سوال: کیاغیر اللہ کیلئے مثلاً کسی ولی کے لئے نذر ونیاز دینا اور جانور ذبح کرنا جائز ہے۔ کسی کے نا م پر صدقہ کرنا، سبیل حسین اور میّت کی خاطر اس کی وفات کے تیسرے،دسویں ، بیسویں اور چالیسویں دن یا چھ ماہ اور سال کے بعدکھانا کھلانے کا کیا حکم ہے؟
جواب : نذر ونیاز اورجانورذبح کرناایسی عبادت ہے جوصرف اللہ تعالیٰ کاحق ہے۔ اس میں سے کوئی چیز غیر اللہ کے لئے کرنا درست نہیں ہے۔ خواہ وہ مقر ّب فرشتہ یا نبی اور رسول ہی کیوں نہ ہو۔جوشخص غیراللہ کے نام پرنذرونیاز پیش کرتاہے یاجانورذبح کرتاہے وہ ایسے شرک کا مرتکب ہوتاہے جودائرہ اسلام سے خارج کردیتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{قُلْ إِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَاشَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ أُمِرْتُ} - -الانعام:163:162 -
’’آپ کہیں کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے ،مجھے یہی حکم ہوا ‘‘۔
نیز فرمایا:
{إِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَائُ }- -النسائ:۸۴-
’’اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہیں بخشے گا اور اس کے سوا جسے چاہے گا بخش دے گا‘‘۔
نیز فرمایا:
{وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنْصَارٍ} - -المائدۃ:72-
’’جوشخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتاہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنّت کو حرام کردیاہے۔ اس کاٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگارنہیں ہے ‘‘۔
حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ایک آدمی ایک مکھّی کی وجہ سے جنّت میں داخل ہوگیا اور ایک دوسرا آدمی ایک مکھّی کی وجہ سے دوزخ میں چلا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا: دو آدمی کسی قبیلے کے پاس سے گزرے، ان کا ایک بت تھا ،کوئی بھی شخص جب تک اس کے سامنے تقر ّب کے لئے کوئی نذرانہ پیش نہ کرے وہا ں سے گزر نہیں سکتاتھا۔اہل قبیلہ نے ایک آدمی سے کہا کوئی نذرونیاز پیش کرو۔ اس نے کہا کہ میرے پا س تقر ّب کے لئے پیش کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ایک مکھّی ہی بطور تقر ّب پیش کردو۔ اس نے مکھّی کانذرانہ دے دیا، انہوں نے اسے گزرنے کی اجازت دے دی۔ اس طرح وہ جہنم واصل ہوگیا۔ دوسر ے شخص سے انہوں نے کہا :
کوئی نذرانہ دو۔ اس نے کہا میں تو اللہ کے علاوہ کسی غیر اللہ کے لئے کچھ بھی پیش نہیں کروں گا۔ انہوںنے اس کی گردان اڑادی۔ لہٰذا وہ جنّت میں داخل ہو گیا‘‘۔ - شعب الإیمان للبیھقی(7343)فصل فی محقّرات الذنوب، باب فی القرابین والأمانۃ۔ أخرجہ الإمام احمد فی الزھد(84)من طریق الأعمش عن سلیمان بن میسرۃ عن طارق بن شھاب عن سلیمان۔- -
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار باتیں بتائی ہیں :
’’جوشخص غیر اللہ کے ذبح لئے جانورکرے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔
جوشخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔
جوشخص بدعت ایجاد کرنے والے کو پناہ دے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔
جوشخص زمین کی حد بندی تبدیل کرے اس پر اللہ کی لعنت ہے ‘‘۔
- صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب تحریم الذّبح لغیر اللّٰہ تعالٰی ولعن فاعلہٖ۔حدیث: 1978- -
تما م مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ غیر اللہ کے لئے نذر ونیاز جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مخلوق کیلئے ہے اور مخلوق کے لئے نذونیاز شرک ہے کیونکہ نذر ماننا ایک عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت ناجائز ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیّہ فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں کے لئے ،شمس وقمر اور قبروں کے لئے نذر ونیاز غیر اللہ کی قسم اٹھانے کے قائم مقا م ہے۔ غیر اللہ کی قسم اٹھانے والے کے لئے نہ تو قسم کو پورا کرنا ضروری ہے اور نہ ہی اس پر کفّار ہ عائد ہوتاہے۔غیر اللہ کو نذر ونیاز دینے والے کی بھی یہی حیثیّت ہے یہ دونوں شرک ہیں ‘‘۔
قبروں وغیرہ کے لئے نذر ماننے کے متعلق فرماتے ہیں کہ :
’’تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نذر نافرمانی اور جرم ہے۔ اسے پورا کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح قبروں پر بیٹھنے والے مجاوروں اور گدّی نشینوں کے لئے مال ودولت کی نذر ماننے کی بھی یہی حیثیّت ہے کیونکہ اس میں لات وعزّی اور مناۃ کے گدّی نشینوں کے ساتھ مشابہت ہے۔ یہ لوگ عوام کا مال ناحق طور سے کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور یہاں کے مجاوروں کی ان لوگوں کے ساتھ یک گونہ مشابہت ہے جن کے بارے میں حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام نے فرمایا تھا:
{مَاہٰذِہِ التَّمِاثِیْلُ الَّتِیْ أَنْتُمْ لَہَا عَاکِفُوْنَ} - -الانبیا:52 -
’’یہ مجسّمے کیسے ہیں جن کے سامنے تم پابند ہو کر بیٹھے ہو‘‘۔
یہ ان کے ساتھ بھی ملتے جلتے ہیں جن کے پاس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو گزارکرلے گئے تھے :
{وَجَاوَزْنَا بِبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَعْکُفُوْنَ عَلیٰ اَصْنَامٍ لَّہُمْ} - -الأعراف:138
’’ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر عبور کرادیا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس چلے آئے جو اپنے بتوں کے سامنے پابند ہوکر بیٹھے ہوئے تھے ‘‘۔
لہٰذا قبرستان اور دربار کے مجاوروں اور گدّی نشینوں کے لئے نذرونیاز ماننا گناہ ہے اور اس میں صلیبوں کے گدّی نشینوں اور ہندوستان کے مندروں کے مجاوروں کی نذر ونیاز کے ساتھ مشابہت ہے ‘‘۔
’’قُرّۃ عیون الموحدّین‘‘میں غیر اللہ کے نام نذر ونیاز کو شرک قرار دیئے جانے کی توجیہ بیان کرتے ہوئے مصنف فرماتے ہیں کہ ’’اس کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور نذرانہ پیش کرنے والا صر ف اسی سے اُمیدر کھتاہے کیونکہ اسے علم ہوتاہے کہ وہی کچھ ہوگا جو اللہ تعالیٰ چاہے گا اور جو نہیں چاہے گاوہ نہیں ہوگا جوکچھ وہ عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے وہ روک دے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ گویا توحیدِ ارادہ ہی توحید عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کے لئے مانی گئی نذر کو پورا کرنا ضروری ہوتاہے۔ جب عبادت کارخ غیر اللہ کی طرف کرلیاجائے تو وہ شرک بن جاتی ہے کیونکہ اس میں غیر اللہ سے اُمید اور غیر اللہ سے خوف کاپہلو آجاتاہے۔ ایسا کرنے والا عبادت میں کسی کو اللہ کاشریک بنالیتا ہے اور اس نے ’’ لَا اِلٰہَ إلَا اللّٰہ ‘‘ کہہ کر غیر اللہ کی اُلوہیّت کی جونفی کی تھی اسے ثابت کردیا ہے اور اخلاص پر قائم نہیں رہا ‘‘۔
- -فتاویٰ محمد بن ابراہیم آل شیخ 106108 :1






