Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوا ل: توحید کی کیا تعریف ہے اور اس کی اقسام کون کون سی ہیں؟

 

جواب: لفظ ’’توحید ‘‘وَحَّدَیُوَحِّدُسے مصدر ہے۔ اس کا معنی ہے کسی کو منفرد قراردینا۔ اور یہ کام نفی واثبات دونوں کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ یعنی جسے منفرد قراردیا جارہا ہے اس کے علاوہ تمام چیزوں سے ایک بات کی نفی کی جائے پھر وہ بات اس اکیلے کے لئے ثابت کی جائے۔ بالفاظ دیگر یوں کہیں کہ کسی شخص کی توحید کی تکمیل اس طرح ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے علاوہ تمام مخلوقات سے ’’الوہیت ‘‘ کی نفی کرکے پھر اللہ اکیلے کے لئے اس کے ہونے کا اقرار کرے۔

دونوں چیزوں کی ضرورت اس لئے ہے کہ حرف نفی کا مطلب ہے ایک چیز کا سرے سے نہ ہونا اور حرف اِثبات کے ذریعے دوسروں کی شراکت ختم نہیں ہوسکتی۔ مثلاً اگر ہم کہیں کہ  ’’وہ شخص کھڑا ہے ‘‘ تو اس کے ایک شخص کا کھڑا ہونا تو ثابت ہوگیا لیکن اس کا اس کام میں منفرد ہونا ثابت نہیں ہوا۔ اسی طرح اگر آپ کہیں کہ ’’کوئی شخص کھڑا نہیں ہے ‘‘تو یہ حرف نفی ہے اس سے کسی کے لئے بھی کھڑا ہونا ثابت نہیں ہوا ان دونوں کی بجائے اگر آپ یوں کہیں کہ ’’زید کے علاوہ کوئی بھی کھڑانہیں ہوا‘‘ تو اس سے آپ نے زید کے قیام کو منفرد قرار دیاہے اور اس کے علاوہ افراد سے اس کی نفی کردی ہے۔

حقیقی توحید بھی یہی ہے کہ اس میں نفی بھی ہو اور اثبات بھی۔

جہاں تک اقسام ِتوحید کا تعلق ہے تو یہ تمام کی تمام توحید کی اس عمومی تعریف کے ضمن میں آگئی ہیں کہ ’’اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو اس کی خصوصیّات میں منفرد ماننا‘‘ علماء نے اس کی تین اقسام بیان کی ہیں :

۔ ۱            توحید ِربوبیّت

۔ ۲           توحید ِالوہیّت

۔ ۳            توحیدِ اَسماء وصفات

 

آیات واحادیث میں غور وفکر کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ توحید ان تین اقسام سے خارج نہیں ہے۔

 

پہلی قسم : توحیدِ ربوبیّت:

اس کامطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تخلیق ، حکمرانی اور تصرّف میں منفرد ماننا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ :

۔۱   صرف اللہ تعالیٰ کو خالق ماننا اور یہ نظریہ رکھتاکہ اس کے علاوہ کوئی بھی خالق نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے

{ہَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰہِ یَرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَائِ وَالأرْضِ لاَ إِلٰہَ إِلاَ ہُوَ } - -فاطر:- 3

’’کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان وزمین سے رزق دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی حقیقی معبود نہیں ہے ‘‘۔

کفّار کے معبودوں کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

{أَفَمَنْ یَّخْلُقُ کَمَنْ لّاْیَخْلُقُ أَفَلَاْ تَذَکَّرُوْنَ} - -النحل:- 17

’’کیا بھلا جو پیدا کرتاہے وہ اس کی مانند ہے جو پید انہیں کرتا۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ‘‘۔

لہٰذا اللہ تعالیٰ اکیلا ہی خالق ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اس کا ضابطہ تقدیر بنایا ہے۔ اس کی تخلیق میں اس کے اپنے کام بھی آتے ہیں اور اس کی مخلوقات کے کام بھی۔ تقدیر پرایمان لانے کی تکمیل اس بات پر ایمان لانے میں ہے کہ بندوں کے کاموں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَاتَعْمَلُوْنَ}- الصَّفَّت : 96- -

’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی پیدا فرمایا ہے اور تمہارے عملوں کو بھی ‘‘۔

اور یوں اس لئے ہے کہ بندے کے عمل اس کے اوصاف ہیں جب کہ بندہ اللہ تعالیٰ کا پیداکردہ ہے اور جو کسی چیز کا خالق ہو وہ اس کے اوصاف کابھی خالق قرار پائے گا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ بندے کے عملوں کابھی خالق ہے۔ نیز اس لئے بھی کہ بندے کے عمل پختہ ارادہ اور قوّت کاملہ کا نتیجہ ہوتے ہیں جبکہ ارادہ اور قوت دونوں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہیں۔ سبب کا خالق مسبّب کا بھی خالق ہوتاہے لہٰذا بندے کے عمل بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔

اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ تخلیق میں منفرد کیسے ہے جب کہ غیر اللہ کے لئے بھی عمل تخلیق ثابت ہے اس کی دلیل یہ آیت قرآنی ہے :

{فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ } - -المومنون:- 14

’’اللہ تعالیٰ بابرکت ہے جو تمام خالقوں میں سے بہترین ہے ‘‘۔

اسی طرح نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مصوّروں کے متعلق فرمایا :

’’یُقَالُ لَہُمْ أَحْیُوا مَاخَلَقْتُمْ‘‘۔

’’انہیں کہا جائے گا جنہیں تم نے تخلیق کیا تھا انہیں زندگی بھی دو ‘‘۔ - صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی واللّٰہ خلقکم وما تعلمون۔حدیث: 7558- -

اس کا جواب یہ ہے کہ غیر اللہ کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی طرح نہیں ہے کہ وہ معدوم کو موجود میں تبدیل کردے یا مردہ کو زندہ کردے۔ غیر اللہ کی تخلیق کادائرہ توصرف اس حدّتک ہے کہ کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کردے۔ مصوّر ہی کو لے لیں جب وہ کسی پرندے یا اونٹ کی تصویر تیار کرتاہے تو وہ کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ ایک چیز کو دوسری چیز میں تبدیل کردیتاہے۔ مثلاً مٹی کو پرندے یا اونٹ کی شکل دے دیتاہے۔ اسی طرح وہ رنگ بھر کر سفید سطح کو رنگین صورت میں بدل دیتاہے۔ روشنائی اور کاغذ اللہ عزوجل کی مخلوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور انسان کی تخلیق میں یہی فرق وامتیاز ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ اس تخلیق میں منفرد ہے جو اس کے ساتھ مخصوص ہے۔

ب   توحید ربوبّیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسے ملکیّت میں منفرد مانا جائے۔ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی مالک ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ٍٔ قَدِیْرٌ } - -الملک:۱-

’’وہ ذات سراپا برکت ہے جس کے ہاتھ میں پورے جہاں کی بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘‘۔

اسی طرح فرمایا:

{قُلْ مَنْ بِّیَدِہٖ مَلَکُوْتِ کُلِّ شَیْ ٍٔ وَہُوَ یُجِیْرُ وَلاَ یُجَارُ عَلَیْہِ } - -المؤمنون:88-

’’آپ کہہ دیں کہ تمام چیزوں کی ملکیّت کس کے ہاتھ میں ہے وہ پناہ دیتاہے اور اس کی مرضی کے خلاف کسی کو پناہ نہیں ملتی ‘‘۔

لہٰذ ا مالک مطلق اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ دوسری چیزوں کی طرف ملکیّت کی نسبت اضافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی طرف ملکیّت کو منسوب کیا ہے اور فرمایاہے :

{أَوْ مَامَلَکْتُمْ مَفَاتِحَہُ } - -النور:- 61

’’یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے ‘‘۔

اور فرمایا:

{إِلاَّ عَلیٰ أَزْوَاجِہِمْ أَوْ مَامَلَکَتْ أَیْماَنُہُمْ } - -المومنون:- 6

’’البتہ ان کی بیویاں اور لونڈیاں اس سے مستثنی ہیں ‘‘۔

اس کے علاوہ بھی قرآن وحدیث میں بہت سی ایسی عبارات موجود ہیں جو غیر اللہ کے لئے ملکیّت کی نشان دہی کرتی ہیں۔ لیکن یہ ملکیّت اللہ تعالیٰ کی ملکیّت کی مانند نہیں ہے کیونکہ انسان تو محدوداور مشروط مالک ہے۔ زید اکا گھر عمر و کی ملکیّت نہیں ہے۔اور جو عمروکا گھر ہے وہ زید کی ملکیت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں اس ملکیّت میں وہ صرف اتنا تصرف کرسکتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مال ودولت کو ضائع کرنے سے منع فرمایا اور باری تعالیٰ نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہہ :

{وََلَا تُؤْتُوْا السُّفَہَائَ اَمْوَالکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیَاماً} - -النسائ:- 5

’’تم اپنا مال ودولت بے وقوفوں کو نہ دو۔ اسے اللہ تعالیٰ نے تمہار ی زندگی کا سامان بنا رکھاہے‘‘۔

یہ فرمان اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسان کی ملکیّت محدو د اورمشروط ہے جب کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ملکیّت مطلق اور لامحدود ہے وہ جو چاہتاہے کرتاہے اس سے اس کے فعل کے متعلق پوچھا نہیں جاسکتاہے جب کہ انہیں پوچھا جائے گا۔

ج: توحید ربوبیّت کا تیسرا پہلو تصرّف واختیار ہے۔ اللہ عزوجل تصرّف واختیار میں بھی منفرد ہے۔ وہ تمام مخلوقات اور آسمان وزمین تصرف کرتاہے جب کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ } - -الاعراف:- 54

’’لوگو! اسی کی مخلوق ہے اور اسی کا قانون۔اللہ رب العالمین بابر کت ہے ‘‘۔

یہ تصرف لامحدود ہے اس کے سامنے کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

دوسری قسم :توحید الوہیّت :

اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کو عبادت کا واحد مستحقّ سمجھنا، یعنی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی نہ توعبادت کرے اور نہ تقرّب ہی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ توحید کی یہ وہ قسم ہے جس کے بارے میں مشرک گمراہ ہوگئے جس کے نتیجے میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے جہاد کیا، ان کے مال دودولت ، ان کے گھربار پر قابض ہونا جائز قرار دیا، ان کی عورتوںاور ان کے بچوں کو قیدی بھی بنایا۔ اس توحید کا پیغام دے کر انبیاء کو مبعوث کیا گیا اور یہی توحید اپنی دواور قسموں، توحید ربوبیّت اور توحید اسماء وصفات کے ساتـھ کتب الٰہیہ میں بیان کی گئی۔ اس توحید الوہیت کو انبیاء علیہم السلام نے اپنی اپنی قو م کے سامنے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ،کہ کوئی انسان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علاوہ کسی بھی چیز کی عبادت نہ کرے۔ وہ مقرّب فرشتہ ہویا مبعوث کیاگیا رسول ، وہ ولی اللہ ہو یا کوئی اور مخلوق۔ کیونکہ اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرنا کسی صورت بھی درست نہیں ہے۔ جس شخص کی اس توحید میں خلل پیداہوگیا وہ توحید ربوبیّت اور توحید اسماء وصفات کااقرار کیوں نہ کرتارہے ، وہ مشرک بھی ہے اور کافر بھی۔

اگر کوئی شخص یہ ایمان رکھتاہو کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی خالق ومالک ہے وہی ہر قسم کے تصرّف کا اختیار رکھتاہے اور وہی تمام اسماء وصفات کا مستحق ہے اس کے ساتھ ساتھ عبادت بھی کرتاہو تو اسے توحید ربوبیّت اور توحید اسماء وصفات کچھ بھی فائدہ نہیں دے گی۔ بالفرض اگر کوئی شخص توحید ربوبیّت اور توحید اسماء وصفات کا مکمل اقرار کرے لیکن کسی قبر پر جاکر قبروالے کی عبادت بھی کرے یا اس کے لئے نذ ر ونیاز مانے تو وہ مشرک اور کافر ہے، دوزخ میں ہمیشہ رہے گا۔ اس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

{إِنَّہُ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَماَ لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ} - -المائدۃ:- 72

’’بات یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنّت کو حرام کردیاہے۔ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں (یعنی مشرکوں ) کا کوئی مددگار نہیں ہے‘‘۔

قرآن مجید کو پڑھنے والے ہر شخص کو یہ چیز معلوم ہے کہ جن مشرکوں سے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیاتھا،جن کے جان ومال کو حلال قرار دیا تھا اور جن کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا تھا اور جائیداد پرقبضہ کرلیاتھا وہ سب یہ اقرار کرتے تھے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پروردگار اور خالق ہے۔ اس میں وہ کسی قسم کا شک نہیں کرتے تھے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اوروں کی بھی عبادت کرتے تھے اس لئے وہ مشرک قرار پائے اور ان کا جان ومال حلال قرار دیاگیا۔

 

