Posted in Fatawa Iman
سوال: اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کی سنّت کا مذاق اڑانے والے کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا کیا فیصلہ ہے؟
جواب : اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا ان کی سنّت مطہرہ کا مذاق کفر وارتداد کی حیثیّت رکھتاہے۔ ایسا کرنے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے
{وَلَئِنْ سَأَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِا اللّٰہِ وَآیَاتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِؤُوْنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ} - -التوبۃ:۶۶ـ ۵۶-
’’اگر آپ ان سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے ہم تو ہنسی مذاق کرتے ہیں۔ آپ کہیں کہ کیا تم اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کامذا ق اڑایاکرتے ہو تم بہانے نہ بنائو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو ‘‘۔
جوشخص بھی اللہ تعالیٰ کے یا اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا دین اسلام کا مذاق اڑاتاہے وہ کافر اور مرتدّہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہئیے۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کوقبول فرمائے گا۔
باری تعالیٰ نے ان مذاق اڑانے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:
{ لاَ تَعْتَذِرُوْا قَدْکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ إِنْ نَّعْفُ عَنْ طَائِفَۃٍ مِنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃً بِأَنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ‘‘۔ - -التوبۃ:۶۶-
’’تم بہانے نہ بنائوتم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو۔ اگر تمہارے ایک گروہ کو معاف کریں گے تو دوسرے گروہ کو عذاب میں مبتلا کریں گے کیونکہ وہ جرائم پیشہ تھے ‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ وہ ایک گروہ معاف بھی کر سکتا ہے اور یہ اس کفر سے توبہ ہی کے ذریعے ممکن ہے جس کا ارتکاب انہوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کی آیات کا مذاق اڑانے کے ذریعے کیا ہے۔






