Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: غیر اللہ کی قسم اٹھانے اور قرآن مجید کی قسم اٹھانے کا کیا حکم ہے؟

 

جواب: اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے علاوہ کسی چیز کی قسم اٹھانا حرام ہے اور یہ شرک کی ایک قسم ہے۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے :

’’اپنے باپ دادا کی قسم نہ اٹھایا کرو۔ جو شخص قسم اٹھانا چاہے اسے اللہ ہی کی قسم اٹھانی چاہئے یا وہ خاموش رہے ‘‘۔- ترمذی ، حدیث 1535- -

 

اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے،’’ جس شخص نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اس نے شرک یا کفر کیا‘‘ (ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور حاکم نے صحیح) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ جو شخص یوں کہے ’’والات والعزی‘‘( مجھے لات وعزّی کی قسم ) اسے ’’لَا إلٰہَ إلاَ اللّٰہ ‘‘ کا اقرار کرنا چاہئے ‘‘ - صحیح ترمذی، کتاب النذور والإیمان، باب ما جاء فی کراھیۃ الحلف بغیر ملۃ الإسلام۔حدیث: 1545- -

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا اس بات کی طرف اشارہ کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانا شرک ہے اسے کلمہ اخلاص ’’  لَا إلٰہَ الَا اللّٰہ ‘‘ ہی صاف کرتاہے۔

لہذٰا کسی مسلمان کے لئے اللہ کو چھوڑکر کسی نبی ، کعبہ ،جبریل امین ،ولی ،بادشاہ ،شرف وعظمت ، قومیت اور قبیلے کی قسم اٹھانا حرام ہے اور غیر اللہ کی قسم یک گونہ شرک وکفر ہے۔

قرآن مجید کی قسم اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کاحقیقی کلام ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے معانی کو سمیت خودصادر فرمایا ہے۔ کلام کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کی قسم اللہ تعالیٰ کی صفت کی قسم ہے اور یہ جائز ہے۔

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles