Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: جادو کی شریعت میں کیا حیثیّت ہے اور اسے سیکھنا کیسا ہے؟

 

جواب: علماء نے کہا ہے کہ سِحْر کا معنی ہے ’’ہر وہ چیز جو انتہائی دقیق ہو اور اس کا ذریعہ استعمال مخفی ہو ‘‘۔

وہ ایسے پُراَسرار طورسے اپنا اَثَر دکھا ئے کہ لوگوں کو پتہ نہ چل سکے۔ان معنوں میں علم نجوم بھی اس میں شامل ہے۔ بلکہ خطاب وتقریر کے ذریعے اثر انداز ہونا بھی اس میں شامل ہے چنانچہ حدیث نبوی ہے کہ :

’’بعض بیان جادو ہوتے ہیں ‘‘۔

لہٰذا جوبھی چیز پُر اَسرارطورسے اَثر اَنداز ہووہ جادو کہلا ئے گی۔

اصطلاح شریعت کے طور پر کچھ لوگوں نے جادوکی تعریف اس طرح کی ہے کہ :

’’وہ ایسے دَمْ او رگُر ہیں جو دل ودماغ اور جسم پر اَثر اَنداز ہوکر عقل کو سلب کردیں۔ محبت اور نفرت پیدا کرکے خاوند اور بیوی میں تفریق ڈال دیں اور جسم کو بیمار اورقوّت فکر کو ختم کردیں ‘‘۔

جادو سیکھنا حرام ہے۔بلکہ اگرشیطانوں کی شمولیت اس کا ذریعہء استعمال ہوتو یہ کفر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوْا الشَّیَاطِیْنُ عَلیٰ مُلْکِ سُلَیْمَانَ وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلٰـکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلیَ الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ ہُارُوْتَ وَمَارُوْتَ وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَا اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُرْ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَایُفَرِّقُوْنَ بِہْ  بَیْنَ الْمَرْئِ وَزَوْجِہٖ وَمَاہُمْ بِضَارِّیْنَ بِہٖ مِنْ أَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ وَیَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّہُمْ وَلَایَنْفَعُہُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرَاہُ مَالَہُ فِیْ الْا ٓخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ} - -البقرہ : 102 -

’’اور وہ ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جو سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے حالانکہ سلیمان نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں ہی نے کفر کیا۔ یہی لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔اور اس چیز میں پڑگئے جو بابل میں دو فرشتوں  ’ہاروت اور ماروت ‘  پر اتاری گئی تھی،  حالانکہ یہ کسی کو سکھاتے نہیں تھے جب تک اس کو خبردار نہ کر دیں کہ ہم تو بس آزمائش کے لئے ہیں تو تم کفر میں نہ پڑ جانا۔ پس یہ لوگ ان سے علم سیکھتے جس سے میاں اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال سکیں حالانکہ یہ اس کے ذریعے سے ، خداکی مشیّت کے بغیر ، کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں بن سکتے تھے ، اور یہ وہ چیز سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچائے ، نفع نہ پہنچائے حالانکہ ان کو پتہ تھا کہ جس نے اس چیز کو اختیار کیا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے‘‘۔

 

لہٰذا اس قسم کا جادو سیکھنا جو شیطانوں کی شراکت کے ذریعے ہو کفر ہے۔ اسے عمل میں لانا بھی کفر ، ظلم اور مخلوق باری تعالیٰ پر زیادتی ہے۔ کافر کو مرتدّ قراردیتے ہوئے یاشرعی حدّ کی بناپر قتل کر دیا جانا چاہئیے۔ اگر اس کا جادو ایسے انداز میں ہو کہ وہ کفر کا مُرتکب ہواہو تو اس کا قتل ارتداد ودرجہ ء کفر کی بنا پر ہوگا اور اگر اس کا جادو کفر تک نہ پہنچا تو اسے شرعی حدّکے طور پر قتل کیا جائے گأ تاکہ اس کاشرّ اور اس کی اَذیّت مسلمانوں سے ہٹادی جائے۔

 

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles