Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: نجومی سے باتیں دریافت کرنا شریعت کی نظر میں کیسا ہے؟

 

جواب : نجومی سے باتیں دریافت کرنے کی تین صورتیں ہیں

۔۱  اس سے بات پوچھ کر اس کی تصدیق کرنا اور اس پر اعتماد کرنا۔ ایساکرنا حرام بلکہ کفر ہے۔ کیونکہ اس کی غیبی باتوں کی تصدیق کرنے سے قرآن مجید کی تکذیب ہوتی ہے۔

۔۲  یہ آزمانے کے لئے اس سے باتیں پوچھنا کہ وہ سچّاہے یا جھوٹا ہے۔ اس کی باتوں پر اعتماد مقصود نہ ہو۔ ایساکر نا جائز ہے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ابن صیّاد سے پوچھا تھاکہ :

’’میں نے تمہارے لئے ایک بات چھپارکھی ہے؟ ‘‘۔

پھر آپ نے اسے کہا تھا :

’’تو ذلیل ورسوا ہوجائے تو کبھی بھی اپنی حیثیّت سے تجاوز نہیں کرے گا‘‘۔- وصحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر ابن صیاد۔حدیث: 2924- -

آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی ذہن میں ایک بات رکھ کر اس سے اس لئے پوچھی تھی کہ اس کا امتحان لیں۔ اس کی بات کی تصدیق یا اس پر اعتماد کرنا مقصود نہیں تھا۔

۔۳  تیسری صورت یہ ہے کہ اس سے بات پوچھ کر اس کی بے بسی اور کذب بیانی کا اظہار کیا جائے۔ یہ تو شریعت کی منشاہے اور بعض دفعہ ایساکرنا فرض بھی ہوجاتاہے۔

 

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles