Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: وہ کون سا ضابطہ ہے جن کے ذریعے معلوم کیا جاسکے کہ یہ کام دین اسلام سے نکال کر کفر ونفاق تک پہنچادینے والے ہیں اور یہ کام کفرونفا ق تک نہیں پہنچاتے؟

 

جواب :  یہ بات ایک بہت بڑے اصول کے ذریعے واضح ہوجائے گی جو کتاب وسنّت سے ثابت ہے اور سلف نے اس پر اتفاق رائے کا اظہار کیاہے۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ لوگوں کی تین قسمیں ہیں :

ایک وہ لوگ جو مجسّمہ خیر وبھلائی ہیں ان میں شر کا پہلو نہیں ہے۔ دوسرے وہ جو اس کے بالکل برعکس ہیں۔ تیسرے وہ جن میں خیر بھی ہے اور شر بھی ، ایمان بھی ہے اور نفاق بھی، ایمان بھی ہے اور کفر بھی۔

ان سب کی پہچان ایمان کی حقیقت کو پہچاننے اور اس کے متضاد کفر ونفاق اور گناہ کی حقیقت کو پہچاننے پر موقوف۔ ہے اس طرح ان کی پہچان ان اوصاف کے ساتھ کسی شخص کے متّصف ہونے پر ہے۔

جہاں تک حقیقت ایمان کا تعلّق ہے تو اس سے مراد ہے ایمان کے ان تمام کلیّات وجزئیات پر یقین کرنا اور ان کا اقرار کرنا جن کا حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دے رکھاہے اور ظاہر وباطن میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا مطیع وفرماں بردار ہونا۔

(۱)

جب کوئی شخص کلیّاتِ ایمان کو اپنے اندر پیدا کرے گا اور اپنے دل اور بدن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا فرماں بردار ہوجائے گا تو وہ حقیقی معنوں میں مومن ہوگا جو مجسّمہ خیر ہے۔ اور اس کی سعادت وفلاح بھی کمال کو پہنچ جا ئے گی۔

(۲)

جب کوئی شخص دونوں میں سے ایک یا دونوں چیزوں کو چھوڑ دے تووہ دین اسلام سے نکل جانے والا کافر ہوجائے گا۔ کیونکہ یا تو وہ منافق ہوگاجو بظاہر ایمان دار ہوتاہے اورباطن میں کافر اور یاوہ اِعلانیہ کافر ہوگا۔

(۳)

جب کوئی شخص دین کے عقائد ونظریات تو اختیار کرے لیکن اس کے بیشتر واجبات کی ادائیگی سے محروم ہو اور اور محرّمات کا دلیری کے ساتھ ارتکاب کرتا ہو تو یہ ہے وہ شخص جس نے خیر وشرّ دونوں کو جمع کررکھا ہے۔ وہ ثواب کا بھی مستحقّ ہے اور سزا کا بھی مستوجب ہے۔ ان کا

موں میں سے کچھ کام ایسے ہیں جن کے کرنے والے کے متعلّق شریعت نے منافق یا منافق جیسا ہونے کی صراحت کردی ہے۔ مثلاً نماز اداکرنے میں سستی کرنا ، ریا کاری ، وعدہ خلافی ، کذب بیانی ، دھوکہ بازی اور عہد شکنی وغیرہ۔ یہ نفاق اَصغر ہے جوثواب سے مانع ہے اور سزا کا مُوجِب ہے اور یہ انسا ن کو کامِل ایمان سے نکال کر اس میں پائے جانے والے جرم کے مطابق منافقت کے ساتھ موصوف کردیتاہے تاہم اسے مُطلق ایمان سے نہیں نکالتا۔

یہی حیثیّت کفر اور شرک کی ہے۔ایک ہے شرکِ اکبر جیسے اللہ تعالیٰ کی تکذیب اور اس کے رسول کی تکذیب اور شرک فی العبادۃ یعنی انسان کسی قسم کی عبادت غیر اللہ کے لئے بجالانا شروع کردے۔ یہ دین سے خارج کردیتاہے۔

دوسراہے کفرِ اَصغراورشرکِ اَصغر جیسے مسلمانوں کی باہمی لڑائی ،نوحہ کرنا، حقیقی نسب سے بے زاری اور ریارکاری وغیرہ وہ کام جن کے لئے کفر وشرک کے الفاظ تو بولے گئے ہیں لیکن وہ دین سے خارج نہیں کرتے۔ یہ کفر وشرک کی شاخیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کسی شخص میں ایمان کی کچھ خوبیاں اور کفر ونفاق کے کام اکٹھے پائے جاسکتے ہیں۔ کتاب وسنّت نے بھی اس سے آگاہ کیا ہے اور امر واقعی بھی یہی ہے قرآن وحدیث میں اس بنیادی اصول کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔ واللہ اعلم۔ -

-فتاویٰ سعیدیہ :ص91-90

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles