Posted in Fatawa Iman
سوال2 :اہل سنّت والجماعت کے ہاں ایمان کی کیا تعریف ہے اور کیا یہ کم وبیش ہوتارہتاہے؟
جواب : اہل سنّت والجماعت کے نزدیک ’’دل کے یقین ، زبان کے اقرار اور اعضاء کے ساتھ اس کے مطابق عمل کو ایمان کہتے ہیں گویا یہ تین چیزوں پرمشتمل ہے۔ - -مجموعۃ فتاوی ورسائل فضیلۃ الشیخ محمد صالح العثیمینؒ ؟ -
- 1 دل کی تصدیق
- 2 زبان کا اقرار
- 3 اعضاء کا عمل
جب صورت حال یہ ہے تو یہ کم وبیش بھی ہوتارہتاہے کیونکہ دل کی تصدیق یکساں نہیں ہوتی۔ بتلائی گئی چیز کی تصدیق عینی مشاہدہ شدہ چیز کی طرح نہیں ہوتی۔ اسی طرح ایک آدمی کی بتلائی ہوئی بات کی تصدیق دو آدمیوں کی بتلائی ہوئی بات کی طرح نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا:
{رَبِّ أَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتیٰ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلیٰ وَلٰـکِنْ لِّیَطْمَئَنَّ قَلبِیْ}- البقرہ : 96 -
’’ اے میرے پروردگار!آپ مجھے یہ دکھائیں کہ آپ مرد ے کو کیسے زندہ کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں لائے ہو ؟انہوں نے کہاکیوں نہیں (ایمان تو لایا ہوں)لیکن یہ اس لئے ہے کہ میرا دل مطمئن ہوجائے ‘‘۔
لہٰذا ایمان بڑھتاہے کیونکہ یہ دل کی تصدیق اوراس کے اطمینان وسکون کانام ہے۔ انسان اپنے اندر اس چیز کو محسوس کرتاہے۔ مثلاً جب وہ وعظ ونصیحت کی کسی محفل میں ہو اور جنّت ودوزخ کا ذکر ہورہا ہو تو اس کا ایمان اس قدر بڑھ جاتاہے کہ گویا وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور جب غفلت طاری ہوجائے اور وہ اس مجلس سے اٹھ جائے تو اس کے یقین میں کمی پیدا ہوجاتی ہے۔
اسی طرح ایمان اگر اقرار سے عبارت ہو تو وہ بھی بڑھتا ہے۔جوشخص دس مرتبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہو وہ سو مرتبہ ذکرکرنے والے کی طرح نہیں ہوتا کیونکہ دوسرا پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
جو شخص عبادت کو کامل صورت میں ادا کرے اس کا ایمان اس شخص سے زیادہ ہوتاہے جس نے اسے ناقص شکل میں ادا کیاہو۔
اسی طرح جوشخص کوئی کام زیادہ مرتبہ سر انجام دے اس کا ایما ن کم مرتبہ انجام دینے والے سے زیادہ ہوتاہے۔اس کی کمی بیشی قرآن وحدیث سے بھی ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَیَسْتَیْقِنِ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ وَیَزْدَادُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِیْمَانًا}- -المدثر:- 31
’’اور ہم نے ان کی یہ تعداد صرف اس لیے مقرر کی ہے کہ یہ ان لوگوں کے لیے آزمائش بنے جنہوں نے کفر کیا، تاکہ وہ لوگ یقین حاصل کر لیں جنہیں کتا عطا ہوئی ، اور اہل ایمان کا ایمان بڑھ جائے‘‘
اور فرمایا:
{وَاِذَا مَا اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ فَمِنْہُمْ مَنْ یَّقُوْلُ اَیُّکُمْ زَادَتْہُ ہٰذِہٖ اِیْمَانًا فَأَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ فَزَادَتْھُمْ إِیْمَانًا وَھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْساً اِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَاتُوْا وَہُمْ کَافِرُوْنَ} - -التوبۃ:125؍- 124
’’اورجب کو ئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں تم میں سے اس نے کس کا ایمان بڑھایا ہے۔اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کے ایمان کو اس نے بڑھادیا اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے ان کی پلیدی کو اس نے اور بڑھادیا اور وہ حالت کفر میں مرگئے ‘‘۔
ایک صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اے عورتو !میں نے تم جیسی عقل وایمان کی ناقصو ں کو نہیں دیکھا جو تم سے بڑھ کر ایک سمجھدار آدمی کی عقل کو ختم کردے ‘‘۔
- صحیح البخاری، کتاب الحیض، باب ترک الحائض الصوم۔حدیث:304، صحیح مسلم حدیث: 79- -
لہٰذا ایمان بڑھتا بھی اور کم بھی ہوتاہے۔ البتہ رہا یہ سوال کہ ایمان کیسے بڑھتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان بڑھنے کے کئی اسباب ہیں :
- 1 اللہ تعالیٰ کی اسماء وصفات کی معرفت :
انسان کو اللہ تعالیٰ اور اس کے اسماء وصفات کی جتنی زیادہ معرفت ہوجائے گی اس کا ایمان اتناہی بڑھتا چلاجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جن اہل علم کے پاس اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا علم زیادہ ہے ان کا ایمان ان سے زیادہ ہے جو ان جیسا علم نہیں رکھتے۔
- 2 اللہ تعالیٰ کی تکوینی وشرعی آیات پرغور وفکر کرنا :
جو شخص اللہ تعالیٰ کی تکوینی آیات (مخلوقات)پر جس قدر زیادہ غور وفکر کرے گا اسی قدر اس کا ایمان بڑھتا چلاجائے گا، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{ وَفِیْ الْأَرْضِ آیَاتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَفِیْ أَنْفُسِہِمْ أَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ }
- الذاریات : 21 ؍20- -
’’اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں اور تمہارے اپنے وجود میں بھی (بہت سی نشانیاں ) ہیں کہ پھر تم بصیرت حاصل نہیں کرتے ہو) اس مضمون کی بہت سی آیات ہیں جن میں کائنات پرغور وفکر کرنے سے ایمان کے بڑھنے کی نشان دہی کی گئی ہے۔
- 3 کثرتِ اطاعت :
انسان جس قدر زیادہ اطاعت شعار ہوگا اسی قدر اس کا ایمان زیادہ ہوگا خواہ یہ طاعت وفرماں داری قولی ہو یا عملی۔ ذکر الٰہی سے ایمان کی کمیّت وکیفیّت دونوں میں اضافہ ہوتاہے۔ اسی طرح نماز ،روزہ اور حج بھی اس کی کمیّت وکیفیّت کو بڑ``````````````ھاتے ہیں۔
ایما ن کی کمی کے اسباب
ایمان میں کمی کے اسباب مذکورہ بالا اسباب ایمان کے متضاد ہیں :
1 - اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات سے ناواقف رہنا ایمان میں کمی پیدا کرتاہے۔انسان جس قدر اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کی معرفت کم رکھے گا اسی قدر اس کا ایمان کم ہوگا۔
- 2 اللہ تعالیٰ کی تکوینی اور شرعی آیات پر غور نہ کرنا بھی ایمان میںکمی کا سبب ہے یاکم از کم ایمان کے جامد ہوجانے اورنشوونما نہ پانے کا باعث ہے۔
- 3 گناہ کرنے کے بھی دل اور ایمان پر بہت سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اسی کے پیش نظرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب زانی زنا کررہا ہوتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا‘‘۔
- صحیح البخاری، کتاب المظالم، باب النّھی بغیر اذن صاحبہ۔حدیث: 2475، صحیح مسلم حدیث : 57- -
- 4 عدم ِفرماں برداری بھی ایمان میں کمی کا باعث ہے البتہ فرض اطاعت کو بلا عذر ترک کرنے سے جو کمی پیدا ہوتی ہے وہ اسے قابل ملامت اور مستوجب سزا بنادیتی ہے اور اگر نفل اطاعت میں کمی ہو یا فرض اطاعت کو بوجہ عذر ترک کیا جارہا ہو تو اس سے کمی ضرور واقع ہوتی ہے۔ تاہم یہ اسے قابل ملامت نہیں بناتی۔
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو عقل وایمان میں ناقص قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ جب وہ حائضہ ہوجاتی ہیںتو وہ نماز اور روزہ چھوڑدیتی ہیں۔
حالانکہ حالت حیض میں نماز اور روزہ چھوڑنے سے قابل ملامت نہیں ہوتیں بلکہ انہیں ایسا کرنے کو کہا گیا ہے، لیکن چو نکہ ان سے یہ کام رہ جاتاہے اور مرداسے سر انجام دے لیتاہے تو وہ اس لحاظ سے اس سے کم قرار پائی ہیں۔