تیسری قسم : توحیدِ اسماء وصفات

اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدّس میںیا زبان نبوّ  ت کے ذریعے جو بھی اپنے نام بتلائے ہیں اور جن صفات کے ساتھ خود کو متّصف قرار دیا ہے ان میں اسے منفرد سمجھاجائے۔ اس میںنہ تو کسی قسم کی تشبیہ سے کام لیا جائے نہ ہی ان الفاظ کی تحریف کی جائے ، نہ ہی بے معنی قرار دیا جائے اور نہ ہی ان کی کیفیت بیان کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جوبھی اپنے نام بتلائے ہیں یا جن صفات سے بھی خود کو موصوف قراردیا ہے اسے حقیقی  معنوں میں لیا جائے ان کا مجازی معنی نہ کیا جائے لیکن حقیقی معنی میں بھی کیفیّت بیان کرنے یا تشبیہ دینے سے گریز کیا جائے۔

توحید کی اس قسم کے بارے میں بہت سے گروہ جو اسلام ہی کی طرف منسوب ہیں مختلف طریقوں سے گمراہی کاشکار ہوگئے ہیں۔

ان میں سے کچھ نے صفات الٰہیہ کی نفی میں اسلام سے خارج کردینے والے غُلوّ سے کام لیا ہے۔ کچھ ان میں متوسّط ہیں، جب کہ کچھ دیگر اہل سنّت کے نزدیک ہیں۔ اس توحید سے متعلق سلف کا طریق کار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کوان تمام اسماء وصفات سے موسوم کیا جائے جو اس نے خود اپنے لئے ذکر کئے ہیں اور انہیں حقیقی معنوں پر محمول کیا جائے جس میں نہ تحریف ہو اور نہ ہی تعطیل اور نہ ہی تکییف ہو اور نہ تمثیل لیجئے ایک مثال سے اس کی وضاحت کئے دیتے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنانام ’’الحی+

‘‘ اور ’’القیّوم ‘‘ رکھا ہے۔ہمارے لئے اس بات پر ایمان لاناضروری ہے کہ ’’الحیّ‘‘ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اسی طرح اس کے معنی پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ وہ حیات کاملہ کے ساتھ موصوف ہے۔ ایسی حیات جس سے پہلے عدم نہیں تھااور نہ ہی اسے فنا درپیش ہوگا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنا نام ’’سمیع ‘‘ رکھاہے ہمیں اس بات پر ایمان لانا ہوگا کہ ’’سمیع‘‘ اللہ تعالیٰ کے ناموں سے ایک نام ہے اور ’’سماعت‘‘ اس کی صفت ہے لہٰذا وہ سنتاہے اور یہ اس لئے کہ اس اسم اور اس صفت کا یہ تقاضا ہے کیونکہ سماعت کے بغیر ’’سمیع‘‘ ہونا یا بالفاظ دیگر مسموع کے ادراک کے بغیر سماعت ایک ناممکن چیز ہے۔ اسی طرح باقی صفات کی صورت حال ہے۔

ایک دوسری مثال میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

{وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ یَدُ اللّٰہِ مَغْلُوْلَۃٌ غُلَّتْ أَیْدِیْہِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ یَدَاہُ مَبْسُوْطَتَانِ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَائُ } - -المائدۃ:- 64

’’یہود یوںنے کہا کہ اللہ کا ہاتھ جکڑا ہواہے، ان کی اس بات کی وجہ سے ان کے ہاتھ جکڑ دیئے گئے اور وہ ملعون ہوگئے، بلکہ اس کے تودونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جیسے چاہتاہے خرچ کرتاہے ‘‘۔

تویہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’بل یداہ مبسوطتان ‘‘ (بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں) یعنی اس نے اپنے لیے دو ہاتھوں کا ذکر بیان کیا ہے۔ جوعطاء وانعام کے باعث فراخ ہیں۔ہمیں نہ تو ان کا تصوّر دل میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے اور نہ ہی زبان کے ذریعے ان کی کیفیّت بیان کرنی چاہئے اور نہ مخلوقات کے ہاتھوں کے ساتھ انہیں تشبیہ دینی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

{لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْ ٌٔ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} - -الشوریٰ:- 11

’’اس جیسی کوئی بھی چیز نہیں ہے اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے ‘‘۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے :

{قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَاظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَاناً وَأَنْ تَقُوْلُوْا عَلیَ اللّٰہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ} - -الأعراف:- 33

’’آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر وباطن فحش کام ، گناہ اور ناحق بغاوت اور اللہ تعالیٰ کے ساتـھ ایسی چیزوں کوشریک بنانا جس کی اس نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور اس کے ذمّے ایسی بات لگانا جسے تم جانتے نہیں ہو سب حرام قرار دیا ہے ‘‘۔

اسی طرح ارشاد فرمایا :

{وَلاَتقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُوْلٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلاً} - -بنی اسرائیل:- 36

’’جس چیز کا آپ کو علم نہیں ہے اس کے پیچھے نہ پڑیں۔ کان ،آنکھ اور دل سب اس بات کے ذمہ دار ہیں ‘‘۔

جوشخص مذکورہ آیات میں ذکر کردہ ’’ہاتھوں کو مخلوقات کے ہم شکل قرار دیتاہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو جھٹلاتاہے {لیس کمثلہ شیٔ } ’’اس جیسی کوئی بھی چیز نہیں ہے ‘‘۔ اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی نافرمانی کرتاہے۔

{فلا تضربوا للہ الأمثال } ’’تم اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو ‘‘۔ - -النحل:- 74

جوشخص دونوں ہاتھوں کی کسی قسم کی کیفیّت بیان کرتاہے وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق نہ جانتے ہوئے بات کہتاہے اور نامعلوم چیز کے پیچھے لگتاہے۔

صفات کے متعلق ایک دوسری مثال  ملاحظہ ہو:اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے متعلق سات جگہ بیان فرمایاہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے اور تمام جگہوں میں ’’استوی ‘‘ (مستوی ہوا )اور ’’علی العرش ‘‘ (عرش کے اوپر ) کے الفاظ ذکر کئے ہیں۔ اگر عربی لغت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو ’’استوی ‘‘ کے بعد ’’علی ‘‘ استعمال کرنے سے اس کا معنی رفعت اور بلندی بنتاہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’الرحمن علی العرش استوی‘‘ اور دیگر ارشادات کامعنی یہ بنتاہے کہ وہ اپنے عرش پر اپنے مخصوص انداز میں چڑھا، جوتمام کائنات کے چڑھنے کے انداز سے مختلف ہے۔ یہ ’’عُلُوّ‘‘(چڑھنا) اللہ تعالیٰ کے لئے ایک طے شدہ حقیقت ہے۔ وہ اپنے عرش پراپنے شایان شان مستوی ہے جسے انسان کے چارپائی پربیٹھنے ، سواری پر چڑھنے یا کشتی وغیرہ پر سوار ہونے سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ نے خودبھی قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :

{وَجَعَلَ لَکُمْ مِنَ الْفُلْکِ وَالْا َٔنْعَامِ مَاتَرْکَبُوْنَ لِتَسْتَوُوْا عَلیٰ ظُہُوْرِہ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا إِلیٰ رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ} - -الزخرف:- 15-13

’’اس نے تمہارے لئے سوار ہونے کے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے ہیں تاکہ تم ان کی پشتوں پر مُستَوِی (سوار) ہوجائو ، پھر جب تم مُستَوِی ہو جاؤ تو تم اپنے ربّ کا انعام یاد کرتے ہوئے کہو : وہ ذات پاک ہے جس نے اسے ہمار ے لیے مطیع بنایا۔ ہم اسے مطیع نہیں کرسکتے تھے اور ہم اپنے ربّ کی طرف ہر صورت واپس جانے والے ہیں ‘‘۔

یہ ناممکن ہے کہ مخلوقات کا کسی چیز پر مُستَوِی ہونا اللہ تعالیٰ کے عرش پرمُستَوِی ہونے کی طرح ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مانند کوئی بھی چیز نہیں ہے۔

جولوگ ’’اِسْتَویٰ عَلَی الْعَرْشِ ‘‘ کا معنی ’’اِسْتَولٰی عَلَی الْعَرْشِ‘‘ (اس نے عرش پر قدرت پائی ) کرتے ہیں وہ بھی بڑی غلطی پر ہیں۔ کیونکہ یہ الفاظ باری تعالیٰ کی صفات میںتحریف بھی ہے اور ان صحابہ کرام اور تابعین رحمہم اللہ کے اجماع کے خلاف بھی ہے بلکہ۔ یہ ایسی قباحتوں پر منتج ہوتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ کے بار ے میں کسی مومن کی زبان سے صادرہونا ناممکن ہے۔ یہ بات شک سے بالا تر ہے کہ قرآ ن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{إِنَّاجَعَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّالَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ } - -الزخرف:- 3

’’ہم نے اسے عربی قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھ سکو‘‘

اور عربی زبان میں ’’اِسْتَویٰ عَلٰی کَذَا ‘‘ (اس پر مستوی ہوا) عبارت کا معنی بلند ہونا اور قرار حاصل کرنا ہے بلکہ یہ اس لفظ کا برجستہ معنی ہے جولفظ کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا ’’اِسْتَویٰ عَلَی الْعَرْشِ ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے شان شایان انداز میں بلندی حاصل کی۔جیسے اس کے جلا ل اور وعظمت کے لائق ہے لیکن اگر ’’استوائ‘‘ کی تفسیر ’’استیلاء ‘‘ (قدرت پانا، غلبہ حاصل کرنا ) کے ساتھ کی جائے تو یہ دوسری تحریف ہے کیونکہ اس سے لغت قرآن کے مطابق بننے والے معنی ’’رفعت وبلندی ‘‘کی نفی ہے اور ایک دوسرے غلط معنی کا اثبات ہے۔

علاوہ ازیں سلف صالحین اور ان کے متّبعین نے اس معنی پر اتفاق رائے کیا ہے۔ان سے اس کی تفسیر کے بارہ میں اس کے خلاف ایک لفظ بھی ثابت نہیں ہے۔ اگر کتاب وسنّت کے کسی لفظ کے ظاہر ی معنی کے خلاف سلف صالحین کی تفسیر ثابت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اسے ظاہری معنی پر چھوڑتے ہوئے اس کے ظاہری مدلول ہی کا نظریہ ختیار کیا ہے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا سلف صالحین سے ’’اِسْتَویٰ‘‘کی تفسیر ’’عَلَاْ‘‘ کے ساتھ کرنا صراحۃً ثابت ہے ؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ سلف صالحین سے ثابت ہے۔ بالفرض اگر یہ ان سے صریحاً ثابت نہ بھی ہو توبھی ضابطہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث کے الفا ظ انہی معانی پر محمول ہوں گے جن کا تقاضا عربی لغت نے کیا ہے۔ اس لحاظ سے  یہ مدلولات سلف صالحین سے ثابت ہوں گئے۔

’’اِستِوَا ئ‘‘ کامعنی ’’اِستِیلَاء ‘‘ (حکومت کرنا ،قدر ت پانا ،غلبہ حاصل کرنا ) مراد لینے سے مندرجہ ذیل قباحتیں لازم آتی ہیں۔

۔۱   آسمان وزمین کی تخلیق سے پہلے عرش اللہ تعالیٰ کے زیر نگیں نہیں تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایاہے:

{إِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَویٰ عَلَی الْعَرْشِ } - -الاعراف:- 54

’’تمہارا پروردگار وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے آسمان وزمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر مُستَوِی ہوا ‘‘۔

گویا کہ آسمان وزمین کی تخلیق سے پہلے اور ان کی تخلیق کے وقت عرش پر اللہ تعالیٰ کی حکومت نہیں تھی۔

۔۲  دوسری قباحت یہ لازم آتی ہے کہ اس طرح کہنا درست ہے کہ ’’إنَّ اللّٰہَ اسْتَوٰی عَلَی الأَرْضِ ‘‘ ،اِسْتَوٰی عَلٰی أَیِّ شَیٍٔ مَنْ مَخْلُوْقَاتِہٖ ‘‘ (اللہ تعالیٰ نے زمین پر قدرت حاصل کی ،اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی مخلوق پر قدر ت حاصل کی ) حالانکہ یہ بات بلاشک وشبہ غلط ہے اور اللہ عزوجل کے شایان شان نہیں ہے۔

۔۳  تیسری قباحت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے الفاظ کی تحریف کا پہلو پایا جاتاہے۔

۔۴  چوـتھی خرابی یہ ہے کہ یہ سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع کے خلاف ہے۔

مختصر یہ ہے کہ توحید اسماء وصفات کے سلسلہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے متعلق وارد اسماء وصفات کو جو اس نے خود اپنے متعلق بیان کئے ہیں یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان فرمائے ہیں حقیقی معنوں میں ماننا ہوں گے جس میں تحریف ،تعطیل ،تکییف یا تمثیل قطعاً نہ ہو (۱)۔

- -فتاویٰ ابن عثیمین :- 1/17-25

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles