Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال : کیا قرآنی آیات اور دیگر وظائف کے تعویذ لکھ کر گلے میں لٹکانا شرک ہے یا نہیں؟

 

جواب: نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ :

’’دم کرنا، تعویذات اورشرک ہیں ‘‘۔ -- رواہ احمد، 381/1، حدیث:3615،سنن أبو داود، کتاب الطب، باب فی تعلیق التمائم۔حدیث: 3883-- (صحیح)،سنن ابن ماجہ، کتاب الطب، باب تعلیق التمائم۔حدیث: 3530-- (صحیح)

 

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا :

 

’’جوشخص تعویذ لٹکاتاہے اللہ کرے اس کا کام پورا نہ ہو ……‘‘۔- مسندأحمد، 155/4 ، حدیث: 17404-- -- صححہ ابن حبان (6086) والحاکم  216/4، قال شعیب حسن وھذا اسناد ضعیف-- -- أبو یعلی 108/2، مسند عقبۃ بن عامر الجہنی۔حدیث: 1759--

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں : اس نے شرک کیا ‘‘۔ رواہ احمد 156/4، حدیث: 17422--  صححہ الحاکم 219/4، قال شعیب اسنادہ قوی۔ اس مفہوم کی بہت سی احادیث موجودہیں۔

 

تعویذات بچوں وغیرہ کولٹکائے جاتے ہیں تاکہ انہیں نظر نہ لگ جائے انہیں جنوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھاجائے۔کچھ لوگ انہیں ’’        ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ انہیں ’’             ‘‘ بھی کہا جاتاہے۔ یہ دوطرح کے ہوتے ہیں۔ ایک و ہ جو شیطانوں کے ناموں ،ہڈیوں ،         ، کیلوں یاطلمسات وغیرہ سے تیارکئے جاتے ہیں۔ اور یہ جداجدا حروف ہوتے ہیں۔ اس قسم کے تعویذ بلاشک وشبہ ناجائز اور حرام ہیں۔ ان کے حرام ہونے کے بہت سے دلائل موجود ہیں۔ مذکورہ بالا اور ان کے ہم معنی احادیث کی بناپر یہ شرک ِأصغر میں سے ہیں۔ اگرلٹکانے والا ان کے متعلّق یہ عقیدہ رکھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر اس کی حفاظت کرتے ہیں اس کی بیماری کو ہٹاتے ہیں یا تکلیف دورکرتے ہیں تو یہ شرکِ اکبر ہے۔

دوسری قسم کے تعویذات وہ ہیں جوقرآنی آیات، مسنون دعائوں اور وظائف میں سے بناکر لٹکائے جائیں۔ ان کے متعلّق علماء کی آراء مختلف ہیں۔ کچھ علماء نے انہیں جائز دَم کے ساتھ شامل کرتے ہوئے جائزکہا ہے۔ جب کہ کچھ دیگر علماء نے ان سے منع کیاہے اورکہا ہے کہ یہ حرام ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی دودلیلیں ہیں۔ پہلی دلیل تو وہ احادیث ہیں جن میں تعویذات کولٹکانے سے ممانعت بیان ہوئی ہے اور انہیں شرک کہاگیا ہے۔ ان کے نزدیک تعویذ کی کوئی بھی قسم اس میں سے دلیل کے بغیر مستثنی نہیں ہوسکتی۔اور ایسی کوئی دلیل موجودنہیں ہے۔

جہاں تک دَموں کاتعلّق ہے تو جو دم قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کے ذریعے ہوں ان میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ بھی قابلِ فہم زبان میں ہوں اور دم کروانے والا ان پرا عتماد نہ کرے بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ یہ بھی ایک وسیلہ ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ :

’’دم کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ شرک نہ ہو ‘‘۔ -- صحیح مسلم، کتاب السّلام،باب لا بأس بالرّقی ما لم یکن فیہ شرک۔حدیث: -- 2200

نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے بھی دم کیا اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی د م کرتے رہے۔ نیز آپ  صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا ہے کہ :

’’نظرِ بد اور بخار کے علاوہ کسی چیز کا کوئی دم نہیں ہے ‘‘ -- سنن أبو داود، کتاب الطّبّ، باب فی تعلیق التّمائم۔حدیث: 3884--

اس سلسلہ میں اور بھی بہت سی احادیث موجودہیں۔

تعویذا ت میں سے کچھ کو استثناء کرنے کے لئے کوئی بھی حدیث موجود نہیں ہے، لہٰذا عام دلائل پر عمل پیراہونے کے لئے سب کو حرام کہنا پڑے گا۔

دوسری دلیل : یہ ہے کہ شرک کے راستوں کوبند کرنا ضروری ہے۔ ’’سَد الذَّرَائع‘‘ (خدشات ختم کرنے) کا ایک بنیادی اور مسلّم قاعدہ موجودہے۔ اوریہ بات طے شدہ ہے کہ اگرقرآنی آیات اور احادیث پرمشتمل تعویذات کو جائز قراردیں گے توشرک کا دروازہ کھل جائے گااور جائز تعویذ بھی ناجائز کے ساتھ مل جائیں گے۔ اورانتہائی مشکل کے بغیر ان میں تمیز نہیں ہوسکے گی لہٰذا یہ دروازہ بندکرنا اورشرک تک پہنچانے والے اس راستے کو ختم کرنا فرض ہے۔

دلیل کے واضح ہونے کے پیش نظر یہی نظریہ راجح ہے اورتوفیق تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے

 

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles