Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: کیا کسی شخص کے لئے کسی عدد یا دن یا مہینے یا اس قسم کی کسی اور چیز سے نیک یا بد شگونی لینا جائز ہے؟

 

جواب : مسئولہ بالا کام ناجائز ہے۔ بلکہ دور جاہلیت کی شرکیہ عادات میں سے ہے۔ اسلام انہیں ختم کرنے اور انہیں باطل قرار دینے کے لئے آیا ہے۔ صریح دلائل سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یہ کام حرام اور شرک ہے۔ کسی کے نفع ونقصان کے ساتھ اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔کیونکہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دینے والا اور روکنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَإِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہُ إِلَّا ہُوَ وَإِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَارَادَّ لِفَضْلِہٖ } - -یونس:۷۰۱-

’’اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے علاوہ کوئی بھی اسے ہٹانے والا نہیں ہے اور اگر وہ آپ سے بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی بھی روکنے والا نہیں ہے ،،۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ :

’’اگر پوری امّت تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس کے علاوہ کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور (اگر )وہ تمہیں نقصان پہنچانے کے لئے اکٹھے ہوجائیں تو وہ تمہیں اس کے علاوہ کوئی نقصان نہیں دے سکتے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔قلم اٹھالئے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں ‘‘۔ - سنن ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء فی صفۃ أوا نی الحوض۔حدیث: 2516- -

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

- صحیح البخاری، کتاب الطب، باب الجذام۔حدیث: 5707- -- صحیح مسلم، حدیث: 2220- -

’’ صاحبِ شریعت نے پرندوں اور حدیث میں ذکر کردہ ان تمام چیزوں سے بد شگونی لینے کی نفی کردی ہے اور بتلادیا ہے کہ ان چیزوں کا وجود اور تأثیر نہیں ہے یہ تو محض توہمّات اور غلط خیالات ہیں جو دل میں پیدا ہوجاتے ہیں ’’ صَفَر کا کوئی اثر نہیں ہے‘‘۔ اس آپ کی مراد دور جاہلیت کے نظریئے کے مطابق ماہ صفر کو بدشگون قرار دیئے جانے کی نفی ہے ،وہ لوگ اسے مصائب کا مہینہ کہاکرتے تھے۔ آپ نے اس کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی نفی کردی اور بتلادیا کہ صَفَر بھی دوسرے مہینوں کی طرح ایک مہینہ ہے کسی قسم کے فائدہ ونقصان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اسی طرح باقی لیل ونہار اور اوقات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اہل جاہلیت بدھ کے دن کو بدشگون سمجھتے تھے۔ شوّال کے مہینے میںشادی کرنے کو خاص طور سے بدشگونی قرار دیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ماہ شوّال میں مجھ سے شادی کی مجھ سے زیادہ کون خوش قسمت ہے ‘‘۔- صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب استحباب التزوج والتزویج فی شوال واستحباب الدخول فیہ حدیث: 1423سنن ابن ماجہ، حدیث: 1990- -- مسند أحمد، 54/6، حدیث: 24271- -

رافضی دس کے عدد کو بدشگون سمجھتے ہیں اور اسے ناپسندیدہ قراردیتے ہیں۔اس کی وجہ جنّت کی خوش خبری پانے والے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کی دشمنی اور عداوت ہے اور یہ ان کی جہالت اور نادانی پر مبنی ہے۔ ’’منہاج السنّۃ‘‘ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

نجومی اوقات کو تقسیم کردیتے ہیں۔ ایک وقت کو سعادت مندی اور دوسرے کو بدبختی کاباعث قرار دیتے ہیں۔ جب کہ علم نجوم حرام ہے اور جادو کی اقسام میں سے ہے۔ اس سے متعلق گفتگو اپنے مقام پر تفصیل کے ساتھ موجودہے۔ یہ تمام نظریات اور عادات جاہلانہ ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ انہیں ختم کرنے کیلئے آئی ہے۔

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’بدفالی کا مطلب ہے کسی دیدہ وشنیدہ چیز کو باعث نحوست سمجھنا۔ جب کو ئی شخص اسے اختیار کرتے ہوئے سفر کرنے سے رک جائے یا عزم کے بعد کام سرانجام نہ دے تو اس نے شرک کے دروازے پر دستک دے دی بلکہ اس میں داخل ہوگیا اور اللہ تعالیٰ پر توکّل کرنے سے بے زار ہوگیا۔ اس نے اپنے لئے غیر اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنے ، اس سے ڈرنے اور دیکھی اور سنی جانے والی چیز سے نحوست لینے کا دروازہ کھول لیا یہی چیز ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ‘‘ کے مقام سے ہٹانے والی ہے۔

{فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِ }- -ھود :123 - ’’اس کی عبادت کر اس پر توکل کر‘‘{عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَإلَیْہِ اُنِیْبُ}- الشورٰی : 10- -

’’اسی پر میں نے توکّل کیا اور اسی کی طرف جھک گیا‘‘۔

اس طرح انسان اپنا دل عبادت اور توکّل میں غیر اللہ سے جوڑ کرلیتاہے اس کی دلی اور ایمانی کیفیّت دگرگوں ہوجاتی ہے اور وہ بدفالی کے تیروں کا نشانہ بن جاتاہے ،وہ اس پر ہر طرف سے برسنے لگ جاتے ہیں۔ شیطان بھی اس کے دین ودنیا کوخراب کرنے کے لئے اپنا کارندہ اس پر مقرر کردیتاہے کتنے ہی لوگ ہیں جو اس وجہ سے تباہ وبرباد ہوگئے اور دنیا اور آخرت کے خسارے میں مبتلا ہوگئے۔ بدفالی وبدشگونی کی حرمت کے بہت سے مشہور دلائل ہیں لیکن ہم گزشتہ دلائل ہی پر اکتفا کرتے ہیں۔- -فتاویٰ محمد بن ابراہیم آل شیخ ۸۶۱۔۶۶۱؍۱-

اسلام سے متصادم کام

فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے مسلمان ہونا فرض کیا ہے۔ اسلام پر عمل پیراہونا اور اس سے تضاد رکھنے والے امور سے بچنا ضروری قرار دیا ہے اور حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس کی طرف دعوت دینے کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ اللہ عزوجل نے اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ جوشخص اسلام کا پیروکار ہوگا وہی ہدایت یافتہ ہوگا اور جوشخص اس سے اعراض کرے گا وہ گم راہ ہوگا۔ اسی طرح بہت سی آیات قرآنی میں مُرتّدہوجانے کے اسباب اور دیگر انواع شرک وکفرسے بچنے کی ترغیب دی ہے۔

حضرات علماء نے ارتداد کے مضمون میں ذکر کیا ہے کہ بہت سے امور اسلام سے متصاد م ہیں۔ ایک مسلمان انہیں اپناکردائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے اس کا جان ومال مباح ہوجاتاہے۔ البتہ ان میں سے دس چیزیں زیادہ خطرناک اور کثیرالوقوع ہیں۔

امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ اور دیگر علماء کرام نے انہیں ذکر کیا ہے۔ ہم بھی انہیں مختصر طور پر آخر میں معمولی وضاحت کے ساتھ اس لئے ذکر کررہے ہیں کہ قاری خودبھی ان سے بچ سکے اور دیگر مسلمانوں کو بھی ان سے بچائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سلامتی اور عافیت کی امید رکھتے ہیں۔

اسلام سے خارج کردینے والے دس کام

۔1 عبادت میں شرک 

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{إِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَاء } - -النساء:116-

                           ’’اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے علاوہ جسے چاہے گابخش دے گا‘‘۔

 

نیز فرمایا:

{إِنَّہ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنْصَارٍ}- -المائدۃ:72

’’جوشخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتاہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنّت کو حرام کردیاہے۔ اس کا ٹھکانہ جہنّم ہے اور ظالموں کے کوئی مددگار نہیں ہوں گے‘‘۔

مُردوں سے دعاکرنا، ان سے فریاد کرنا اور ان کے لئے نذر ونیاز اور جانور ذبح کرنا بھی شرک ہے۔

 

۔2  اللہ تعالیٰ کے لئے وسیلہ مقررکرنا

اگر کوئی شخص اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطے بنالے ان سے دعا کرے ، ان سے سفارش طلب کرے اور ان پر توکّل کرے تو وہ بالاتفاق کافر ہے۔

 

۔3  مشرکوں کو کافر نہ سمجھنا

جوشخص مشرکوں کو کافر نہ سمجھے یاان کے کفر میں شک کرے یاان کے مذہب کو صحیح قرار دے وہ بھی کافر ہے۔

 

۔4  جس شخص کا نظریہ یہ ہو کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے علاوہ کسی دوسری شخصیّت کی سیرت زیادہ کامل ہے یا اس کا فیصلہ آپ کے فیصلے سے زیادہ بہتر ہے مثلاً کچھ لوگ طاغوت کے فیصلے کو آپ کے فیصلے پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ بھی کافر ہے۔

 

۔5  طریقِ نبوی سے نفرت کرنا

اگرکوئی شخص آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیش کردہ کسی تعلیم سے نفرت کرے تو وہ کفر کا مرتکب ہوتاہے خواہ اس پر عمل پیرا بھی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

{ذَالِکَ بَأَنَّہُمْ کَرِہُوْمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَہُمْ …}- -محمد:9

’’یہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ چیز کو برا سمجھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو اکارت کردیا ‘۔

 

۔6   دین اسلام کا مذاق اڑانا

اگر کوئی شخص رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لائے ہوئے دین یا آپ کی بیان کردہ جزاء وسزا کا مذاق اڑائے تو وہ بھی کافر ہے۔ اس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

{قُلْ أَبِاللّٰہِ وَآیاَتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُ وْنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ } - -التوبۃ:65-66

’’آپ کہہ دیں کیا تم اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات او راس کے رسول کا مذاق اڑایا کرتے تھے تم معذرت نہ کرو تم ایمان لانے کے بعدکافر ہوگئے ہو ‘‘۔

 

۔7  جادو کرنا

جوشخص جادوکرتاہے یا جادوکرنے کو پسند کرتاہے وہ کفر کا مُرتکب ہے۔اس کی دلیل یہ آیت ہے :

{وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلاَ إِنَّمَا نَحْنُ فَتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ} - -البقرۃ:102

’’وہ دونوں کسی بھی شخص کو (جادو) کی تعلیم دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ہم تو محض آزمائش ہیں تم کفر نہ کرو )‘‘۔

 

۔8  مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کا تعاون کرنا

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

{وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَاِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ} -المائدۃ:51

’’تم میں سے جو شخص بھی انہیں دوست بنائے گاوہ انہی میں سے قر ار پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔

 

۔9  جوشخص یہ نظریہ رکھے کہ کچھ لوگوں کے لئے حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت سے باہر رہنا جائز ہے وہ بھی کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الْا ٓخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ} - -آل عمران:85-

’’جوشخص اسلام کے علاوہ کسی دین کا متلاشی ہوتاہے وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہے ‘‘۔

 

۔10  دین اسلام کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے سے اِعراض کرنا

اس کی دلیل باری تعالیٰ کایہ فرمان ہے :

{وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِآیَاتِ رَبِّہٖ فَأَعْرَضَ عَنْہَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ}- -السجدۃ:22-

’’اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے پروردگار کی آیات کے ساتھ نصیحت کی گئی تو اس نے ان سے اعراض کرلیا۔ ہم ایسے مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں ‘‘۔

ان تمام متصادمات دین کوسنجیدگی سے اپنانے والا ، بطور مذاق اختیار کرنے والا اور خائف ہوکر اختیار کرنے والا سب برابر ہیں۔ البتہ مجبورشخص مستثنٰی ہے۔ یہ تمام کام انتہائی خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر الوقوع بھی ہیں۔ ہر مسلمان کو ان سے بچنا چاہئے اور خائف رہنا چاہئے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کے غضب کے باعث امور سے پناہ مانگتے ہیں۔

وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہِ مُحَمَّدٍ وَّآلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمْ۔

اس کے ساتھ ہی محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔

چوتھی قسم میں ایسے لوگ بھی داخل ہیں جو لوگوں کے بنائے ہوئے قواعد وضوابط کو اسلامی قانون سے بہتر یا اس کے برابر سمجھتے ہوں یا اسلام کو برتر سمجھتے ہوئے انہیں فیصل ماننا درست خیال کرتے ہوں۔ اس طرح جو شخص یہ نظریہ رکھے کہ اسلامی نظام کا نفاذ بیسویں صدی میں نہیں ہوسکتا یا یہ اس طرح مسلمانوں کی تنزّلی کاباعث ہے یا فرد اور خالق کے تعلّق کی حدتک محدود ہے اور اسے زندگی کے دیگر امور سے کوئی سرورکار نہیں ہے۔

اس چوـتھی قسم میں ایسے لوگ بھی داخل ہیں جویہ رائے رکھتے ہوں کہ چور کا ہاتھ کاٹنا یاشادی شدہ زانی کو سنگ سار کرنا عصر حاضر کے تقاضے کے خلا ف ہے۔ اس میں وہ تما م لوگ آتے ہیں جو اس نظریہ کے حامل ہوں کہ دنیوی معاملات اور حدود وغیرہ میں شریعت اسلامیہ کے علاوہ کسی اور قانون کو فیصل مانا جاسکتاہے۔ اگر چہ وہ اسے شریعت اسلامیہ سے برتر نہ بھی قرار دیتے ہوں۔کیونکہ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز کو حلال کرنے کا مرتکب ہواہے۔ دینِ اسلام کی جانی پہچانی حرام شدہ چیزوں کو مثلاً زنا کاری شراب نوشی اور سودخوری وغیرہ کو حلال سمجھنے والا اہل اسلام کی رائے میں بالاتفاق کافرہے۔

اللہ تعالیٰ سے ہماری دعاہے کہ وہ ہم سب کو اپنے پسندیدہ کاموں کی توفیق بخشے اور ہمیںاور باقی سب مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھے۔ وہ دعا کو قبول کرنے والا اور قریب ہے۔

وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہِ وَصَحْبِہِ۔

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles