سوال : کیا اللہ تعالیٰ کی زیارت برحق ہے؟ اگر برحق ہے تو اس کی کیا دلیل ہے اور اگر اس میں اختلاف ہے تو راجح نظریہ کیاہے؟
جواب : اہل سنّت والجماعت کانظریہ یہ ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار برحق ہے۔ اس کا منکر کافر ہے قیامت کے دن بھی مومن اللہ تعالیٰ کی زیارت کریں گے اور جنت میں بھی جیسے وہ چاہے گااس کا دیدار ہوگا تمام اہل سنّت والجماعت اس پر متفق ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ إِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃ} - -القیامۃ:- 22/23
’’اس دن بہت سے چہرے خوش وخرم ہوں اپنے پروردگارکی طرف دیکھ رہے ہوں گے‘‘۔
اور فرمایا:
{لِلَّذِیْنَ أَحْسَنُوْا الْحُسْنیٰ وَزِیَادَۃٌ} - -یونس:- 26
’’ جو لوگ نیک عمل کرتے رہے ہوں گے ان کے لئے بہترین صلہ اور ایک اضافی انعام بھی ہوگا‘‘۔
اس اضافی انعام کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رخ انور کی زیارت ہے۔ علاوہ ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:
’’مومن قیامت کے روز اور جنّت میں اپنے پروردگار کی زیارت کریں گے‘‘۔ - صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب اثبات رؤیۃ المؤمنین فی الاٰخرۃ ربّہم سبحانہ وتعالٰی۔حدیث: 181- -
البتہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ لَا تُدْرِکْہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْا َٔبْصَارَ}- -الأنعام:- 103
’’نظریں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نظرو ں کا ادراک کرتاہے ‘‘۔
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایاتھا:
{لَنْ تَرَانِیْ } - -الأعراف:- 143
’ـ’تم مجھے کسی صورت نہیں دیکھ سکتے ‘‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’تم یہ جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی شخص اپنے پروردگار کو مرنے سے پہلے ہر گز نہیں دیکھے گا‘‘۔ - صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر ابن صیّاد۔حدیث: 169- -
اس کی وجہ یہ ہے کہ زیارت آنکھ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زیارت جنتیوں کو ملنے والا سب سے بڑا انعام ہے اور یہ دنیا نعمتوں کا گھر نہیں بلکہ یہ تو مصائب ، پریشانیوں ، دکھوں اور تکلیفوں کی جگہ ہے۔ اس لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا جاسکتا،آخرت میں مومن اسے دیکھیں گے۔
کافروں کو اس سے محروم رکھا جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{کَلاَّ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْن}- -المطففین:- 15
’’ہر گز نہیں بلکہ اس دن وہ اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے‘‘۔






