Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

namaz-e-nabwi-icon.png (137×82)

Namaz-e-Nabwi

 Eid Milad u Nabi

Eid Milad u Nabi

Print
PDF

سوال: کیا دم کرنا جائز ہے؟نیز قرآنی آیات لکھ کر مریض کے گلے میں لٹکانے کا کیا حکم ہے؟

 

جواب: جادو یا کسی دوسرے مرض میںمبتلا شخص کو دم کرنا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ یہ دم قرآن مجید یا مسنون دعائوں کے ذریعے ہو۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  اپنے صحابہ کرام کو دم کیا کرتے تھے۔ اس دعا کے ذریعے بھی آپ انہیں دم کرتے تھے۔

’’رَبُّنَا اَللّٰہُ الَّذِیْ فِی السَّمَاء، تَقَدَّسَ اسُمُکَ أَمْرُکَ فِی السَّمَاء وَالأَرْضِ، کَمَارَحْمَتُکَ فِی السَّمَاء فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ فِی الأَرْضِ أَنْزِل رَحْمِۃٌ مِّن رَّحْمَتِکَ وَ شِفَاء مِن شِفَاءِکَ  عَلٰی ہَذَا الْوَجَعِ‘‘

اورمریض شفایا ب ہوجاتاتھا۔ اسی طرح یہ  دعا بھی مسنون ہے۔ --  أبو داود، کتاب الطب، باب کیف الرّقی۔حدیث: 3892،ضعیف--

’’بِسْمِ اللّٰہ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیْکَ‘‘

 

ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے جسم کے درد والے حصّے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے :

’’أَعُوْذُ بِاللّٰہِ وَعِزَّتِہِ ِمنْ شَرِّ‘‘

مَاأَجِدُ وَأُحَاذِرُ۔-- صحیح مسلم، کتاب السلام، باب الطب والمرض والرقی۔حدیث: 2186--

 

اس کے علاوہ بھی بہت سے وظائف احادیث میں بیان ہوئے ہیں البتہ آیات ووظائف کولکھ کر لٹکانے کے بارے میں علماء کی رائے مختلف ہے۔ کچھ علماء نے اسے جائز کہاہے اور کچھ نے منع کیاہے۔ ان کا ممنوع ہونا زیادہ درست لگتاہے کیونکہ ایسے کرنا نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم  سے ثابت نہیں ہے۔ ثابت صرف یہ ہے کہ مریض کے لئے انہیں پڑھا جائے ،جہاں تک قرآنی آیات اور وظائف کو مریض کے گلے میں یا ہاتھ میں لٹکانے اور تکئے وغیرہ کے نیچے رکھنے کاتعلق ہے تو اس کا ممنوع ہونا ہی راجح ہے کیونکہ یہ شریعت سے ثابت نہیں ہے۔ یہ ایک قاعدہ ہے کہ اگر کوئی شخص شریعت کی اجازت کے بغیر ایک چیز کو دوسری کاذریعہ قرار دیتاہے تو اس کا م کو شرک کی ایک قسم سمجھاجائے گا کیونکہ اس طرح ایسی چیز کو سبب اور ذریعہ تسلیم کیا جارہا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ذریعہ قرار نہیں دیا۔

- فتاویٰ ابن عثیمین:105/-- 1

 

Related ArticlesMost Read ArticlesRandom Articles