سوال : شریعت اسلامیہ میں ریاکاری کاکیاحکم ہے؟
جواب: ریاکاری شر کِ اَصغر ہے۔کیونکہ ایسا کرنے والا شخص عبادت میں غیر اللہ کو شامل کرلیتاہے۔ کبھی کبھی ریا کاری شرکِ اکبر تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے شرکِ اَصغر کی مثال معمولی ریاکاری کے ساتھ دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ کثرت سے ریاکاری شرکِ اکبر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ـ:
{قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌمِّثْلُکُمْ یُوْحیٰ إِلَیَّ أَنَّمَا إِلٰہُکُمْ إِلٰـہٌ وَّاحِدٌ فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَائَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖ أَحَداً} - -الکہف:110
’’آپ کہہ دیں کہ میں تو محض تمہاری طرح بشر ہوں۔ میری طرف تو یہ وحی ہوتی ہے کہ تمہارا ایک ہی معبود ہے لہٰذا جوشخص اپنے ربّ کے سامنے پیشی کایقین رکھتاہے اسے نیک عمل کرنے چاہئیں اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں بنا نا چاہئے ‘‘۔
عمل صالح وہ ہوتاہے جودرست اور خالص ہو۔ خالص وہ ہوتاہے جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اور درست وہ ہوتاہے جواللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق ہو۔ لہٰذا جس کام سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو وہ صالح نہیں ہے۔ اسی طرح جو عمل اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق نہ ہو وہ بھی صالح نہیں ہے بلکہ وہ کرنے والے کی طرف واپس کردیا جاتاہے، وہ ناقابل قبول ہے - صحیح البخاری، فی کتاب الاعتصام، باب اذا اجتھد العامل أو الحاکم فأخطا خلاف الرّسول من غیر علم فحکمہ مردود۔- -۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
’’عمل کا دارومدار نیّت پر ہے ہر آدمی کو اس کی نیّت کے مطابق ثواب ملتاہے ……‘‘۔ - صحیح البخاری، کتاب الأیمان والنذور، باب النیّۃ فی الأیمان۔حدیث: 6689 ، وصحیح مسلم، حدیث: 1907- -
کچھ علماء نے ان دوحدیثوں کو تمام اعمال کی کسوٹی قراردیا ہے۔نیّت والی حدیث باطنی اعمال کی کسوٹی ہے اور دوسری حدیث ظاہری اعمال کی کسوٹی ہے ‘‘۔ -
-فتاویٰ بن عثیمین ۵۰۲ـ۔206؍۲-






