Istilahat-al-Hadees

http://www.opentruths.com/images/masnoon-azkar/azkar-icon.png

Masnoon Azkaar

http://opentruths.com/images/salaam/salaam-icon.png

Masnoon Salaam

http://opentruths.com/images/kaba-icon.png

Watch Live Kaba

Print
PDF
(3 votes, average 4.33 out of 5)

 

شب برات کی فضیلت اور اس كا حكم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد:

ماہِ شعبان میں شب برات اور رجب کے مہینے کے فضائل اور صفر کے مہینے میں آنے والی نحوست سمیت کچھ دیگر عبادات جن جن میں مسلمانوں کا شدید اختلاف پایا جاتا ہے، اس کا حل ہے کہ اسے قرآن اور حدیث کی جانب  لے جایا جائے ، کیونکہ  علماء كرام اس  بات پر متفق ہيں كہ جن مسائل ميں لوگوں كا تنازع ہو اسے كتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ عليہ وسلم كی طرف لوٹانا واجب ہے، اور كتاب اللہ اور سنت رسول دونوں يا دونوں ميں سے ايك جو بھی فيصلہ كر ديں وہ شريعت ہے اور اس پر عمل كرنا واجب ہے.

 

اور جس كی كتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ عليہ وسلم مخالف كريں اسے پھنك دينا اور اس پر عمل نہ كرنا واجب ہے، اور جو عبادات كتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ عليہ وسلم ميں نہ ہوں وہ بدعات ہيں ان پر عمل كرنا جائز نہيں، چہ جائيكہ ان كی دعوت دی جائے، اور انكی مدح سرائی كی جائے جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالی كا فرمان ہے:

 

﴿ اے ايمان والو! اللہ تعالی اور اس كے رسول صلی اللہ عليہ وسلم اور تم ميں سے اختيار والوں كی، پھر اگر كسی چيز ميں اختلاف كرو تو اسے اللہ تعالی اور اس كے رسول صلی اللہ عليہ وسلم كی طرف لوٹاؤ، اگر تمہيں اللہ تعالی اور يوم آخرت پر ايمان ہے، يہ انجام كے لحاظ سے بہت اچھا اور بہتر ہے ﴾ النساء ( 59 ).

 

اور ايك مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ اور جس چيز ميں بھی تمہارا اختلاف ہو اس كا فيصلہ اللہ تعالی ہی كی طرف ہے ﴾ الشوری ( 10 ).

اور ايك مقام اللہ تعالی كا ارشاد ہے:

﴿ كہہ ديجئے! اگر تم اللہ تعالی سے محبت ركھتے ہو تو ميری تابعداری اور اطاعت كرو خود اللہ تعالی تم سے محبت كرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے ﴾آل عمران ( 31 ).

 

اور ايك مقام پر رب ذوالجلال كا ارشاد ہے:

﴿ قسم ہے تيرے رب كی! يہ اس وقت تك مومن نہيں ہو سكتے جب تك كہ آپس كے تمام اختلافات ميں آپ كو حاكم تسليم نہ كرليں، پھر آپ ان ميں جو فيصلہ كر ديں اس ميں وہ اپنے دل ميں كسی طرح تنگی اور ناخوشی نہ پائيں اور فرمانبرداری كے ساتھ قبول كر ليں﴾ النساء ( 65 ).

اس معنی اور موضوع كی آيات بہت زيادہ ہيں، اور يہ آيات اختلافی مسائل كو كتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم پر پيش كرنے اور پھر ان كے فيصلہ پر رضامندی كے وجوب پر واضح نص ہيں، اور يہی ايمان كا تقاضا ہے، اور بندوں كے ليے جلد يا بدير بہتر بھی ہے: ﴿ اور انجام كے لحاظ سے بہتر ہے ﴾. يعنی اس كا انجام اچھا ہے.

 

یاد رہے کوئی بھی عبادت اس وقت تک مقبول نہ ہوگی جب تک شارع علیہ السلام نے اس کا حکم جاری نہ فرمایا ہو، نفلی اور کم سے کم ثواب والی نماز، روزہ کی جانب رسول اکرم صلی اللہ علیہ سلم کی واضح فرامین کتب احادیث کی زینت ہیں ایسا کوئی بھی عمل آپ علیہ السلام نے اپنی امت سے مخفی رکھا ہو  یہ نا ممکن ہے۔  کسی عمل کا واضح حکم، قولی ، فعلی صورت میں نہ دیا ہو اسے اگر ہم اپنائیں اور یہ گمان رکھیں کہ ہم نیک عمل کر رہے ہیں تو ہماری خام خیالی ہوگی۔

 

اس قسم کی عبادات جس بارے میں کچھ غلط اور کچھ صحیح کہیں ایسے وقت میں عوام کا فرض بنتا ہے کہ وہ کم از کم دونوں فریقین کی دلائل کا جائزہ لیں نہ کہ اپنے مسلک پر مکمل اندھا اعتماد کربیٹھیں۔حق روزِ روشن کی طرح واضح ہوتا ہے، اس کے لئے کسی خوردبین کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

قرآنِ مجید،کتب احادیث اور اجماعِ امت وہ ذرائع ہیں جن پر ہر دلیل کا  انحصار ہوتا ہے یعنی  اگر کوئی عمل قرآن مجید میں مل جائے تو ٹھیک، نہیں تو حدیث میں اگر وہاں نہیں تو فقہائے کرام اور علمائے  کرام کی جمہور اور ان کے اجماع کو دیکھا جائے گا۔ کہ وہ علما میں سے اکثر نے اس عمل کے متعلق کیا فرمایا ہے۔

یہ بھی ذہن نشین رکھیں کہ کتب احادیث وارد احادیث پر ضعف اور صحیح  کا حکم وہی لگاسکتا ہے جو راویوں کے کوائف(اسماء الرجال) سے واقف ہو یہ کسی عام آدمی کا کام نہیں۔

اب آیئے شبِ برات کے متعلق دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

اللہ سبحانہ وتعالی كا فرمان ہے:

﴿ ميں نے آج كے دن تمہارے ليے تمہارا دين مكمل كر ديا ہے، اور تم پر اپنا انعام بھر پور كر ديا ہے، اور تمہارے ليے اسلام كے دين ہونے پر راضی ہو گيا ہوں ﴾ المائدۃ ( 3 ).

اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ كيا ان لوگوں نے ( اللہ تعالی كے ) ايسے شريك ( مقرر كر ركھے ) ہيں جنہوں نے ايسے احكام دين مقرر كر ديئے ہيں جو اللہ تعالی كے فرمائے ہوئے نہيں ہيں ﴾ الشوری ( 21 ).

 

اور بخاری و مسلم ميں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حديث مروی ہے كہ نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھی ہمارے اس دين ميں كوئی نيا كام ايجاد كيا جو ( درا اصل) اس ميں سے نہيں تو وہ ناقابل قبول ہے "

اور صحيح مسلم ميں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے كہ نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم خطبہ جمعہ ميں كہا كرتے تھے:

" اما بعد: بلا شبہ سب سے بہتر كلام اللہ تعالی كی كتاب ہے، اور سب سے اچھا اور بہتر طريقہ محمد صلی اللہ عليہ وسلم كا ہے، اور سب بے برا كام بدعت اور دين ميں نيا كام ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے "

اس معنی كی آيات اور احاديث تو بہت ساری ہيں ليكن اسی پر اكتفا كرتے ہيں.

يہ آيات اور احاديث اس بات كی صريح اور واضح دليل ہيں كہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اس امت كا دين مكمل كر ديا ہے، اور اس پر اپنا انعام بھی مكمل كر ديا، اور نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم اس دين حنيف كو پوری اور مكمل طور پر پہنچانے كے بعد ہی فوت ہوئے، اور انہوں نے اقوال، اعمال ميں سے ہر وہ چيز امت كے سامنے بيان كر دی جو اللہ تعالی نے ان كے ليے مشروع كی تھی.

 

اور نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم يہ واضح كر ديا كہ: ان كے بعد لوگ اقوال و اعمال ميں سے جو بھی دين ميں نيا كام ايجاد كر كے اسلام كی طرف منسوب كرينگے وہ سب ناقابل قبول ہے، اور اسے ايجاد كرنے والے پر واپس پلٹا ديا جائے گا، چاہے اس كا مقصد كتنا ہی نيك اور اچھا ہی كيوں نہ ہو.

رسول كريم صلی اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كو يہ اچھی طرح معلوم تھا، اور اسی طرح ان كے بعد علماء اسلام كو بھی اسی ليے انہوں نے بدعات و خرافات كی بيخ كنی كی اور اس كا انكار كيا، اور لوگوں كو اس سے ڈرايا، جيسا كہ سنت نبويہ كی تعظيم اور بدعت كی بيخ كنی كرنے والے ہر مصنف نے اسے ذكر بھی كيا ہے، مثلا ابن وضاح ا ور طرطوشی اور ابن شامۃ وغيرہ.

بعض لوگوں نے جن بدعات كو ايجاد كر ليا ہے ان بدعات ميں ماہ شعبان كے نصف يعنی پندرويں رات كو شب برات كا جشن منانا بھی شامل ہے، اور شعان كی پندرہ تاريخ كا دن روزہ ركھنے ليے خاص كرنا ہے، حالانكہ اس كی كوئی ايسی دليل نہيں ملتی جس پر اعتماد كيا جائے.

 

اس كے متعلق جتنی بھی احاديث وارد ہيں وہ سب ضعيف ہيں جن پر اعتماد كرنا جائز نہيں، اور اس رات ميں نفلی نماز كی ادائيگی كی فضيلت ميں جتنی بھی احاديث ہيں وہ سب موضوع اور جھوٹی روايات ہيں، جيسا كہ بہت سے اہل علم نے اس پر متنبہ بھی كيا، ان ميں بعض اہل علم كی كلام آگے بيان كی جائيگی، ان شاء اللہ.

 

اوراس ميں اہل شام وغيرہ سے بعض آثار بھی بيان كيے جاتے ہيں، جمہور علماء كے ہاں شب برات كا جشن منانا بدعت ہے، اور اس كے متعلق جتنی بھی احاديث روايت كی جاتی ہيں وہ سب ضعيف اور ان ميں سے بعض تو موضوع اور من گھڑت ہيں، اس پرمتنبہ كرنے والوں ميں حافظ ابن رجب رحمہ اللہ تعالی شامل ہيں جنہوں نے اپنی كتاب " لطائف المعارف " ميں تنبيہ كی ہے.

 

اور جو عبادات صحيح دلائل سے ثابت ہيں ان ميں ضعيف احاديث پر عمل كيا جا سكتا ہے، ليكن شب برات كا جشن منانے ميں تو صحيح دليل وارد ہی نہيں تا كہ ضعيف احاديث كو بھی ديكھا جا سكے.

امام ابو العباس شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالی يہ عظيم قاعدہ ذكر كيا ہے.

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ تعالی اپنی كتاب " لطائف المعارف " ميں مندرجہ بالا كلام كے بعد اس مسئلہ كے متعلق كہتے ہيں:

( اور شعبان كی پندرويں رات ( يعنی شب برات ) اہل شام ميں سے خالد بن معدان، اور مكحول، اور لقمان بن عامر وغيرہ كی تعظيم كرتے اور اس رات عبادت كرنے كی كوشش كرتے، اور لوگوں نے ان سے ہی اس رات كی فضيلت اور تعظيم كرنا سيكھی.

 

اور ايك قول يہ ہے كہ: انہيں اس سلسلہ ميں كچھ اسرائيلی آثار پہنچے تھے، ... اور حجاز كے اكثر علماء كرام نے اس كا انكار كيا ہے جن ميں عطاء، ابن ابی مليكہ شامل ہيں، اور عبد الرحمن بن زيد بن اسلم نے اسے فقھاء مدينہ سے نقل كيا ہے، اور امام مالك رحمہ اللہ كے اصحاب وغيرہ كا يہی قول ہے، ان كا كہنا ہے: يہ سب كچھ بدعت ہے... اور امام احمد رحمہ اللہ تعالی سے شب برات كے بارہ ميں كوئی كلام معلوم نہيں ہے..  )

 

حافظ رحمہ اللہ نے يہاں تك كہا ہے كہ: شب برات ميں نفلی نماز اور شب بيداری كرنے ميں نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ سے كچھ بھی ثابت نہيں ہے ) .

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ تعالی كی كلام كا مقصود ختم ہوا.

اور اس ميں انہوں نے يہ صراحتا بيان كيا ہے كہ شب برات كے سلسلے ميں نہ تو نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم سے كچھ ثابت ہے اور نہ ہی صحابہ كرام رضی اللہ عنہم سے.

