Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: کہانت کی شرعی حیثیّت کیا ہے اور کاہن کے پاس جانے کا شریعت اسلامیہ میں کیا حکم ہے؟

 

جواب: ’’کہانت‘‘ کالفظ ’’تکہّن‘‘ سے مأخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے ’’اٹکل لگانا ‘‘ اور ’’بے بنیاد طریقے سے کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرنا ‘‘۔

یہ دورِ جاہلیت میں کچھ لوگوں کاپیشہ تھا۔شیطان آسمانوں سے کوئی بات چپکے سے سن کر آجاتے اور ان لوگوں سے رابطہ کرکے انہیں بتادیتے یہ لوگ آسمان سے پہنچائی گئی ایک بات کے ساتھ اپنی طر ف سے کئی باتیں شامل کرکے عوام النّاس کو سناتے۔ اگر کوئی ایک آدھ واقعہ ان کی بتائی ہوئی باتوںکے مطابق پیش آجاتا تو عوام ان کے دھوکے میں آکر ان پر اس قدر اعتماد کرلیتے کہ وہ اپنے لڑائی جھگڑوں میں انہیںفیصل مان لیتے اور مستقبل میں پیش آمدہ امور معلوم کرنے کے لئے ان کی طرف رجوع کرتے۔ یوں کہہ لیں کہ ’’کاہن وہ ہوتاہے جو مستقبل کی غیبی باتیں بتلائے ‘‘۔

کاہن کی طرف رجوع کرنے والے لوگ تین طرح کے ہیں :

 

۔۱  کچھ لوگ کاہنوں کے پاس آکر ان سے باتیں پوچھتے ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کرتے۔ ایسے کرناحرام ہے۔ ایسے کرنے والوں کی نماز چالیس دن تک قبو ل نہیں ہوتی۔ جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ :

’’جوشخص غیبی خبریں بتانے والے کے پاس آتاہے اور اس سے کوئی بات دریافت کرتاہے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ‘‘۔ - صحیح مسلم، کتاب السّلام، باب تحریم الکھانۃ وإتیان الکُھّان۔حدیث: 2230- -

۔۲  دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جوکاہن کے پاس آکر کچھ باتیں دریافت کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ کام اللہ عزوجل کے ساتھ کفر (کے مترادف ) ہے۔ کیونکہ اس میں اس کے دعوائے علم غیب کی تصدیق ہے۔ کسی بشرکے دعوائے علم غیب کی تصدیق سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تکذیب ہوتی ہے۔

{قُلْ لاَّیَعْلَمُ مَنْ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَیْبَ إِلاَّ اللّٰہُ } - -النمل:۵۶-

’’آپ کہہ دیں کہ آسمان وزمین میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی غیب نہیں جانتا ‘‘۔

ایک صحیح حدیث میں آتاہے کہ جس شخص نے کسی کاہن کے پاس جاکر اس کی بات کی تصدیق کی وہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  پر اترنے والے دین کا کافر ہوگیا‘‘۔         - صحیح ابو داود، 39.4، کتاب الطّب، باب فی الکاہن۔بألفاظ م تقاربۃ۔- -

۔۳  تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جوکاہن کے پاس صرف اس لئے جاتے ہیں کہ لوگوں کو اس کی اصل صورت حال سے آگاہ کریں اور انہیں بتائیں کہ یہ محض اٹکل ،ملمّعہ سازی اور شعبدہ بازی ہے۔ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے خودنبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  ’’ابن صیّاد‘‘ کے پاس گئے تھے۔ اور آپ نے اپنے ذہن میں ایک بات رکھ کر اس سے پوچھا تھا کہ میں نے ذہن میں کیا بات سوچی ہے؟ اس نے کہا ’’دخ‘‘ اس سے اس کی مراد دـھواں تھا۔

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

’’تو ذلیل ورسوا ہوجائے توکبھی بھی اپنی حیثیّت سے نہیں بڑھ سکے گا‘‘ تویہ ہیں کاہن کے پاس جانے والے کی تین مختلف حالتیں :

 

۔۱  کاہن کے پاس جانا لیکن نہ اس کی باتوں کی تصدیق کرنا اور نہ ہی اس کی صورت حال سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی نیّت وارادہ کرنا۔ ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کی سزا یہ ہے کہ چالیس دن تک ایسے شخص کی نماز قبول نہیں ہوگی۔

۔۲  اس سے باتیںپوچھ کر ان کی تصدیق کرنا۔ ایسا کرنے سے آدمی کافر ہوجاتاہے لہٰذا اسے توبہ کرنا ہوگی۔ وگرنہ اس حالت کی موت کفر کی موت ہے۔

۔۳ اس کے پاس اس لئے جاناکہ اس کا امتحان لے کر لوگوں کو اصل صورت حال سے آگاہ کیا جائے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles