سوال: قرآن وحدیث کی روشنی میں تعویذ لٹکانے کا کیا حکم ہے؟
جواب: تعویذ دوقسم کے ہوتے ہیں اور ہر ایک کی مختلف حیثیّت ہے۔
پہلی قسم :
وہ تعویذات جو قرآن مجید میں سے بنائے جائیں، ان میں اہل علم کا شروع سے اختلاف رہاہے۔ کچھ اہل اس کو جائز سمجھتے ہیں ،ان کے خیال میں یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے زمرہ میں ہیں۔
{وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ہُوَ شِفَائٌ وَّرَحْمَۃٌ لِلْمُؤْمِنِیْنَ} -- بنی اسرائیل:-- 82
’’اورہم قرآن مجید میں ایسی آیات نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اوررحمت ہیں‘‘۔
نیز فرمایا:
{کِتَابٌ أَنْزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ} -- ص:-- 29
’’یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے‘‘۔
ان کاخیال یہ ہے کہ اس کے ذریعے کسی تکلیف کاازالہ کرنا بھی اس کی برکت میں سے ہے۔
کچھ دیگر علماء کاخیال یہ ہے کہ تعویذ لٹکانامنع ہے۔ کیونکہ ان کے ذریعے کسی تکلیف کاازالہ کروانا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے جب کہ اس قسم کی چیزوں کا بنیادی اصول یہ ہے کہ یہ توقیفی ہیں۔ یہی نظریہ راجح ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کے تعویذات بھی ممنوع ہیں، انہیں باندھنا، انہیں مریض کے تکیے کے نیچے رکھنا یا انہیں دیواروں پر لٹکانا وغیرہ سب کچھ ممنوع ہے۔ مریض کے لئے تودعا کی جائے یا براہ راست تلاوت کی جائے جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کیا کرتے تھے۔
دوسری قسم :
تعویذات کی دوسری قسم یہ ہے کہ انہیں قرآن مجید کے علاوہ کسی اور چیز سے تیار کیا جائے جوسمجھ بھی نہ آتی ہو۔ یہ کسی صورت بھی جائز نہیں ہیں کیونکہ اس کاکچھ پتہ نہیں چلتاکہ کیا لکھا ہواہے۔ کچھ لوگ طلسمات اور پیچیدہ قسم کی چیزیں لکھ دیتے ہیں اور حروف ایک دوسرے میں داخل کرکے اس طرح لکھتے ہیں کہ ان کا پتہ ہی نہیں چلتا اور نہ ہی انہیں پڑھا جاسکتاہے۔ یہ بدعات میں سے ہیں اور حرام ہیں اور کسی صورت بھی جائز نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔ -
- فتاویٰ ابن عثیمین :106-107-- 1






