Posted in Fatawa Iman
سوا ل: کیا غیر اللہ سے محبت کرنا جائز ہے ؟ مجھے ایک معلمہ سکول میں پڑھاتی ہیں میں ان سے بہت متاثر ہوں اس کی کیا حیثیّت ہے؟ (سائلہ)
جواب: اگر تمہاری معلمہ صاحبِ ایمان ہے تو اس سے اللہ کی خاطر محبت کرو اور اگر وہ ایمان دا ر نہیں ہے تو کافروں اور منافقوں سے محبت کرنا جائز نہیں ہے۔ محبت صرف اہل ایمان سے کی جانی چاہئے جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
{إِنَّمَا الْمُوْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ}- -الحجرات :10-
’’اہل ایمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں ‘‘۔
نیز فرمایا:
{یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْیَہُوْدَ وَالنَّصَاریٰ أَوْلِیَائ} - -المائدۃ:51-
’’اے اہل ایمان ! تم یہود یوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بنائو ‘‘۔
اس سے مراد ایسی دوستی ہے جس میں ان سے محبت ، ان کی مدد ،ان کا دفاع اور ان کی مدح کا پہلو ہو ‘‘۔
{بَعْضُہُمْ اَوْلِیَائُ بَعْضٍ وَّمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِنْکُمْ فَاِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ الْقَوْم الظَّالِمِیْنَ}- -المائدۃ:51-
’’وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو شخص انہیں دوست بنائے گا وہ انہی میں سے قرار پائے گا یقینا اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔
اور فرمایا:
{إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُوْنَ، وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہُ وَرَسُوْلَہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغَالِبُوْنَ} - -المائدۃ:55-56
’’تمہارے دوست تو اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جونماز کی پابندی کرتے ہیں ، زکوٰۃ اداکرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والے ہیں۔ جوشخص اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور مومنوں کو دوست بنائے گا تو اللہ کاگروہ ہی غلبہ حاصل کرنے والا ہے ‘‘۔
نیز فرمایا:
{ یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَائَ تُلْقُوْنَ إِلَیْہِمْ باِلْمَوَدَّۃِ
وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَائَکُمْ مِنَ الْحَقِّ }- -الممتحنۃ:۱-
’’اے مومنو! تم میرے اوراپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو کہ تم ان کے سامنے دوستی کا دامن پھیلادو جب کہ وہ تمہارے پاس آنے والے حق کے منکر ہوچکے ہیں ‘‘۔
{تُسِرُّوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَیْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ وَمَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَائَ السَّبِیْل }- -الممتحنۃ:۱-
’’تم چھپ کر ان سے دوستی کرتے ہو حالانکہ میں تمہارے پوشیدہ اور ظاہرسب کاموں کو جانتاہوں۔ تم میں سے جوشخص بھی ایسا کرے گا وہ راہ راست سے بھٹک جائے گا‘‘۔
نیز فرمایا:
{ہَاأَنْتُمْ أَوْلآئِ تُحِبُّوْنَہُمْ وَ لَایُحِبُّوْنَکُمْ وَتُؤمِنُوْنَ بِالْکِتَابِ کُلِہِ وَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْا آمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ}- -آل عمران:119-
’’تم ہو کہ ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے ،جب کہ تم مکمل کتا ب پر ایمان رکھتے ہو۔ جب وہ تمہیں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب وہ تنہا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غصّے کی بنا پر انگلیاں کاٹتے ہیں ‘‘۔
نیز فرمایا:
{لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُّوْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْا ٓخِرِ یُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّاللّٰہ وَرَسُوْلَہُ وَلَوْکَانُوْا آبَائَ ہُمْ أَوْ أَبْنَائَ ہُمْ أَوْاِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیْرَتَہُمْ }- -المجادلۃ:۲۲-
’’آپ کو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پرایمان رکھنے والوں میں ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مخالفوں سے محبت کرتے ہوں خوا ہ وہ ان کے باپ ،بیٹے ، بھائی اور قریبی رشتہ ہی کیوں نہ ہوں ‘‘۔
لہٰذا صاحبِ ایمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں سے دوستی رکھے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی۔اس کو اللہ کی خاطر محبت اور اللہ کی خاطر نفرت کہتے ہیں اور یہ ایمان کے مضبوط ترین کڑی ہے۔ اور یہ دین اور عقیدہ اسلام کی اصولی باتو ں میں سے ہے۔ اللہ کی خاطر محبت اور اللہ کی خاطر نفرت ودشمنی ’’ لَا إلہَ إلا اللّٰہ ‘‘ کا بھی تقاضا ہے۔
علاوہ ازیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی سنّت ہے :
{قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ اِبْرَاہِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ إِنَّا بُرَآؤُ مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْناَ بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَائُ أَبَدًا حَتّٰی تُوْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَحْدَہُ } - -الممتحنۃ:۴-
’’تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے عمل بہترین نمونہ ہیں۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ان سے بیزارہیں۔ ہم نے تمہارا انکارکردیاہے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے دشمنی اور عداوت ہے، جب تک تم اللہ اکیلے پر ایمان نہیں لے آـتے ‘‘۔
نیز فرمایا:
{وَمَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ ِلأبِیْہِ إِلاَّ عَنْ مَّوْعِدۃٍ وَّعَدَہَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ أَنَّہُ عَدُوٌّللّٰہِ تَبَرَّأَ مِنْہُ إِنَّ اِبْرَاہِیْمَ لَا َٔوَّاہٌ حَلِیْمٌ } - -التوبۃ:114-
’’ابراہیم کااپنے باپ کے لئے استغفار محض اس سے کئے ہوئے ایک وعدے کی بنا پر تھا۔ جب ان کے سامنے یہ بات آشکارا ہوگئی کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اظہار کردیا۔ یقینا ابراہیم بہت زیاد ہ گریہ زاری کرنے والے ازحد بردبارتھے ‘‘۔
جس طرح ایک مسلمان کے لئے شرک سے بیزاری کا اظہار ضروری ہے اسی طرح اس کے لئے مشرکوں ، کافروں اور ملحدوں سے بے زاری بھی فرض ہے۔اسے مومنوں اور فرماں برداروں کو اپنا دوست بنا نا چاہئے خواہ ان سے دور کی رشتہ داری اور محلہ داری ہو۔ اور اہل کفر سے عداو ت رکھنی چاہئے خواہ قریب ترین رشتہ دار اور محلہ دارہوں۔ اسلام میں دوستی اور دشمنی کا یہی اصول ہے۔