اور جس چيز كا شرعی دلائل سے مشروع ہونا ثابت نہ ہو؛ كسی بھی مسلمان كے ليے جائز نہيں كہ وہ اسے دين ميں ايجاد كرتا پھرے، چاہے وہ كام انفرادی كيا جائے يا پھر اجتماعی، يا پھر وہ اس كام كو خفيہ طور پر انجام دے يا اعلانيہ طور پر كيونكہ رسول كريم صلی اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے بھی كوئی ايسا كام ايجاد كيا جس پر ہمارا حكم نہيں ہے تو وہ عمل ناقابل قبول اورمردود ہے "

اس كے علاوہ دوسرے ان دلائل كی بنا جن ميں بدعت سے بچنے كا كہا گيا ہے اور اسے منكر قرار ديا گيا ہے.

امام ابو بكر الطرطوشی رحمہ اللہ تعالی اپنی كتاب " الحوادث والبدع " ميں كہتے ہيں:

 

( ابن وضاح نے زيد بن اسلم رحمہ اللہ تعالی عنہ سے بيان كيا ہے كہ انہوں نے كہا:

ہم نے اپنے اساتذہ اور فقھاء ميں سے كسی ايك كو بھی شب برات كی طرف ملتفت ہوتے نہيں پايا، اور نہ ہی وہ مكحول رحمہ اللہ كی روايت كی طرف التفات كرتے تھے، اور نہ ہی وہ شب برات كی باقی راتوں پر كوئی فضيلت سمجھتے تھے.

اور ابن ابی مليكۃ رحمہ اللہ تعالی كو كہا گيا كہ: زياد النميری يہ كہتے ہيں كہ: شعبان كی پندرويں رات كا اجروثواب ليلۃ القدر جتنا ہے، تو ابن ابی مليكۃ رحمہ اللہ كہنے لگے:

اگر ميں اس سے يہ سنوں اور ميرے ہاتھ ميں چھڑی ہو تو ميں اسے زدكوب كروں، اور زياد قصہ گو شخص تھا ) انتہی المقصود

 

علامہ شوكانی رحمہ اللہ تعالی " الفوائد المجموعۃ " ميں  كہتے ہيں:

( يہ حديث: اے علی جس نے شعبان كی پندرويں رات كو ايك سو ركعت ادا كيں اور ہر ركعت ميں سورۃ الفاتحۃ اور سورۃ الاخلاص ( قل ہو اللہ احد ) دس بار پڑھی تو اللہ تعالی اس كی ہر ضرورت پوری كرے گا... الخ"

يہ حديث موضوع يعنی نبی صلی اللہ عليہ وسلم پر جھوٹ اور بہتان ہے اور اس كے الفاظ ميں ـ يہ صراحت ہے كہ اسے پڑھنے والا كتنا اجروثواب حاصل كرتا ہے ـ وہ كچھ ہے جس سے ايك تمييز كرنے والے شخص كو اس كے موضوع ہونے ميں كوئی شك نہيں ہوتا، اور اس كے رجال مجھول ہيں، اور يہ ايك دوسرے طريق سے بھی مروی ہے جو سارا موضوع ہے، اور اس كے راوی بھی مجھول ہيں ).

 

اور " المختصر " ميں ہے كہ:

شعبان كی پندرويں رات والی حديث باطل ہے، اور ابن حبان ميں علی رضی اللہ تعلی عنہ سے حديث مروی ہے:

" جب شعبان كی پندرويں رات ہو تو اس رات قيام كرو اور دن كو روزہ ركھو"

 

يہ حديث ضعيف ہے.

اور " اللآلی " ميں ہے كہ: شعبان كی پندرويں رات دس بار سورۃ اخلاص كے ساتھ سو ركعت ...

يہ موضوع ہے، اور اس حديث كے تينوں طرق ميں اكثر راوی مجھول اور ضعيف ہيں، ان كا كہنا ہے: اور بارہ ركعت ميں تيس بار سورۃ اخلاص، يہ بھی موضوع ہے، اور چودہ بھی موضوع ہے.

اس حديث سے فقھاء كی اكثر جماعت دھوكہ كھا گئی ہے مثلا: ( الاحياء) وغيرہ كا مصنف اور اسی طرح مفسرين ميں سے بھی، اور اس رات كی نماز " يعنی شب برات نماز " كے بارہ ميں مختلف قسم كی مختلف طريقوں سے روايات بيان كی گئی ہيں جو سب كی سب باطل اور موضوع ہيں. انتہی

 

اور حافظ عراقی رحمہ اللہ تعالی كہتے ہيں:

( شب برات كی نفلی نماز كے متعلق حديث موضوع اور نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم پر جھوٹ اور بہتان ہے ).

امام نووی رحمہ اللہ تعالی  اپنی كتاب " المجموع " ميں رقمطراز ہيں:

( صلاۃ رغائب كے نام سے جو نماز معروف ہے وہ بارہ ركعات ہيں جو رجب كے پہلے جمعہ كو مغرب اور عشاء كے مابين ادا كی جاتی ہيں، اور شب برات ميں ادا كی جانے والی سو ركعت، يہ دونوں نمازيں بدعت اور منكر ہيں، اسے كتاب " قوت القلوب " اور " احياء علوم الدين "  ميں ذكر كرنے سے دھوكہ نہيں كھانا چاہيے، اور نہ ہی اس سلسلے ميں روايت كی جانے والی حديث سے دھوكہ كھانا چاہيے، كيونكہ يہ سب باطل ہے، اور نہ ہی بعض ان مصنفين سے دھوكہ كھانا چاہيے جن پر اس كا حكم مشتبہ ہو چكا ہے جس كی بنا پر انہوں نے اس كے مستحب ہونے ميں كئی ايك اوراق سياہ كر ڈالے ہيں، يہ سب كچھ غلط ہے ).

 

اور امام ابو محمد عبد الرحمن بن اسماعيل المقدسی رحمہ اللہ تعالی نے اس كے ابطال اور رد ميں ايك بہت ہی نفيس كتاب لكھی ہے، اور انہوں نے اس سلسلے ميں بہت كاميابی بھی حاصل كی اور اچھی كلام كی ہے، اس مسئلہ ميں اہل علم كی كلام بہت زيادہ ہے، اگر ہم اس مسئلہ ميں اہل علم كی ساری كلام كو ذكر كرنے لگيں تو يہ سلسلہ بہت طويل ہو جائے گا، جو كچھ ہم نے مندرجہ بالا سطور ميں ذكر كيا ہے وہی كافی ہے، اور حق تلاش كرنے والے كے ليے اسی ميں اطمنان ہے.

اور پر جو آيات اور احاديث اور اہل علم كا كلام بيان ہوا ہے، حق كے متلاشی كے ليے اس سے يہ واضح ہوتا ہے كہ شب برات كو شب بيداری كرنا اور اس رات نفلی نماز وغيرہ دوسری عبادات ادا كرنا، اور پندرہ شعبان كو روزے كے ليے خاص كرنا اكثر اہل علم كے ہاں ايك منكر بدعت ہے، شريعت مطہرہ ميں اس كی كوئی دليل اور اصل نہيں ملتی.

بلكہ يہ ان بدعات اور ايجادات ميں شامل ہوتی ہے جو صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين كے دور كے بعد ايجاد ہوئيں، اس سلسلے ميں حق كے متلاشی كے ليے اللہ سبحانہ وتعالی كی مندرجہ ذيل فرمان ہی كافی ہے:

﴿ آج ميں نے تمہارے ليے تمہارے دين كو مكمل كر ديا ہے ﴾.

اور اس موضوع كی دوسری آيات جن ميں اس موضوع كو بيان كيا گيا ہے.

اور رسول كريم صلی اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے ہمارے اس دين ميں كوئی ايسا عمل ايجاد كيا جو اصلا اس دين ميں نہيں تو وہ ناقابل قبول اور مردود ہے "

اور اس موضوع كی دوسری احاديث، اور صحيح مسلم ميں ابو ہريرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے كہ:

رسول كريم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" راتوں ميں جمعہ كی رات كو قيام الليل كے ليے خاص نہ كرو، اور نہ ہی جمعہ كا دن باقی دنوں سے روزہ كے ليے خاص كرو، الا يہ كہ اگر وہ دن اس كے روزہ ركھنے كی عادت كے موافق ہو"

اگر كسی راتوں ميں كسی رات كو عبادت كے ليے خاص كرنا جائز ہوتا تو وہ رات جمعہ كی ہوتی جو كہ دوسری راتوں سے اولی اور بہتر ہے، كيونكہ جمعہ كا دن سب سے بہترين دن ہے جس ميں سورج طلوع ہوتا ہے، اس كا ذكر نص حديث ميں بيان كيا گيا ہے.

 

جب نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم نے راتوں ميں اس رات كو خاص كرنے سے بچنے كا كہا تو يہ اس كی دليل ہے كہ عبادت كے ليے دوسری راتوں كو بالاولی خاص كرنا جائز نہيں، ليكن اگر اس تخصيص كی كوئی دليل مل جائے تو جائز ہے.

جب رمضان المبارك كی راتيں اور ليلۃ القدر ميں قيام كرنا مشروع تھا تو نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم نے اس قيام پر امت كو ابھارا، اور خود بھی اس پر عمل كيا.

جيسا كہ بخاری اور مسلم ميں نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم سے مروی ہے كہ آپ نے فرمايا:

" جس نے رمضان المبارك ميں ايمان اور اجروثواب كی نيت سے قيام كيا اس كی پچھلے سارے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں "

" اور جس نے ليلۃ القدر كا ايمان اور اجروثواب كی نيت سے قيام كيا اس كے پچھلے گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں "

 

لہذا اگر شعبان كی پندرويں رات ( جسے عام طور پر شب برات كا نام ديا جاتا ہے ) يا پھر رجب كے پہلے جمعہ كی رات، يا اسراء و معراج كی رات ( جسے شب معراج كا نام ديا جاتا ہے ) كی عبادت كے ليے تخصيص مشروع ہوتی تو نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم امت كو اس كی بھی راہنمائی فرماتے يا پھر خود اس پر عمل كرتے، اور اگر اس ميں سے كچھ ہوا ہوتا تو صحابہ كرام رضوان اللہ عليہم اجمعين ان سے نقل بھی كرتے،  اور ہم سے كچھ بھی نہ چھپاتے كيونكہ انبياء كے بعد صحابہ كرام لوگوں ميں سے سب سے زيادہ نصيحت كرنے والے اور خير خواہ اور بھلائی كرنے والے تھے، اللہ تعالی ان سب سے راضی ہو.

 

اور اب آپ نے علماء كرام كی كلام سے معلوم كر ليا ہے كہ: نبی كريم صلی اللہ عليہ وسلم اور ان كے صحابہ كرام سے نہ تو رجب كے پہلے جمعہ كی فضيلت ميں اور نہ ہی شعبان كی پندرويں رات ( شب برات ) كی فضيلت ميں كچھ ثابت ہے، تو اس سے يہ معلوم ہوا كہ ان دونوں راتوں كا جشن منانا اسلام ميں نئی ايجاد كردہ بدعت ہے، اور اسی طرح ان راتوں كو عبادت كے ليے خاص كرنا بدعت منكرہ ہے، اور اسی طرح رجب كی ستائيسويں رات جس كے بارہ ميں لوگ اسراء و معراج كی رات كا اعتقاد ركھتے ہيں ان راتوں كو عبادت كے ليے خاص كرنا جائز نہيں، اور اسی طرح مندرجہ بالا دلائل كی بنا پر اس رات كو جشن منانا بھی جائز نہيں ہے.

 

يہ تو اس وقت ہے جب اس رات كا علم ہو جائے، اور علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق تو اس رات كا علم ہی نہيں ؟!

اور جو شخص يہ كہتا ہے كہ: يہ رات رجب كی ستائيسويں رات ہے، يہ قول باطل ہے احاديث صحيحہ كی روشنی ميں اس كی كوئی اساس اور دليل نہيں ملتی.

 

كسی عربی شاعر نے  كيا ہی خوب كہا ہے:

سب سے بہتر اور اچھے امور وہ ہيں جو ہدايت پر ہوں، اور برے امور نئی ايجاد كردہ بدعات ہيں.

اللہ تعالی سے دعا ہے كہ وہ ہميں اور سب مسلمانوں كو كتاب و سنت پر عمل كرنے كی توفيق عطا فرمائے، اور اس پر ثابت قدم ركھے، اور كتاب و سنت كی مخالفت سے ہميں بچا كر ركھے، يقينا اللہ تعالی كرم والا ہے.

اللہ تعالی اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد صلی اللہ عليہ وسلم اور ان كی آل اور سب صحابہ كرام پر اپنی رحمتيں نازل فرمائے.انتہی

Trackback(0)
Comments (0)Add Comment

Write comment
You must be logged in to post a comment. Please register if you do not have an account yet.

busy