Posted in Fatawa Iman
سوال :’’اسلام ‘‘ کی کیا تعریف ہے ،نیز اسلام اور ایمان میں کیافرق ہے ؟
جواب : ’’اسلام‘‘ کا ایک عام معنیٰ ہے اور وہ ہے پیغمبروں کی بعثت سے لے کر قیامت قائم ہونے تک ان کے ذریعے آمدہ شریعت پر عمل پیرا ہوکر اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالانا۔ اس میں وہ حق اور ہدایت بھی شامل ہے جسے حضرت نوح علیہ السّلام ،حضرت موسیٰ علیہ السّلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اور امام الحنفاء حضرت ابراہیم علیہ السّلام لے کر آئے اور اللہ عزوجل نے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں یہ ذکر کیا ہے کہ گزشتہ شریعتیں سب کی سب اسلام ہیں۔
اسی طرح ’’اسلام ‘‘ کا ایک خاص معنی ہے اور وہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ساتھ خاص ہے۔ کیونکہ جوشریعت دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایاگیا ہے اس نے سابقہ تمام مذاہب کو منسوخ کردیاہے۔ لہٰذا جو شخص آپ کا پیروکار ہے ،وہ مسلمان ہے اور جوآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتاہے وہ مسلمان نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کافرماں بردار نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے لہٰذا حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے دور میں یہودی مسلمان تھے، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے دور میں عیسائی مسلمان تھے، جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایاگیا اور ان میں سے جنہوں نے ان کا انکارکردیا و ہ مسلمان نہیں ہیں لہٰذا یہ عقیدہ درست نہیں ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا موجودہ دین صحیح اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول ہے اور دین ِاسلام کے برابر ہے بلکہ جو شخص یہ عقیدہ اپنائے ہوئے ہے وہ کافر ہے اور دین اسلا م سے خارج ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{إنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِ سْلَام} - آل عمران : 19- -
’’اللہ کے ہاں اصل دین اسلام ہے‘‘۔
{وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلاَم دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہ }- ال عمران : 85- -
’’جوشخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین اختیار کرے گا اس کی طرف سے (وہ دین )کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ‘‘۔
اس آیت میں جس ’’اسلام‘‘ کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کیا ہے یہ وہی اسلام ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت پر احسان فرمایاہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْإِسْلَام َ دِیْنًا}- -المائدۃ:- 3
’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کردیاہے اور اپنا انعام تمہارے اوپر مکمل کردیاہے اورتمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیاہے‘‘۔
یہ فرمان اس سلسلے میں بالکل واضح ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہونے کے بعد اس امّت کے علاوہ تمام لوگ اسلام پر قائم نہیں ہیں۔لہٰذا وہ جس طریقے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہے ہیں یہ ان کی طرف سے قبول نہیں ہوگااور نہ ہی قیامت کے دن انہیں فائدہ دے گا۔ نہ ہی ہمارے لئے اسے صحیح سمجھنا درست ہے وہ لوگ بہت بڑی غلطی کے مرتکب ہیں جو یہود ونصاریٰ کو ’’ہمارے بھائی ‘‘کہہ کریادکرتے ہیںیا ان کے مذاہب کو آج صحیح قراردیتے ہیں۔
اسلام اور ایمان میں فرق :
اگر ’’اسلام ‘‘ سے مراد شریعت کے مطابق رہ کر اللہ تعالی کی عبادت کرنا لیاجائے تو یہ ظاہری وباطنی دونوں طرح کی فرمان برادری پر محیط ہے۔ اس طرح یہ پورے دین پر حاوی ہے جس میں عقیدہ،عمل اور اقرار سب داخل ہیں۔
اگر’’ اسلام‘‘ کو ’’ایمان‘‘ کے ساتھ ملاکر ذکر کیاجائے تو اس سے مراد زبان کا اقرار اور اعضاء کے ساتھ سرانجام دئیے جانے والے ظاہر ی امور ہیں اور’’ ایمان‘‘ سے مراد عقیدہ اور دل کے باطنی امو ر ہیں۔ اس فرق کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
{قَالَتِ الْأَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَمْ تُوْمِنُوْا وَلٰـکِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } - -الحجرات:- 14
’’باد یہ نشینو ں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ تم ایما ن نہیں لائے ہو، بلکہ تم کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کے واقعہ میں ذکر کیاہے:
{فَأَخْرَجْنَا مَنْ کَانَ فِیہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَمَاوَجَدْنَا فِیْہَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ}- -الذاریات:- 36
’’ اس میں جتنے مومن تھے ہم نے انہیں نکال دیا پھر ہمیں اس میں مسلمانوں کے ایک گھرانے کے علاوہ کوئی نہ ملا‘‘۔
یہا ں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور مومنوں کے درمیان فرق بیان کیاہے۔کیونکہ جو گھرانہ اس بستی میں موجود تھا وہ بظاہر اسلامی گھر تھا اس میں حضرت لوط علیہ السلام کی کافر بیوی موجود تھی جس نے اس سے خیانت کی تھی لیکن جنہیں وہاں سے نکالاگیا تھااور جو نجات پاگئے تھے وہ حقیقی مومن تھے ان کے دلوں میں ایمان گھر کر چکا تھا۔
اسلام اور ایمان اکٹھے ذکر ہوں تو ان کے معنی میں فرق ہونے کی دلیل حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بھی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایمان اور اسلام کے متعلق دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا:
’’اسلام یہ ہے کہ تو ’’ لَا اِلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ‘‘ کی شہادت دے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ اداکرے،رمضان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے ‘‘۔
اور ایمان کے متعلق فرمایا کہ :
تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، آخرت کے دن اور اچھی بری تقدیر کی تصدیق کرے۔
- صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان الإیمان والإسلام والإحسان ووجوب الایمان با ثبات قدراللّٰہ سبحانہ وتعالٰی۔ حدیث : 8 - -
خلاصہ یہ ہے کہ اگر ’’اسلام ‘‘ کو علی الاطلاق ذکرکیا جائے تو اس میں پورا مذہب داخل ہے اور ایمان بھی داخل ہے اور جب اسے ایمان کے ساتھ ملا کر ذکر کیا جائے تو اسلام سے ظاہری عمل یعنی زبان کا اقرار اور اعضاء کے عمل مراد لئے جائیںگے اور ’’ایمان ‘‘ سے باطنی عمل یعنی عقائد اور دل کے ارادے وغیرہ مراد لئے جائیں گے۔






