سوال : بدعت کی جامع تعریف سے آگاہ فرمایا جائے؟
جواب: دین میں کسی کام کے ایجاد کرلینے کو بدعت کہتے ہیں۔ اصل دین وہ ہے جو کتاب وسنّت میں بیان ہواہے اس کے خلاف جوبھی کام ہے وہ بدعت ہے۔ بدعت کا یہی ایک جامع اصول ہے۔
بدعت کی دوقسمیں ہیں:
۔۱ اعتقادی بدعت
اسے قولی بدعت بھی کہتے ہیں اس کی کسوٹی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث ہے کہ
’’میری امت تہتّر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ ایک فرقے کے علاوہ باقی سب جہنّم میں جائیں گے‘‘۔صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’جس طریقے پر آج میں اور میرے صحابہ کرام کارفرماہیں ‘‘۔ -- صحیح سنن ترمذی، کتاب الإیمان، باب ما جاء فی افتراق ھذہ الأمۃ۔حدیث: 2641 ،حسن--
لہٰذا خالص اہل سنّت وہ ہیں جو عقائد ، توحید ورسالت، تقدیراور مسائلِ ایمان نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کرام کے طریق کار کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔
ان کے علاوہ باقی تمام فرقے خارجی ، معتزلی ، جہمی، قدری ، رافضی ، مرجئہ اپنی تمام ذیلی شاخوں سمیت سب کے سب اعتقادی بدعتی ہیں۔ تاہم اصول دین سے قُرب وبُعد اور عقائد میں تاویل اور اہل سنّت کے ساتھ اتّفاق وعدم اتّفاق کے لحاظ سے ان میں سے ہرایک کا الگ الگ حکم ہے۔ اس اجمال کی ایک لمبی تفصیل ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
۔۲ عملی بدعت
اس سے مراد یہ ہے کہ دین میں ایسی عبادت ایجاد کرنا جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے مقرّر نہیں کیا۔لہٰذا ہر وہ عبادت جس کا واجب ہونایا مستحبّ ہونا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے وہ عمل بدعت ہے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان میں داخل ہے :
’’جوشخص کوئی ایسا کام کرے جسے ہمارے دین نے مقرّر نہ کیا ہو وہ ناقابل قبول ہوگا‘‘۔ -- سبق تجزیجہ فی الصحفہ132-- ۔
یہی وجہ ہے کہ امام احمداور دیگر ائمہ رحمہم اللہ نے کہا ہے کہ ’’عبادات میں سے جائز وہی عبادت ہوگی جسے اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم مقررفرمائیں گے۔ جب کہ معاملات اورعادات میںسے وہی کام ناجائز قرار پائیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کارسول صلی اللہ علیہ و سلم ناجائز قرار دیں گے۔ یہ سراسرکم علمی ہے کہ کچھ رسم ورواج جن کا عبادات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، انہیںبدعت اور ناجائز قرار دے دیا جاتات ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے لہٰذا جوشخص ان سے روکتاہے اور انہیں حرام قراردیتاہے وہ بدعتی ہے کیونکہ رسم ورواج میں سے وہی چیزیں حرام اور ناجائز ہوں گی جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم روک دیں گے۔
رسم ورواج کی بھی مختلف قسمیں ہیں۔ کچھ ایسے کام ہیں جو طاعت شعاری اور فرماں برداری کے لئے ممدّ ومعاون ہیں۔ وہ تو باعث تقرّب ہیں اورکچھ وہ ہیں جوگناہ اور ظلم وزیادتی کاذریعہ بنتے ہیں۔ یہ ناجائز اور حرام ہیں۔ کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں کہ ان کاتعلق ان کے ساتھ ہے نہ اُن کے ساتھ۔ ایسے کام جائز ہیں۔ حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ --
فتاویٰ اسلامیہ:۴۶-۳۶--






