ یقینا دوزخیوں میں سے ہوتاہے۔ اس کے لئے جنّت حرام ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے۔

شرک اصغر بھی کبیرہ گناہوں میں سے سر فہرست ہے۔ اور اس کا مرتکب بڑے خطرے میں ہے۔ تاہم نیکیوں کے غالب آجانے کے باعث اسے معاف کیا جاسکتاہے۔ جیساکہ ممکن ہے اسے کچھ نہ کچھ سزا بھی ہو ،البتہ کافروں کی طرح دائمی دوزخی نہیں ہے کیونکہ اس سے نہ تو عمل ضائع ہوتے ہیں اور نہ ہی انسان دوزخ کا ہمیشہ کے لئے مستوجب ہوتاہے۔ وہ عمل ضائع ہوجاتاہے جس کے ساتھ ملاکر اسے کیا گیا ہو۔ مثلاً جوشخص لوگوں کو دکھلانے کے لئے نماز پڑھتاہے اسے کوئی ثواب نہیں ہوتابلکہ اسے گناہ ہوتاہے۔ ریاکاری کی تلاوت کی بھی یہی حیثیّت ہے۔ جب کہ شرک اکبر اور کفر اکبر دونوں تمام اعمال ضائع کردیتے ہیں۔جیساکہ ارشادباری تعالیٰ ہے :

{وَلَوْ أَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ }- -الانعام:۷۷-

’’اگر وہ انبیاء شرک کرتے تو ان کے عمل ضائع ہوجاتے ‘‘۔

تمام مسلمان مردوزن اور علماء وطلباء سب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کی طرف خصوصی توجّہ دیں توحید اور اس کی أقسام میں بصیرت حاصل کریں۔اسی طرح شرک اور اس کی دونوں قسموں۔اصغر واکبر۔ سے آگاہی حاصل کریں۔تاکہ اگر کوئی شخص شرکِ اکبر کا مرتکب ہوتو وہ اس سے سچّی توبہ کرے۔ توحید کاالتزام کرے اور اس پر کاربندرہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے حقوق ادا کرتارہے۔ فرائض کی ادائیگی ، ممنوعہ کاموں کو ترک کرنا توحید کے حقو ق میں سے ہے۔ توحید کے ساتھ ساتھ فرائض کی ادائیگی اور ممنوع کاموں سے اجتناب ضروری ہے۔ اسی طرح چھوٹے اور بڑے ہرقسم کے شرک کو ترک کرنا بھی از حدّ ضروری ہے۔

شرک اکبر توحید کی ضدّ ہے۔یہ اسلام کے بالکل منافی ہے۔ جب کہ شرکِ اصغر کمالِ اسلام کے منافی ہے لہٰذا دونوں کو چھوڑنا ضروری ہے۔

ہم سب کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے اور اسے اچھّی طر ح سمجھ لینا چاہئے اور پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کرنا چاہئے تاکہ ہر مسلمان کے پاس ان عظیم باتوں کا مدلّل علم موجود ہو۔

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles