Posted in Fatawa Iman
سوال : کیا تمام پیغمبر علیہم السلام ایک ہی رتبے پر فائز ہیں؟
جواب: تما م پیغمبر علیہم السلام ایک ہی مرتبے میں نہیں ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
{تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ مِّنْہُمْ مَنْ کَلَّمَ اللّٰہُ وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجَاتٍ} - -البقرۃ:253-
’’ان رسولوں کو ہم نے ایک دوسرے پر برتری بخشی ہے ان میں وہ بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے اور اس نے کچھ کے درجے بلند کئے ہیں ‘‘۔
اور فرمایا:
{وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیِّیْنَ عَلیٰ بَعْض} - -بنی اسرائیل:55
’’ہم نے نبیوں کو ایک دوسرے پر فضیلت وبرتری عطا کی ہے ‘‘۔
ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام پیغمبروں کے متعلق یہ نظریہ رکھیں کہ وہ سب برحق اور سچّے ہیں۔ جو احکامات لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں وہ قابل تصدیق ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
{ قُوْلُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَیْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالاَسْبَاطِ وَمَا اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَا اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مَنْ رَّبِّھِمْ لاَنُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ}- البقرہ : 136- -
’’تم کہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور جو ہماری طرف اتاراگیا ہے اس پر بھی اور جو کچھ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ،یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاراگیا، اور اس چیز پر ایمان لائے جوموسیٰ اور عیسیٰ کو ملی اور جو دیگر نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے ملی اس پر بھی ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے‘‘۔
یہی راستہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مومنوں نے اختیار کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُوْمِنُوْنَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلاَ ئِکَتِہِ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ لَانُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُسُلِہٖ } - -البقرۃ:285-
’’رسول اس چیز پر ایمان لے آیا جو اس پر اس کے ربّ کی طرف سے نازل کی گئی ہے اور مومن بھی ، وہ سب اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر (یہ کہہ کر ) ایمان لے آئے کہ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے ‘‘۔
لہٰذا ہم کسی بھی رسول پر ایمان لانے ، اس کے سچّا ہونے اور اس کی رسالت کے برحق ہونے میں فرق نہیں کرتے۔ البتہ ہم دوچیزوں میں فرق کرتے ہیں
۔۱ ہم افضل ہونے میں فرق کرتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک دوسرے سے افضل قرار دیا ہے اور ان کے مختلف درجے بنائے ہیں ہم بھی انہیں ایک دوسرے سے افضل وبرتر سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم بطور فخر یا کسی کی تنقیص کے لئے کوئی لفظ زبان پر نہیں لاتے جس طرح صحیح بخاری میں ہے کہ ایک یہودی نے قسم اٹھائی اور یہ لفظ کہے :
’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو پوری انسانیت میں سے منتخب کیا ہے ‘‘۔- صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل موسی علیہ الصلاۃ والسلام۔حدیث: 2373- -
ایک انصاری نے جب یہ سنا تو اس کے منہ پر طمانچہ مارتے ہوئے کہا:
’’تم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے یہ بات کہہ رہے ہو ‘‘۔
وہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’میں ایک ذمّی ہو ں مجھ سے معاہدہ ہوچکاہے ، اس آدمی نے میرے منہ پر طمانچہ کیوں مارا ہے ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انصاری سے پوچھا ’’تم نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا‘‘ اس نے واقعہ ذکر کیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :
’’تم اللہ کے نبیوں کے درمیان افضلیت وبرتری ذکر نہ کیاکرو‘‘۔ - صحیح البخاری، کتاب احادیث الأنبیاء باب قول اللّٰہ تعالی {وان یونس لمن المرسلین}۔حدیث: 3414- -
اسی طرح صحیح بخاری ہی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اس طرح کہے کہ میں یونس بن متّی سے بہتر ہوں‘‘۔ - صحیح البخاری، کتاب احادیث الأنبیائ، باب وانّ یونس لمن المرسلین۔حدیث: 3416۔ صحیح مسلم حدیث: 2376- -
۔۲ ہم اتّباع میں بھی فرق کرتے ہیں۔ ہم صرف اسی کی اتباع کرتے ہیں جسے ہماری طرف مبعوث کیاگیا ہے اور وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت نے باقی تمام شریعتوں کو منسوخ کردیاہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَأَنْزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یََدَیْہِ مِنَ الْکِتَابِ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللّٰہُ وَلاَ تَتِّبِعُ أَہْوَائَہُمْ عَمَّا جَائَ کَ مِنَ الْحَقِّ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا}- -المائدۃ:48-
’’ہم نے آپ کی طرف کتاب کو حق کے ساتھ اتارا ہے۔ یہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی بھی ہے اور ان کی محافظ بھی۔ لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ حکم کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کریں اورجوسچی بات آپ کے پاس آئی ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کے پیچھے نہ لگیں ہم نے تم میں سے ہرایک کو ایک راہ اور شریعت دی ہے ‘‘۔






