Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال : دورِ نبوی کے مشرکین کے متعلق وضاحت فرمائی جائے کہ وہ کس قسم کے شرک میں مبتلا تھے؟

 

جواب : دورِنبوی کے مشرک ’’ربوبیّت ‘‘ میں تو شرک نہیں کرتے تھے۔قرآن مجید بتلاتاہے کہ وہ صرف عبادت میں شرک کیا کرتے تھے۔ جہاںتک ربوبیّت کاتعلّق ہے تو وہ بھی یہ ایمان رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی رب ہے ، وہی پریشان حال لوگوں کی دعا قبول کرتاہے اور وہی دکھ اور تکلیف ختم کرتاہے۔ اسی طرح دیگر کاموں کے بارے میں بھی ان کے اقرار کو خود اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایاہے۔

البتہ وہ عبادت میں شرک کرتے تھے یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخلوق کی بھی عبادت کرتے تھے۔ یہ شرک دین سے خارج کردیتاہے۔ کیونکہ توحید کامطلب ہی یہ ہے کہ کسی چیز کو تنہا سمجھنا۔ اللہ تعالیٰ کے کئی حقوق ہیں جن میں اسے یکتا سمجھنا ضروری ہے۔ اس کے حقوق کی تین قسمیں ہیں۔

 

۔۱  حقوقِ بادشاہت

۔۲  حقوقِ عبادت

۔۳  حقوقِ اسماء وصفات

یہی وجہ ہے کہ علماء نے توحید کو تین قسموں میں تقسیم کردیا ہے اور وہ ہیں توحید ربوبیت، توحید اسماء وصفات اور توحیدِ عبادت۔

توحیدِ ربوبیّت :

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تخلیق ، بادشاہت اور فیصلہ صادر کرنے میں یکتا سمجھنا جیسا ارشادباری تعالیٰ ہے :

{أَ لَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ} - -الأعراف:۴۵-

’’یہ جان لوکہ مخلوق بھی اسی کے ہے اور حکومت بھی اسی کی ‘‘۔

تخلیق اور فیصلہ صادر کرنے کا تعلّق ربوبیّت کے ساتھ ہے اور یہ اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہے۔ لہٰذا اللہ عزوجل کے علاوہ نہ کوئی خالق ہے اور نہ مالک اور نہ تصّرف کرنے والا ہے۔

توحیدِ اسماء وصفات:

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو اسماء وصفات میں اس طرح تنہا سمجھنا کہ جو بھی اسماء وصفات اس نے اپنے متعلق قرآن مجید میں یارسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے بیان کردیئے ہیں انہیں اسی انداز میں تسلیم کیا جائے جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مراد لئے ہیں اور جیسے اللہ عزوجل کی شان کے لائق ہیں۔ اس میں کسی کو اس کا مَثیل ونَظیر نہ سمجھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے مثیل ونظیر کا نظریہ رکھنا شرک ہے۔

توحید ِعبادت :

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت میں منفرد سمجھاجائے۔ خالصتاً اسی کا ہوکر اس کی عبادت کی جائے۔فرمان باری تعالیٰ ہے:

{قُلْ إِنِّیْ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْن} - -الزمر:11  -

’’آپ کہہ دیں کہ مجھے تو یہ حکم ہوا ہے کہ میں اللہ ہی کی بندگی کروں ، اسی کی خالص اطاعت کے ساتھ‘‘۔

مشرک شرک کی اسی قسم میں مبتلا تھے۔ وہ اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے :

{وَاعْبُدُوْ اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئاً}- -النسائ:۶۳-

’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ (یعنی اس کی عبادت میں ) کسی کوبھی شریک نہ بنائو ‘‘۔

نیز فرمایا:

{إِنَّہ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ} - -المائدۃ:72-

’’جوشخص بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے جنّت کو حرام کردیا ہے، اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالمین کے مددگار نہیں ہوں گے ‘‘۔

نیز فرمایا:

{إِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَائُ }  - -النساء:48

’’اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جسے چاہے گا بخش دے گا‘‘۔

نیز فرمایا:

{وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ إِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ } - -مومن:60-

’’آپ کے پروردگار نے فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کرو ں گا۔ جولوگ میری عبادت سے تکبّر کرتے ہیں وہ یقیناذلیل ہوکر دوزخ میں داخل ہوں گے ‘‘۔

 

سورہ اخلاص میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے :

{قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَ لَا أَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَاأَعْبُدُ وَ لَا أَنَا عَابِدٌ مَّاعَبَدْتُمْ وَ لَا أَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَا أَعْبُدُ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنٌ }- -الکافرون:۱ـ۶-

’’آپ کہہ دیجئے اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم کرتے ہو اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں کرتاہو اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والاہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہوجس کی میں کرتاہوں تمہارے لئے تمہارا دین ہے او رمیرے لئے میراد ین ‘‘۔

میں نے اسے سورۃ الاخلاص کہاہے۔ اس سے میری مراد عمل کو خالصتا ًاللہ تعالیٰ کے لئے کرنا ہے۔ اگر چہ اس سورت کو ’’سورۃ الکافرون ‘‘ کہتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ عملی اخلاص کی سورت ہے جیساکہ ’’سورۃ قل ہو اللہ احد ‘‘ علمی اور نظریاتی اخلاص کی سورت ہے۔ توفیق دینے والا اللہ تعالی ہی ہے۔

 

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles