سوال: یأجوج ومأجوج سے کون لوگ مراد ہیں؟
جواب : یأجوج اور مأجوج اولاد آدم میں سے پائی جانے والی دوقومیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ذو القرنین کے واقعے کے دوران فرمایا ہے
{حَتّٰی إِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْمًا لاَّ یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلاً قَالُوْا یاَ ذَاالْقَرْنَیْنِ أِنَّ یَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِیْ الْأَرْضِ فَہَلْ نَجْعَلْ لَّکَ خَرْجًا عَلیٰ أَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ سَدًّا قَالَ مَامَکَّنِّی فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَأَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ أَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ رَدْمًا 0 آتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ حَتّٰی اِذَا سَاٰویْ بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا حَتّٰی اِذَا جَعَلَہُ نَاراً قَالَ اٰتُوْنِیْ أُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْراً فَمَااسْطَاعُوْاأَنْ یَّظْہَرُوْہُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَہُ نَقْبًا0 قَالَ ہٰذَا رَحْمَۃٌ مِّنْ رَّبِیْ فَاِذَا جَائَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَہُ دَکَّآئَ وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّا 0 } - -الکہف:93-97
’’جب وہ دونوں پہاڑوں کے درمیان میںپہنچا تو ان دونوں کی ایک طرف ایسے لوگوں کودیکھا جو بات نہیں سمجھ سکتے تھے۔ وہ کہنے لگے اے ذو القرنین !یأجوج اور مأجوج زمین میں فساد پھیلارہے ہیں تو کیا ہم اس شر ط پر آپ کے لئے کچھ فنڈ جمع کریں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک رکاوٹ بنادیں۔ ذو القرنین نے کہا مجھے میرے مالک نے جو طاقت دے رکھی ہے وہ اسے بڑھ کرہے۔ تم محنت مزدوری سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط آڑ بنا دوں گا۔ تم مجھے لوہے کی پلیٹیں لادو۔ جب دونوں کناروں تک دیوار کو برابر کردیا تو کہا اب اس میں پھونکو یہاں تک کہ جب اسے آگ بنادیا تو کہا اب تانبا لے آئو میں اس پر انڈیل دوں گا۔ پھر ( جب وہ تیا ر ہوگئی ) تو نہ اس پر (یأجوج اور مأجوج ) چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کرسکے۔ ذو القرنین نے کہا کہ یہ میرے مالک کی مہربانی ہے۔ جب میرے مالک کا وعدہ آئے گا تو اسے گراکر صاف زمین کے برابر کردے گا۔ اور میرے مالک کا وعدہ سچا ہے ‘‘۔
اسی طرح فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ :
’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا۔ اے آدم ! کھڑے ہوکر اپنی اولاد میں سے دوزخ کی مخلوق کو اٹھائو …………………تم خوش ہوجائو۔ تم میں سے ایک شخص ہوگا اور یأجوج اور مأجوج میں سے ایک ہزار ہوں گے‘‘۔ - صحیح البخاری، کتاب حادیث الأنبیائ، باب قصّۃ یأجوج ومأ جوج۔حدیث: 3348صحیح مسلم، حدیث: 222- -- مسند احمد،(ج۔33/3،حدیث: 11284۔
ان کی آمد علاماتِ قیامت میں سے ہے۔اس کے ابتدائی حصّے دورنبوی میں دیکھے گئے ہیں۔
حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ایک دن رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراکر گھر سے نکلے، ان کا چہرہ سرخ تھا اور فرمانے لگے:
’’لَاإلٰہَ إلاَّ اللّٰہ عرب اس فتنے کے شرّکی تباہ ہوں گے جو نزدیک آچکا ہے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کا دائرہ بناکرفرمایا :آج یأجو ج ومأجوج کی دیوار اس کے برابر کھل گئی ہے ‘‘۔ - صحیح البخاری، کتاب أحادیث الأنبیائ، باب قصّۃ یأجوج ومأجوج۔حدیث: 3346صحیح مسلم، حدیث:2880- -
- -فتاویٰ ابن عثیمین :2-97






