Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال : ایک شخص نے غصے کے عالم میں دینِ اسلام کو گالی دی تو کیا اس پر کوئی کفّارہ عائد ہوگا۔نیز اس سے توبہ کاکیا طریقہ ہے۔ آیا ایسا کرنے سے اس کا نکاح ٹوٹ گیاہے؟

 

جواب : جوشخص دینِ اسلام کو گالی دیتاہے وہ کفر کا مُرتکب ہوتاہے۔ کیونکہ دین کو گالی دینااور اس کا مذاق اڑانا مُرتد ہوجانے اور اللہ عزوجل کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دین کا مذاق اڑانے والے کچھ لوگوں کی یہ بات نقل کی ہے کہ ’’ہم تو ہنسی ومذاق میں کیا کرتے تھے ‘‘پھر اس کا جواب یہ ذکر کیا ہے کہ ہنسی مذاق اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق ہے اور وہ ایسا کرنے کی بناپر کافر ہوگئے ہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{وَلَئِنْ سَأَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ إنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّٰہِ وَ آیَاتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِؤُوْنَ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ} - -التوبۃ:65-66

’’آگر آپ ان سے پوچھیں گے تو یہ کہیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق کیا کرتے تھے۔ آپ کہیں کیاتم اللہ تعالیٰ ،اس کی آیات اور اس کے

رسول کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ تم کوئی بہانہ نہ کرو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو ‘‘۔

لہٰذا اللہ تعالیٰ کے دین کا مذاق اڑانا یا دین کو گالی دینا اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینا یا ان کا مذاق اڑانا دائرہ اسلام سے خارج کردینے والا کفر ہے۔

تا ہم اس سے توبہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوْا عَلٰی أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ   یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْم} - -الزمر:۳۵-

’’آپ کہیں کہ اے اپنے اوپر زیادتی کرنے والے میرے بندو! تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجائو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر قسم کے گناہ کو بخش دیتاہے وہ تو بہت زیادہ بخشش والا از حدّ مہربان ہے ‘‘۔

 

اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کے ارتداد سے ایسی صحیح توبہ کرے جس میں پانچوں شرائط موجود ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتاہے۔ توبہ کی پانچ شرائط مندرجہ ذیل ہیں :

۔۱  توبہ محض اللہ کی خاطر ہو۔

اس کے پیچھے کسی قسم کی ریاکاری ،دکھلاوا،کسی شخص کا ڈریا دنیا وی لالچ اور طمع نہ ہو۔ اگر توبہ کی بنیاد محض اللہ کا ڈر ،اس کی سزا کا خوف اور اس کے ثواب کی امید ہوتو یہ مبنی براخلاص ہوگی۔

۔۲  جرم پر ندامت کا اظہار

دوسری شرط یہ ہے کہ اس شخص کو اپنے کئے کا غم اور اس پر ندامت اور شرمندگی ہو اور وہ اسے ایسا بارگراں سمجھے جس سے نجات حاصل کرنا اپنے لئے ضروری سمجھے۔

۔۳  اپنی غلطی کا اصرار نہ کرے بلکہ اسے چھوڑدے۔ اگر اس کا گناہ کسی فریضہ کو چھوڑنے کی شکل میں ہو تو اسے اداکرے اور ہر ممکن اس کی تلافی کرے اور اگر اس کا جرم کسی حرام کام کے ارتکاب کی شکل میں ہو تو اسے چھوڑدے اور اس سے دوررہے۔ اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے متعلق ہوتو ان کے حقوق انہیں اداکرے اور ان سے معافی مانگے۔

۔۴  مستقبل میں عدمِ ارتکاب کا عز م

سچّی تو بہ کی چوـتھی شرط یہ ہے کہ وہ مستقبل میں اس کام کو دوبارہ نہ کرنے کا عزم مصمم کرے یعنی اس کے دل میںیہ پختہ ارادہ ہو جس گناہ سے و ہ توبہ کررہا ہے دوبارہ اس کے نزدیک نہیں آئے گا۔

۔۵  توبہ کاوقت ہونا

پانچویںشرط یہ ہے کہ توبہ قبولیّت کے وقت میں ہو۔ اگروہ قبولیّت کا وقت ختم ہوجانے کے بعد ہوگی تووہ قبول نہیں ہوگی۔ توبہ کے وقت کے خاتمہ کی ایک شکل عام ہے اور ایک خاص۔ عام شکل یہ ہے کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہوجائے گا (یعنی قیامت برپا ہوجائے گی ) تو کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْکَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْراً } - الأنعام :158- -

’’جس دن آپ کے ربّ کی کچھ نشانیاں آجائیں گی کسی بھی ایسے شخص کیلئے ایمان لانا مفید نہیں ہوگا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا ایمان لانے کے بعد اس نے نیکی نہ کی ہوگی ‘‘۔

 

توبہ کے وقت کے خاتمہ کی خاص شکل آدمی کے فوت ہونے کا وقت ہے۔وفات کے وقت بھی کسی آدمی کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :

{وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَا اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قاَلَ إِنِّیْ تُبْتُ الْا ٓنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ } - -النسائ:۱۸-

’’ان لوگوں کے لیے کوئی توبہ نہیں ہے جو مسلسل برائیاں کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ کسی کو موت کا وقت آـتاہے تو وہ کہتاہے کہ اب میں نے توبہ کرلی اور نہ ہی ان لوگوں کی توبہ ہے جو حالتِ کفر میں مرجائیں ‘‘۔

اگر آدمی کسی بڑے سے بڑے گناہ مثلاً دین کو گالی دینے سے ہی توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجائے گی بشرطیکہ اس میں مذکورہ بالا شرائط موجود ہوں۔ تاہم یہ بات مخفی نہ رہے کہ کبھی ایسے بھی ہوتاہے کہ آدمی کی زبان سے نکلنے والا حکم تو حکم کفر ہوتاہے لیکن کسی مانع کی بناپر وہ آدمی کافر نہیں ہوتا۔

یہ آدمی جس نے اپنے بارے میں ذکر کیا ہے اس نے غصّے میں آکر مذہب کو گالی دی ہے اگر تو وہ اتنے شدید غصّے میں تھاکہ اسے منہ سے نکلنے والی بات کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا اور اس قدر حواس باختہ تھا کہ وہ دنیا ومافیہا سے بے خبر ہوگیا تھا اور جوبا ت اس نے کہی اب نہ تووہ اس کے ذہن میں آرہی ہے اور نہ ہی اسے معلوم ہے تو اس بات کی کو ئی حیثیّت نہیں ہے۔لہٰذا اسے مرتدّ نہیں کہا جاسکتاکیونکہ یہ ایک غیر ارادی گفتگو ہے۔ اور بلاارادہ ہونے والی گفتگو کا اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں فرمائیں گے۔ چنانچہ باری تعالیٰ نے قسموں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

{لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَیْمَانَ}                 - -المائدۃ:۹۸-

’’اللہ تعالیٰ تمہاری بے مقصد قسموں کا مواخذہ نہیں کرے گا بلکہ وہ تمہاری پختہ قسموں کا مواخذہ کرے گا‘‘۔

اگر شدید غصّے کے عالم میں بات کرنے والے اس شخص کو کوئی پتہ نہیں تھاکہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور جو کچھ کہہ رہا ہے اس کا کیا مطلب ہے تو اس کی بات پر کچھ بھی مرتّب نہیں ہوتا اسے مرتد نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اسی طرح جب اسے مرتد نہیں کہا جاسکتا تو اس کا اپنی بیوی سے نکاح بھی نہیں ٹوٹے گا۔ بلکہ وہ اس کے حُبالہء عَقْد میں رہے گی۔ آدمی کو چاہئیے کہ جب اسے غصّے کا احساس ہوتو وہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس پر قابو پانے کی کوشش کرے۔ حدیث میں آـتاہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایک آدمی نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! آپ مجھے کوئی خاص نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا:

’’غصہ نہ کیا کرو ‘‘۔ - صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب الحذرمن الغضب۔حدیث: 6116، سنن ترمذی، حدیث: 2020 - -اس نے بار بار یہی سوال دہرایا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا غصّہ نہ کیا کرو‘‘۔

لہٰذا اسے اپنے اوپر قابو پانا چاہئے اور شیطان رجیم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ اگر وہ کھڑا ہوتو بیٹھ جانا چاہئیے اگر بیٹھا ہوتو اسے لیٹ جانا چاہئیے۔ اگر غصّہ شدید ہوتو وضوکرلینا چاہئے۔ ان چیزوں سے غصہ ختم ہوجاتاہے۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جنہیں غصّے کے عالم میں کاروائی کرلینے کے بعد وقت ختم ہونے پر بہت زیادہ ندامت کاسامنا کرناپڑا۔ -

-فتاویٰ ابن عثیمین ۵۵۱؍۲۵۱؍۱-

 

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles