Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: کچھ لوگ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی قسم اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں ’’نبی اور تیری زندگی کی قسم ‘‘شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

 

جواب: کسی چیز کی قسم اٹھانے کا مطلب ہے اس کی عظمت کااظہار اور اس کی غلامی کااعتراف کرنا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی قسم اٹھانا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کافرمان ہے کہ :

’’جوشخص غیر اللہ کی قسم اٹھاتاہے وہ کفر یا شرک کا مُرتکب ہوتاہے‘‘۔- ترمذی حدیث : 1535- -

 

آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ :

’’ـتم اپنے با پ ، دادا کی قسم نہ اٹھایا کرو جسے قسم اٹھانا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے یا خاموش رہے ‘‘۔- صحیح مسلم حدیث : 3- -

 

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :

’’مجھے اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم اٹھانا غیر اللہ کی سچّی قسم اٹھانے سے بہتر لگتا ہے ‘‘۔

ایسا انہوں نے اس لئے کہا کہ غیر اللہ کی سچی قسم کا گناہ شرک ہے اور اللہ کی جھوٹی قسم کا گناہ جھوٹ بولنے کا گناہ ہے۔ اور شر ک کاگناہ جھوٹ بولنے کے گناہ سے بہت زیادہ ہو تاہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانا حرام اور شرک ہے البتہ یہ شرک اصغر ہے لیکن اگر غیر اللہ کی قسم اٹھانے والا اللہ عزوجل کی طرح ہی اس کی عظمت کا عقیدہ رکھتاہو جیساکہ قبر پرست لوگ کرتے ہیں جو عام طورسے مردوں ، قبروں میں دفن شدہ لوگوں اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی قسم اٹھاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرح یا اس سے بڑھ کر ان کی تعظیم بجالاتے ہیں، ان سے دعائیں کرتے ان سے امیدیں لگاتے اور خوف رکھتے ہیں تو یہ شرکِ اکبر ہے۔ لہٰذا اس کا انحصار قسم اٹھانے والے کی نیّت اور ارادے پر ہے۔ لیکن یہ بہر صورت شرکِ ہے۔ شرکِ اصغر ہویاشرک اکبر اور یہ انتہائی خطرناک اور کبیر گناہ ہے۔ غیر اللہ کی قسم اٹھانے والے مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ ہی کی قسم اٹھائے اس کے علاوہ کسی بھی چیز کی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی، کعبۃ اللہ کی ، کسی شخص کی زندگی کی یا حقّ وغیرہ کی قسم نہ اٹھائے۔ ان تمام قسموں سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے منع فرمایاہے۔

علاوہ ازیں یہ عقیدے میں کمی اور خلل پیدا کرنے والے کاموں میں سے ہے۔ اگر کسی کو غیر اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا جائے تو اسے نصیحت کی جائے اسے منع کیا جائے اور اس کے سامنے یہ وضاحت کردی جائے کہ ایسا کرنا شرک اور نا جائز ہے تاکہ باقی مسلمان اس گناہ سے آگاہ ہوجائیں اور وہ اسے ترک کردیں۔ -

-فتاویٰ نور علی الدّرب شیخ صالح بن فوزان ص12-13

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles