شریعت اسلامیہ میں میلاد نبوی کا حکم
[ اللغة الأردية ]
تألیف
فضیلۃ الشیخ ابی بکر جابر الجزائری حفظہ اللہ
فضيلة الشيخ أبي بكر جابر الجزائري حفظه الله
ترجمہ :سیّد محمد غیاث الدین مظاہری
ترجمة: سيّد محمد غياث الدين مظاهري
نظرثانی: شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی
مراجعة: شفيق الرحمن ضياء الله المدني
ناشر: شعبہ مطبوعات ونشر وزارت کے زیر نگرانی طبع شُدہ ریاض , سعودی عرب
الناشر: وزارة الشؤون الإسلامية والأوقاف والدعوة والإرشاد - المملكة العربية السعودية
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پیش لفظ
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ وصحبہ ومن والاہ أمابعد:
بارگاہ نبوی £ کے احترام وتعظیم کی وجہ سے میلاد نبوی کے موضوع پر لکھنے میں مجھے بہت تردّد رہا ,لیکن جب اس سلسلہ میں مسلمان ایک دوسرے کو کا فر بنانے لگے اور باہم لعنت کرنے لگے تو میں یہ رسالہ لکھنے کےلئے مجبور ہوگیا کہ شاید یہ اس فتنہ کی روک تھام کرسکے جو ہر سال ابھارا جاتا ہے اور جس میں کچہ مسلمان ہلاک وبرباد ہوتے ہیں ,ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ.
میں نے ماہ میلاد ربیع الأول سے متعلق کچہ پہلے بی –بی سی لندن کے نشریہ سے یہ خبر سنی کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیر ابن بازحفظہ اللہ ان لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو میلا د نبوی کی محفل کریں, اس خبر نے عالمِ اسلام کو غیظ وغضب سے بھر دیا,میں یہ جھوٹی اور خوفناک خبر سن کرحیرت میں پڑگیا , کیونکہ حضرت مفتی صاحب (1) کا جو قول مشہور ومعروف ہے وہ یہ ہے کہ میلاد بدعت ہے اور وہ اس سے منع فرماتے ہیں , جو شخص میلاد کی یاد گار منائے یا اس کی محفل قائم کرے وہ اس کی تکفیر نہیں کرتے ,غالباً یہ ان رافضیوں کا مکروکید ہے جو مملکت سعودیہ سے بغض وحسد رکھتے ہیں کیونکہ وہاں بدعت وخرافات اور شرک وگمراہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے .
بہر حال معاملہ اہم ہے اور اہل علم پر لازم ہے کہ وہ اس اہم مسئلہ کے متعلق حق بات کو واضح کریں , جس سے یہ نوبت پہنچ گئی ہےکہ مسلمان باہم ایک دوسرے سے بغض رکھنے لگے ہیں اور ایک دوسرے پر لعنت کرتے ہیں , کتنے لوگ ازراہ خیرخواہی مجھ سے کہتے ہیں کہ :فلاں شخص کہتا ہے کہ میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں ,کیونکہ وہ محفل مولود کا منکرہے , محھے اس کی اس بات سے تعجب ہوتا ہے ,
--------------------------------------------------------------------
(1) حضرت مفتی شیخ عبد العزیز بن بازرحمہ اللہ نے بدعت مولود کے ردذ و انکار میں کئی مضامین لکھے ہیں , لیکن کہیں بھی مولود کرنے والوں کو کا فر نہیں کہا ہے .بی –بی- سی لندن کی خبر محض جھوٹ اور افواہ ہے , جو فتنہ پھیلانے کے لئے گھڑی گئی ہے ورنہ تو مفتی صاحب کی تحریریں موجود ہیں انہیں دیکھا جا سکتا ہے .
میں کہتا ہوں کہ جو شخص بدعت کا انکار کرے اور اس کو ترک کرنے کو کہے, کیا مسلمان اس کو دشمن بنا لیتے ہیں ؟ انہیں تو لازم تھا کہ اس سے محبت کرتے نہ یہ کہ اس سے بغض کرتے , اور ستم بالائے ستم یہ کہ مسلمانوں کے درمیان اس کی اشاعت کی جاتی ہے کہ جو لوگ مولود کی بدعت کا انکار کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو رسول £سے بغض رکھتے ہیںاور آپ سے محبت نہیں کرتے , حالانکہ یہ بدتریں جرم اور گناہ ہے جو کسی ایسے بندہ سے کیسے ہوسکتا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ؟کیونکہ رسول £سے بغض رکھنا یا آپ سے محبت نہ کرنا کھلا ہو کفر ہے , ایسے شخص کو اسلام سے ذرا بھی نستب باقی نہیں رہ جاتی , والعیاذ باللہ.
آخر میں یہ عرض ہےکہ انہیں اسباب کی بناء پر میں نے یہ رسالہ لکھا تاکہ ایک اعتبار سے تو وہ ذمہ داری ادا ہوجائے جو حق کے واضح کرنے کی عائد ہوتی ہے اوردوسری میری یہ خواہش بھی تھی کہ ہر سال ابھرنے اوراسلام کی آزمائش میں اضافہ کرنے والے اس فتنہ کی روک تھام ہو- واللہ المستعان وعلیہ التکلان .
ایک اہم علمی مقدمہ
شریعت اسلامیہ میں میلاد نبوی کا حکم معلوم کرنے کے لئے جو شخص اس رسالہ کا مطالعہ کرے میں اسے انتہائی خیرخواہی کے ساتہ یہ کہتا ہوں کہ وہ اس مقدمہ کو بہت ہی توجہ کے ساتہ کئی مرتبہ ضرور پڑھ لے ,یہاں تک کہ اس کو خوب اچھی طرح سمجہ لے , اگرچہ اس کو دس مرتبہ ہی کیوں نہ پڑھنا پڑے , اور اگرنہ سمجہ میں آئے تو کسی عالم سے خوب سمجہ کر پڑھ لے تاکہ کوئی غلطی نہ رہ جائے , کیونکہ اس مقدمہ کا سمجھنا صرف مسئلہ مولود کے لئے ہی نہیں مفید ہے بکہ یہ بہت سے دینی مسائل میں مفید ہے .جس میں لوگ عام طور سے اختلافات کرتے رہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے یا سنت , اور اگر بدعت ہے تو بدعت ضلالت ہے یا بدعت حسنہ ؟
میں انشاء اللہ قارئین کے سامنے تفصیل سے بیان کروں گا اور اشارات کو قریب کروں گا . اورمثالوں سے وضاحت کروں گا , اور معنی ومراد کو قریب لانے کی کوشش کروں گا , تا کہ قاری اس مقدمہ کو سمجہ لے , جو پیچیدہ اختلافی مسائل کے سمجھنے کے کلید ہے کہ آیا وہ دین وسنت ہیں جو قابل عمل ہیں یا گمراہی اوربدعت ہے جس کا ترک کرنا اور جس سے دور رہنا ضروری اور واجب ہے-
اب اللہ کانا م لے کر یہ کہتا ہوں کہ اے میرے مسلمان بھائی! تمہیں معلوم ہونا چاھئے کہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول محمد £ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا اور ان پر لوگوں کی ہدایت اوراصلاح کے لئے اپنی کتا ب قرآن کریم نازل فرمائی تاکہ لوگ اس سے ہدایت یاب ہو کر دنیا وآخرت میں کامیابی وسعادت حاصل کریں , جیساکہ اللہ نے ارشاد فرمایا [ النساء] اے لوگو! یقیناً تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہارے پاس ایک صاف نور بھیجا ہے , سو جولوگ اللہ پر ایمان لائے , اور انہوں نے اللہ کو مضبوط پکڑا , سو ایسوں کو اللہ اپنی رحمت میں داخل کریں گے ,اور اپنے فضل میں , اور اپنے تک ان کو سیدھا راستہ بتلا دیں گے.(1)
اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کی ہدایت اور اصلاح جس سے روح میں کمال اور اخلاق میں حُسن وفضیلت حاصل ہو اس وحی الہی کے بغیر نہیں ہوسکتی جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول £کی سنت میں جلوہ گر ہے , کیونکہ اللہ تعالى أحکام کی وحی فرماتے ہیں اور رسول £اس کی تبلیغ فرماتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی کیفیت بیان فرماتے ہیں اور اہل ایمان اس پر عمل کرتے ہیں , اور اس طرح وہ کمال وسعادت کی نعمت سے ہم کنار ہوتےہیں –
اے معززقاری! ہم قسم کھا کرکہتے ہیں کہ ہدایت اور اصلاح کے بعد اس راستہ کے سوا کوئی اور راستہ کمال وسعادت کے حصول کا نہیں ہے , اور وہ راستہ ہے وحی الہی پر عمل کرنا جوکتاب وسنت میں موجود ہے
محترم قارئیں !اس کا رازیہ ہے کہ اللہ تعالى سارے جہاں کا رب ہے ,یعنی ان کا خالق ومربی اور ان کے تما م معا ملات کی تدبیر وانتظام کرنے والا اور انکا مالک ہے , سارے لوگ اپنے وجود میں اوراپنی پیدائش میں , اپنے رزق وامداد میں اور تربیت وہدایت اور اصلاج میں دونوں جہاں کی زندگی کی تکمیل وسعادت کے لئے اس کے محتا ج محض ہیں , اللہ تعالى نے تخلیق کے کچہ قوانین مقرر فرمائے ہیں , انہی قوانین کے مطابق وہ انجام پاتی ہے اور وہ قانوں ہے نر اورمادہ کے باہم اختلاط کا , اسی طرح اللہ تعالى نے مخلوق کی ہدایت اوراصلاح کا بھی قانون مقرر فرمادیا ہے اور جس طرح تخلیق کا عمل بغیر اس کے قانون کے نہیں انجام پاسکتا جو لوگوں میں جاری ہے اسی
--------------------------------------------------------------------------------------------------
(1) بہت سے مفسرین کے نزدیک آیت میں "برهان "سے مراد نبی £ہیں , اور "نور" سے مراد قرآن کریم ہے
طرح ہدایت اور اصلاح کا کام بھی اللہ تعالى کے قانون کے مطابق ہی انجام پاتا ہے اور وہ قانون ہے ان احکام وتعلیمات پر عمل کرنا جو اللہ تعالى نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول حضرت محمد £کی زبان مبارک پر مشروع فرمادیا ہے ,اور ان کو اس طریقہ کے مطابق نافذ اور جاری کرنا جو طریقہ رسول £نے بیان فرمایا ہے . اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کوئی بھی ایسی ہدایت یا سعادت یا کمال جو اللہ تعالى کے مشروع کئے ہوئے طریق کے علاوہ کسی اور طریق سے آئے کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہے .
تم باطل دین والوں کو مثلاً یہودونصارى اورمجوسیوں وغیرہ کو دیکھتے ہو تو کیا یہ سب راہ ہدایت پاگئے ہیں یاکمال وسعادت سے حصہ پا چکے ہیں ؟ہرگز نہیں اور وجہ ظاہر ہے کہ یہ سب اللہ تعالى کےنازل کئے ہوئے طریقے نہیں ہیں,اسی طرح ہم ان قوانین کو دیکھتے ہیں جن کو انسانوں نے عدل وانصاف کے حصول , لوگوں کے مال وجان , ان کی عزت وآبرو کی حفاظت اوران کے اخلاق کی تکمیل کے لئے بنائے ہیں ,کیا یہ قوانین جس مقصد کے لئے بنائے گئے تھے وہ مقصد حاصل ہوئے ؟جواب یہ ہے کہ نہیں , کیونکہ زمین جرائم اورہلاکت خیزیوں سے بھری ہوئی ہے , اسی طرح امت اسلامیہ کے اندر اہل بدعت کو دیکھتے ہیں , بدعتیوں میں بھی زیادہ پست اور گھٹیا درجہ کے لوگ ہیں , نیز اسی طرح اور بھی اکثرمسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ جب وہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون سے ہٹ کر انسان کے بنائے ہوئے قانوں کی طرف مائل ہوئے تو ان کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا ,ان کا مرتبہ گھٹ گیا اوروہ ذلیل ورسوا ہوگئے ,اور اس کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ وحی الہی کو چھوڑکردوسرے طریقوں پر عمل کرتے ہیں غور سے سنو اور دیکھو کہ اللہ تعالى شریعت اسلامیہ کے علاوہ ہر قانون وشریعت کی کیسی مذمت فرمارہے ہیں .ارشاد باری تعالى ہے : {أَمْ لَهُمْ شُرَكَاء شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} (21) سورة الشورى]
"کیا ان لوگوں نے ایسے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کردئیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو ابھی ہی ان میں فیصلہ کردیا جاتا, یقیناً ان ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے ".
اور رسول £فرماتے ہیں کہ (من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فہوردّ)" جس نے ہمارے اس امر(دین) میں کوئی ایسی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے (یعنی مقبول نہیں ہے " اور فرمایا ( من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہو ردّ) (مسلم)" اور جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے تو وہ رد ہے یعنی مقبول نہیں ہے ". اور اس پر اس کو کوئی ثواب نہیں ملے گا , اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالى نے جس امر کو مشروع نہیں فرمایا ہے وہ عمل نفس کے تزکیہ وتطہیر میں مؤثر نہیں ہوسکتا ,کیونکہ وہ تطہیروتزکیہ کے اس مادہ سے خالی ہے جو اللہ تعالى نے ان اعمال میں پیدا فرمایا ہے , جن کو مشروع کیا ہے اور جن کے کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے .
دیکھو اللہ تعالى نے اناج, پھلوں اور گوشت کے اندر کس طرح غذائیت کا مادہ پیدا فرمادیا ہے , لہذا ان کے کھانے سے جسم کو غذا ملتی ہے جس سے جسم کی نشوونما ہوتی ہے اور قوت کی حفاظت ہوتی ہے اور مٹی لکڑی اور ہڈی کو دیکھو کہ اللہ تعالی نے ان کو غذائیت کے مادہ سے خالی رکھا ہے .اسلئے یہ غذائیت نہیں پہنچا تیں ,اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ بدعت پر عمل کرنا ایسا ہی ہے جیسے مٹی , ایندھن اور لکڑی سے غذائیت حاصل کرنا , اگر ان چیزوں کا کھانے والا غذائیت حاصل نہیں کرسکتا تو بدعت پر عمل کرنے والے کی روح بھی پاک وصاف نہیں ہوسکتی اس بناء پر ہر ایسا عمل جس کے ذریعہ اللہ تعالى کے تقرب کی نیت کی جائے تاکہ شقاوت ونقصان سے نجات و کمال اورسعادت حاصل ہو , سب سے پہلے ان اعمال میں سے ہونا چاہئے جن کو اللہ تعالى نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول £کی زبان پر مشروع فرمایا ہے اور دوسری بات یہ کہ وہ اسی طریقہ سے اداکیا جائے جس طریقہ سے رسول £نے ادا فرمایا ہے , اس میں اس کی کمیت کی رعایت اس طرح ہو کہ اس کی تعداد میں زیادتی ہو اور نہ کمی , اور کیفیت کی رعایت اس طرح ہو کہ اس کے کسی جزء کو کسی جزءپر مقدم ومؤخرنہ کیا جائے ,اور وقت کی رعایت اسطرح ہو کہ وقت غیرمعینہ میں اس کو نہ کرےاورجگہ کی بھی رعایت ہو کہ جس جگہ کو شریعت نے مقرر کردیا ہے اس کے علاوہ اسکو دوسری جگہ ادانہ کرے , اور کرنے والا اس سے اللہ کی اطاعت وفرمابرداری اوراس کی رضا وخوشنودی اور قرب کے حصول کی نیت کرے اسلئے کہ ان شروط میں سے کسی ایک کے نہ پائے جانے سے وہ عمل باطل ہوجائے گا ,وہ شروط یہی ہیں کہ وہ عمل مشروع ہو اور اس کو اسی طریقہ سے ادا کرے جس طریقہ سے رسول £نے اداکیا ہے اور اس سے صرف اللہ تعالی کی رضامندی کی نیت رکھے کہ غیر اللہ کی طرف توجہ اور التفات نہ کرے , اورجب عمل باطل ہو جائے گا تو وہ نفس کے تزکیہ اور تطہیر میں مؤثر نہیں ہو گا , بلکہ ممکن ہے کہ اس کی گندگی اور نجاست کا سبب بن جائے , مجھے مہلت دیجئے تو میں یہ حقیقت ذیل کی مثالوں سے واضح کردوں :
1-نماز :كتاب الله سے اس کی مشروعیت ثابت ہے , اللہ تعالى کا ارشاد ہے: [النساء]" پس نماز کو قاعدہ کے مطابق پڑھو ,یقیناًنماز مومنوں پرمقررہ وقتتوں پر فرض ہے"
اور سنت سے بھی ثابت ہے ,رسول £ نے ارشاد فرمایا " خمس صلوات کتبھن اللہ " الحدیث (رواہ مالک)"پانچ نمازیں ہیں اللہ نے انھیں فرض کیا ہے " اب غور کرو کہ کیا بندہ کے لئے یہ کافی ہے کہ جس طرح چاہے اور جب چاہے اور جس وقت چاہے اور جس جگہ چاہے نماز پڑھ لے ؟جواب یہ ہے کہ نہیں :بلكہ دوسری حیثیتوں یعنی تعداد وکیفیت اور وقت وجگہ کی رعایت بھی ضروری ہے ,لہذا اگر مغرب میں جان بوجہ کر ایک رکعت کا اضافہ کرکے چار رکعت پڑھ لے تو نماز باطل ہوجائے گی , اور فجر کی نماز میں ایک رکعت کم کرکے ایک ہی رکعت پڑھے تو وہ بھی صحیح نہیں , اور اسی طرح اگر کیفیت کی رعایت نہ کرے کہ ایک رکن کو دوسرے رکن پرمقدم کردے تو بھی صحیح نہیں , اور اسی طرح وقت اور جگہ کا بھی حال ہے کہ اگر مغرب غروب آفتاب سے پہلے پڑھ لے, یاظہر زوال سے پہلے پڑھ لے تو نماز صحیح نہ ہوگی , اسی طرح اگر مذبح یا کوڑی خانہ میں نماز پڑھےتو بھی نماز صحیح نہ ہوگی , کیونکہ اس کے لئے جیسی جگہ شرط ہے یہ ویسی جگہ نہیں ہے
2-حج: اس کی بھی مشروعیت کتاب وسنت دونوں سے ثابت ہے اللہ تعالى کا ارشاد ہے :[ آل عمران ]
"اللہ نے ان لوگوں پر جو اسکی طرف راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کردیاہے اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالى (اس سے بلکہ ) تما م دنیا سے بے پرواہ ہے " اور رسول £نے ارشاد فرمایا کہ "اے لوگو! اللہ نے تمہارے اوپر حج فرض کیا ہے پس تم حج کرو"(رواہ مسلم)
اب یہ دیکھوکہ کیا بندہ کو یہ حق ہے کہ جس طرح چاہے اور جب چاہے حج کرلے ؟یہاں بھی جواب نہیں میں ہے , بلکہ اس کے ذمہ لازم ہے کہ چاروں حیثیتوں کی رعایت کرے ورنہ تو اسکا حج صحیح نہ ہوگا ,یعنی کمیت (مقدار) کی , پس طواف اور سعی میں شوط(چکّر) کے عدد کی رعایت کرے , اگر عمداً اس میں کمی یا زیادتی کی تو وہ فاسد ہوجائگا , اور کیفیت کی رعایت کرے , چنانچہ اگر طواف احرام سے پہلے کرلیا, یا سعی طواف سے پہلے کرلی تو حج صحیح نہ ہوگا , اور وقت کی رعایت کرے ,چنانچہ اگر وقوف عرفہ 9ذی الحجہ کے علاوہ کسی اوروقت ہو تو صحیح نہ ہوگا , اور جگہ اورمقام کی رعایت کرے , چنانچہ اگربیت الحرام کے سوا کسی اور جگہ کا طواف کرے یا صفا ومروہ کے علاوہ کسی دوسری دو جگہوں کے درمیان سعی کرے یا عرفہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ وقوف کرے تو حج نہ ہوگا .
3-روزہ: یہ بھی عبادت مشروعہ ہے ,اللہ تعالى فرماتا ہے کہ :[ البقرة] اے ایمان والو!تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے اور رسول £نے ارشاد فرمایا کہ :" چاند دیکھ کرروزہ رکھو اورچاند دیکھکر افطار کرو پس اگر بدلی ہوجائے تو شعبان کو تیس دن پوراکرلو"(بخاری ومسلم)
اب کیا بندہ کویہ حق حاصل ہے جس طرح چاہے اورجب چاہے روزہ رکھے , جواب نہیں میں ہے , بلکہ چاروں حیثیتوں کی رعایت ضروری ہے , یعنی کمیت (مقدار) کی ,پس اگر انتیس یا تیس سے کم رکھے گا تو روزہ صحیح نہ ہوگا , اسی طرح اگر ایک دن یا کئی دن کا اضافہ کرے گا ,تب بھی صحیح نہ ہوگا کیونکہ اس نے مقدار اورتعداد میں خلل پیدا کردیا اور اللہ تعالى کا ارشاد ہے کہ (ولتکملوا العِدّۃ)"اور تاکہ تم شمار پورا کرو" اسی طرح کیفیت کی رعایت بھی ضروری ہے , اگر اس میں بھی اس نے تقدیم وتاخیر کردی کہ رات میں روزہ رہا اوردن میں افطار کیا تو یہ بھی صحیح نہیں اور زمانہ کی بھی رعایت ضروری ہے , چنانچہ اگر رمضان کے بدلہ شعبان یا شوال میں روزہ رہا تو یہ بھی صحیح نہیں, اورجگہ اورمکان کی بھی رعایت ضروری ہے اور اس سے مراد وہ شخص ہے , جوروزہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو’ لہذا اگر حائضہ یا نفاس والی عورت روزہ رکھے تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا –اسی طرح تمام عبادتوں کا حال ہے کہ اسی وقت صحیح اور قبول ہوتی ہیں جب ان کے تمام شرائط کی رعایت کی جائے , اوروہ شرائط یہ ہیں :
1- يہ کہ ان کی مشروعیت وحی الہی سے ہوئی ہو , کیونکہ رسول £کا ارشاد ہے کہ ( من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہو ردّ)( مسلم) "جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے " یعنی قابل قبول نہیں .
2-یہ کہ اسکو صحیح طور پر اداکرے اورچاروں حیثیات یعنی کمیت ومقدار اور کیفیت یعنی وہ طریقہ جس کے مطابق وہ عبادت اداکی جائے اور زمانہ جواس کے لئے مقرر کیا گیا ہے اورجگہ جو اس کے لئے متعین کی گئی ہے اس کا لحاظ اور اسکی رعایت ہو.
3- اوروہ خالص اللہ تعالى کے لئے ہو اس میں کسی اور کو خواہ وہ کوئی بھی ہو اللہ کا شریک نہ ٹھرائے ’
اے مسلمان بھائی! اس وجہ سے بدعت باطل اور گمراہی ہے ,باطل تو اسلئے ہے کہ وہ روح کو پاک نہیں کرتی , کیونکہ وہ اللہ تعالى کی مشروع کی ہوئی نہیں ہے , یعنی اس کے لئے اللہ اوررسول £کا حکم نہیں ہے , اور ضلالت وگمراہی اس لئے ہے کہ بدعت نے بدعتی کو حق سے جھٹکا دیا اور اس شرعی عمل سے اس کو دور کردیا جو اس کے نفس کا تزکیہ کرتا اورجس پر اس کا پروردگار اس کو جزاوثواب عطا کرتا .
تنبیہ: برادر مسلم !آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ جو عبادت کتاب وسنت سے مشروع ہے یعنی جس کے لئے اللہ ورسول کا حکم ہے کبھی کبھی اس میں بدعت خواہ اس کی کمیت میں یا اس کی کیفیت یا زمان ومکان مین داخل ہوجاتی ہے , اوروہ اس عبادت کرنے والے کے عمل کو غارت کردیتی ہے اوراس کو ثواب سے محروم کردیتی ہے ,یہاں پر ہم آپ کے سامنے ایک مثال پیش کرتے ہیں " ذکراللہ " اللہ کے ذکرکی یہ ایک عبادت ہے جوکتاب وسنت سے مشروع ہے, اللہ تعالى کا ارشاد ہے ( یآأیہا اللذین آمنوا أذکرواللہ کثیرا) "اے ایمان والو!اللہ کا کثرت سے ذکر کرو" اور رسول£نے ارشاد فرمایا کہ " اس شخص کی مثال جو رب کا ذکر کرتا ہے اور جوذکر نہیں کرتا,زندہ اورمردہ کی مثال ہے "(بخاری)(1)
اور اس کی مشروعیت کے باوجود بہت سے لوگوں کےیہاں اس میں بدعت داخل ہوگئی ہے , اور اس بدعت نے ان کے ذکر کو تباہ کردیا اوران کو اسکے ثمرہ اور فائدہ یعنی تزکیہ نفس , صفائے روح اور اس پر چلنے والے اجروثواب اورخوشنودی الہی سے ان کو محروم کردیا , کیونکہ بعض لوگ غیر مشروع الفاظ سے ذکر کیا کرتے ہیں مثلاً "اسم مفرد" اللہ,اللہ , اللہ,یاضمیر غائب مذکر ھو ,ھو ,ھو سے ذکر کرنا , اور بعض لوگ دسیوں مرتبہ حرف نداء کے ساتہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں , اوراس سے کچہ سوال ودعا نہیں کرتے , اس طرح جیسے یا لطیف ,یا لطیف ,یالطیف اور بعض آلات طرب کے ساتہ ذکر کرتے ہیں ,اور بعض لوگ الفاظ مشروعہ مثلاً " لاإلہ إلا اللہ " کے ساتہ ہی ذکرکرتے ہیں لیکن جماعت بناکر ایک آواز کرتے ہیں یہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جس کو شارع نے نہ خودکیاہے, نہ اسکے کرنے کا حکم دیا ہے,
---------------------------------------------------------------------
(1) اور مسلم کے الفاظ یہ ہیں "اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے , اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا , زندہ اور مردہ کی مثال ہے .
اورنہ اسکی اجازت دی ہے, ذکر تو ایک فضیلت والی عبادت ہے
لیکن اس کی کمیت اور کیفیت اورہیئت وشکل میں جو بدعت داخل ہوگئی اس کی وجہ سے اس کا کرنے والا اس کے اجروثواب سے محروم ہوگیا ,
اب آخر میں معززقارئین کے سامنے اس مفید مقدمہ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے عرض کررہا ہوں کہ :بندہ جس عمل کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے تاکہ دنیا میں فضائل نفس کی تکمیل اور اپنے معاملہ کی درستگی کرلینے کے بعد آخرت میں اللہ کے عذاب سے نجات پائے اور اس کے قرب میں دائمی نعمت سے سرفراز ہو, وہ عمل اورعبادت وہی ہوسکتی ہے جو مشروع ہو , اللہ تعالى نے اپنی کتاب میں جس کا حکم فرمایا ہو, یا اپنے رسول £کی زبانی جس کی ترغیب دی ہو اور یہ کہ مومن اس کو صحیح طریقہ سے ادا کرے اور چاروں حیثیات یعنی کمیت و کیفیت اور زمان ومکان کی رعایت کرے اور ساتہ ہی اس میں اللہ تعالى کے لئے اخلاص بھی ہو, پس اگر عبادت کی مشروعیت وحی الہی سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت اور ضلالت ہے, اور اگر مشروع ہے لیکن اس کی ادائیگی میں خلل اور رخنہ ہے کیونکہ اس میں اس کی چاروں حیثیات کی رعایت نہیں ہے یا اس میں بدعت داخل ہوگئی ہے تو بھی وہ قربت فاسدہ اور عبادت فاسدہ ہے ,اور اگر اس میں شرک کی آمیزش ہوگئی تو پھر وہ غارت ہوجانے والی اوربالکل باطل عبادت ہے جس سے نہ کوئی راحت پہنچ سکتی ہے, اور نہ وہ کوئی بلا اور مصیبت دور کرسکتی ہے, والعیاذ باللہ .
سنت اوربدعت کا بیان
بدعت کی تعریف سے پہلے سنت کی تعریف ضروری ہے کیونکہ سنت کا تعلق فعل اور عمل سے ہے اور بدعت کا تعلق ترک سے ہے اور فعل ترک پر مقدم ہوتا ہے ,نیز سنت کی تعریف سے بدعت کی تعریف بھی بدیہی طور پر معلوم ہوجائے گی .
سنت کیا ہے : سنت كے معنی لغت میں "طریقہ متبعہ "(وہ طریقہ جس کی پیروی کی جائے) اس کی جمع "سنن" ہے اور شریعت میں سنت سے مراد وہ اچھے طریقے ہیں جن کو رسول £نے اپنی امّت کے لئے اللہ کے حکم سے مشروع فرمائے ہیں . نیز وہ آداب وفضائل جن کی آپ نے ترغیب دی ہے تاکہ ان سے آراستہ ہوکر کمالات وسعادت حاصل ہو, پس اگر وہ سنت ایسی ہے کہ آپ نے اس کے انجام دینے اور اس کی پابندی کا حکم فرمایا ہے تو وہ ان سنن واجبہ میں سے ہے جن کا ترک کرنا مسلمان کو جائز نہیں ہے , ورنہ تو وہ سنن مستحبہ ہیں جن کے کرنے والے کو ثواب ہوگا اور اس کے ترک کرنے والے کو عقاب نہ ہوگا
یہ بھی جان لینا چاہئے کہ جس طرح نبی کریم £کے قول سے سنت کا ثبوت ہوتا ہے , اسی طرح آپ کے فعل اورتقریر( یعنی آپ کے سامنے کسی نے کوئی فعل کیا اور آپ اس پر خاموش رہے )سے بھی ثابت ہوجاتی ہے , نبی کریم £نے جب کوئی فعل کیا اور پابندی کے ساتہ اس کو بار بار آپ کرتے رہے تو وہ فعل امت کے لئے سنت ہو جائیگا مگر یہ کہ کسی کو دلیل سے یہ معلوم ہوجائے کہ یہ فعل آپ کی خصوصیات میں سے ہے , مثلاً آپ کا متواتر روزے رکھنا , اور اگر آپ نے صحابہ کے درمیان کوئی چیز دیکھی یا سُنی اور وہ چیز کئی مرتبہ ہوئی اور آپ نے اس کی نکیر نہیں فرمائی تو وہ بھی سنت ہوجائے گی , کیونکہ آپ نے اس کی تقریر اورتثبیت فرمادی , لیکن اگریہ فعل اور دیکھنا اورسننا باربار نہ ہو تو یہ سنت نہ ہوگا کیونکہ "سنت"کا لفظ تکرار سے مشتق ہے اور غالباً وہ "سنّ السکّین" (یعنی چھری کو دھاربنانے والے اوزار پر باربار رکھا یہاں تک کہ وہ دھار والی ہوگئی ) سے ماخوذ ہے .جو کام آپ £نے ایک بار کیا اور پھر دوبارہ اسکو نہیں کیا اوروہ فعل سنت نہیں ہوا اسکی مثال یہ ہے کہ آپ نے بغیر کسی عذر سفر یا مرض یا بارش کے ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کی نماز کو جمع کرکے پڑھا ,اسی لئے یہ تمام مسلمانوں کے نزدیک قابل اتباع سنت نہیں ہے , جو کام آپ کے سامنے ایک مرتبہ کیا گیا اورآپ اس پر خاموش رہے اوراس کو برقرار رکھا , جس کی وجہ سے وہ ایسی سنت نہ قرارپائی جس پر مسلمان عمل کریں , اس کی مثال یہ واقعہ ہے کہ:" ایک عورت نے منت مانی کہ اگر اللہ تعالی نے رسول £کو سفر سے سلامتی کے ساتہ واپس لایا تو وہ اس خوشی میں اپنے سرپر دف رکھ کر بجائے گی –چنانچہ اس عورت نے ایسا ہی کیا" (ابوداودوترمذی)اور رسول £نے اسکو نہ روک کراس کو برقرار رکھا لیکن یہ ایک ہی بار ہوا اس لئے یہ عمل سنت نہیں قرار پایا , کیونکہ یہ باربار نہیں ہوا-
اور اسکی مثال کہ جو رسول £نے باربار کیا ہو اوروہ بلاکسی نکیر کے سنت بن گیا جس پر مسلمان عمل کرتے ہیں وہ فرض نماز کے بعد صف کے سامنے آپ £کا اپنا چہرہ کرکے بیٹھنا ہے , آپ £نے بیٹھنے کی اس ہیئت کا حکم نہیں فرمایا , لیکن آپ نے اسکو کیا اور سینکڑوں بار کیا , اسلئے یہ ہر امام جو لوگوں کونمازپڑھائے اس کے لئے سنت بن گیا .
اوراسکی مثال کہ جس کو آپ نے باربار دیکھا اور سنا , اوراس کو برقرار رکھا اس لئے وہ عمل سنت ہوگیا , جنازہ کے آگے اور اس کے پیچھے چلنا ہے , کیونکہ آپ £صحابہ کو دیکھتے تھے کہ بعض حضرات جنازہ کے پیچھے چل رہے ہیں اور بعض اس کے آگے , اور آپ نے یہ بارباردیکھا , اور خاموش رہے , اس طرح اس عمل کو برقرار رکھا , اس لئے جنازہ کے پیچھے اوراس کے آگے چلنا ایک سنت بن گیا جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے .
میرے بھائی !جیساکہ بیان ہواکہ یہی سنت ہے اس کو ہمیشہ یا د رکھو اوراسی کے ساتہ چاروں خلفائے راشدین , حضرت ابوبکر ,حضرت عمر ,حضرت عثمان,حضرت علی رضی اللہ عنہم أجمعین کی سنت کو بھی ملالو ,کیونکہ رسول £ نے ارشاد فرمایا ہےک(فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین من بعدی عضوا علیہا بالنواجذ)(ابوداود ترمذی) "تمہارے اوپر میری سنت اورمیرے بعد خلفائے راشدین کی لازم ہے اس کو دانت سے پکڑلویعنی مضبوطی سے "
بدعت :اب رہی بدعت تو یہ سنت کی نقیض اور ضد ہے جو (ابتدع الشیء ) "بغیر کسی پہلی مثال کے کوئی نئی چیز نکا لنا"سے مشتق ہے اور شریعت کی اصطلاح میں ہر اس چیز کو بدعت کہتے ہیں جس کو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یا اپنے رسول £کی زبان سے مشروع نہ فرمایاہو , خواہ وہ عقیدہ ہو یا قول یا فعل ہو اورآسان عبارت میں یوں کہ سکتے ہیں کہ بدعت ہروہ چیز ہے جو رسول £اورآپ کے صحابہ کے زمانہ میں دینی حیثیت سے نہ رہی ہو کہ اس کے ذریعہ اللہ کی عبادت اوراسکا قرب حاصل کیا جاتا ہو , خواہ عقیدہ ہویاقول وعمل اورخواہ اس کو کتنا ہی تقدس دینی اور قربت وطاعت کا رنگ دیا گیا ہو .
اب ہم بدعت اعتقادی ,بدعت قولی , اوربدعت عملی میں سے ہر ایک کی مثال دے کر بدعت کی حقیقت واضح کریں گے . واللہ یہدی من یشاء إلی صراط مستقیم.
بدعت اعتقادی : بہت سے مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ اولیاء اللہ کا بھی اس دنیا سے متعلق ایک انتظامی نظام ہے جو "خفیہ حکومت" سے بہت زیادہ مشابہ ہے جس کے ذریعہ معزولی وتقرری ,عطا ومنع , ضررونفع کے کام انجام پاتے ہیں اوریہ لوگ اقطاب وابدال کہلاتے ہیں اوربہت مرتبہ ہم نے لوگوں کو اس طرح فریاد کرتے سنا کہ اے انتظام عالم سے تعلق رکھنے والے مردان خدا! اوراے اصحاب تصرف!
اسی طرح یہ اعتقاد کہ اولیاء کی ارواح اپنی قبروں میں ان لوگوں کی شفاعت کرتی ہیں اوران کی ضروریات پوری کرتی ہیں جو ان کی زیارت کو جاتے ہیں , اسی واسطے وہ لوگ ان کے پاس اپنے مریضوں کو لے جاتے ہیں تاکہ ان سے شفاعت کروائیں , وہ لوگ کہتے ہیں کہ " جو شخص اپنے معا ملات سے تنگ اور عاجز آگیا ہوتو اس کو اصحاب قبور کے پاس آنا چاہئے "(موضوع حدیث) اسی طرح یہ عقیدہ کہ اولیاء اللہ غیب کی باتیں جانتے ہیں اورلوح محفوظ میں دیکھ لیتے ہیں اور ایک قسم کا تصرف کیا کرتے ہیں , خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ اسی لئے وہ ان کے لئے محفلیں قائم کرتے ہیں ’ اورنذرونیاز پیش کرتے ہیں اورخاص خاص رسومات کے ساتہ ان کا عرس مناتے ہیں –
یہ اوراس طرح کی بہت سی اعتقادی بدعتیں ہیں , جو رسول £ کے زمانے میں موجود نہیں تھیں , اورنہ صحابہ کے زمانہ میں , اورنہ ان تینوں زمانوں میں جس کے صلاح وخیرکی رسول £کی اس حدیث میں شہادت آئی ہے (خیر القرون قرنی ثم اللذین یلونہم ثم اللذین یلونہم )(بخاری و مسلم) "یعنی بہترین زمانہ میرازمانہ ہے ,پھر ان لوگوں کا جو ان سے متصل ہیں پھر ان کا جو ان سے متصل ہیں"
بدعت قولی: اس کی مثال اللہ تعالی سے اس طرح سوال کرنا ہے کہ اے اللہ! بجاہ فلاں اوربحق فلاں ہماری دعا قبول فرمالے , اس طرح دعا کرنے کی عام عادت ہوگئی ہے , جس میں چھوٹے ,بڑے اول وآخر اورجاہل وعالم سب مبتلا ہیں , اس کو لوگ بہت بڑا وسیلہ سمجھتے ہیں , کہ اس پر اللہ تعالی وہ چیزیں عطا فرماتے ہیں , جو دوسرے طریقہ سے نہیں عطافرماتے , اس وسیلہ کے انکار کی کوئی کوشش جرأت بھی نہیں کرسکتا , کیونکہ ایسا شخص دین سے خارج اوراولیاء وصالحین کا دشمن سمجھا جاتا ہے جب کہ یہ بدعت قولیہ جس کا نام وسیلہ ہے رسول £اورسلف صالح کےعہد میں موجود نہ تھی , اورنہ کتاب وسنت میں اس کا کوئی ذکر ہے,اور اس سلسلہ میں سب سے زیادہ درست بات یہ ہے کہ فرقہ باطنیہ کےغالی بددین لوگوں نے اس کو ایجاد کیا تاکہ اس طرح وہ مسلمانوں کو ان مفید اورنافع وسائل سے روک دیں جن سے مسلمانوں کی پریشانیاں دوراوران کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں , جیسے نماز وصدقہ , اور ادعیہ واذکار ماثورہ وغیرہ.
اسی بدعت قولی میں سے وہ بھی ہے جو اکثر متصوفین کے یہاں متعارف ہے , یعنی ذکر کے حلقے قائم کرنا , کبھی ھو , ھو,ھی, ھی, کےالفاظ سے اور کبھی اللہ ,اللہ کے الفاظ سے , اورکھڑے ہو کر اپنی پوری بلند آواز سےٍ , اسی طرح ایک گھنٹہ یا دو گھنٹہ کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض بے ہوش ہو جاتےہیں اور یہاں تک کہ بعض خلاف شرع باتیں کرنے لگتے ہیں اورکفر بکنے لگتے ہیں, انہی میں سے ایک شخص نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تھا اوراسے یہ خبر نہ تھی کہ وہ چھری کہاں ماررہا ہے.
اسی طرح مد حیہ قصائد واشعار کا بے ریش لڑکوں اورداڑھی منڈوں کی آوازسے سننا اور عودومزامیر اور دف کا سننا ہے , یہ اور اس طرح کی قولی بدعات بہت ہیں , حالانکہ اللہ کی قسم!یہ ساری چیزیں رسول £کےزمانہ میں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں نہیں تھیں , بلکہ یہ سب زندیقوں , دین اسلام میں تخریب پیدا کرنے والوں اورامت محمدیہ میں فساد پیدا کرنے والوں کی ایجاد ہے تاکہ مسلمانوں کو مفید اورنافع شئے سے مضر چیز کی طرف اور حقیقت وسنجیدگی سے لہوولعب کی طرف متوجہ کردیں
بدعت فعلی: اس کی مثال قبروں پر عمارت بنانا ہے اور خاص طور سے ان لوگوں کی قبروں پر جن کی نیکی اور بزرگی کے معتقد ہیں اور ان کی قبروں پر گنبد بنانا اور ان کی زیارت کے لئے سفر کرنا اور وہاں مقیم ہونا, اور انکے پاس گائے اوربکری ذبح کرنا , اور وہاں کھانا کھلانا , یہ ساری چیزیں رسول £اورصحابہ رضی اللہ عنہم کے یہاں معروف نہ تھیں , اوراسی طرح ایک بدعت مسجد حرام اور مسجد نبوی سے الٹے پاؤں نکلنا ہے تاکہ خانہ کعبہ یا قبرنبوی کی طرف نکلتے وقت اس کی پشت نہ ہو , یہ بھی بدعت فعلی ہے , جو امت کے قرونِ اولى میں نہ تھی ,لیکن اس کو تشدد پسند لوگوں نے ایجاد کیا , اسی طرح اولیاء کی قبور کے اوپر لکڑی کے تابوت رکھنا اوراس کو لباس فاخرہ پہنانا اورخوشبو لگانا , اورچراغاں کرنا بھی بدعت ہے –
معززقارئین! یہ اعتقاد اور قول وعمل کی بدعات کی چند مثالیں ہیں جن پر عبادات کی چھاپ پڑگئی ہے , اسی طرح معاملات کے اندر بھی بدعات پیدا ہوگئی ہیں , مثلاً زانی کے اوپر زنا کی حد قائم کرنے کے بجائے قید میں ڈال دینا , اسی طرح چور کے اوپر چوری کی حد جاری کرنے کے بجائے قید میں ڈال دینا , اورمثلاً گھروں ,سڑکوں , اور بازاروں میں گانوں کا رواج دینا , کیونکہ اس طرح کی بیہودہ ,طرب انگیزیاں اور مدح خوانیاں اس امت کے قرون اولی میں نہ تھیں , اورانہی عملی بدعات میں سے سود کی منصوبہ کاری اور اسکا اعلان نیز اس کا انکار نہ کرنا ہے , اور اسی طرح عورتوں کا بے پردہ نکلنا اور عام وخاص مقامات میں گھومنا پھرنا اور مردوں کے ساتھ ان کا اختلاط ہے , یہ ساری چیزیں بدترین بدعات ہیں اور امت اسلامیہ کو انحطاط وزوال کے خطرہ سے دوچار کرنے والی چیزیں ہیں , جس کے آثاربھی ظاہر ہوگئے ہیں جس کے لئے کسی دلیل وحجت کی ضرورت نہیں , ولا حول ولا قوۃ إلاباللہ.العظیم (1)
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
(1) اگریہ کہا جائے کہ ہم نے یہاں لاحول الخ کیوں کہا تو اس کا جواب یہ ہے کہ غم دور کرنے کے لئے کیونکہ حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "لاحول ولا قوۃ إلا باللہ" ننانوے بیماریوں کی دوا ہے جن میں سب سے آسان غم ہے ,(رواہ ابن ابی الدنیا وحسنہ السیوطی .
برادران محترم! آپ کومعلوم ہونا چاہئے کہ تشریع اسلامی , جو صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول£کا حق ہے , جو نافع اور نفس کا تزکیہ کرنے والا روح کو پاک کرنے والا ,مسلمان کو دنیا وآخرت کی سعادت وکمال دینے والا ہے , اس کے اندر کچہ لوگوں نے بدعت حسنہ کے نام سے مسلمانوں کے لئے ایسی بدعات ایجاد کیں جن کے ذریعہ انہوں نے سنتوں کو مردہ کردیا و اورقرآن وسنت والی امت کو بدعت کے سمندر میں غرق کردیا , جس کے سبب امت اسلام کے اکثرلوگ طریق حق اور راہ ہدایت سے ہٹ گئے اور باہم لڑنے جھگڑنے والے مذاہب پیدا ہوگئے , اورمختلف راستے اور طریقے نکلے , جو اس امت کے انحراف کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے . اس کا سبب بدعت کو اچھا سمجھنا ہے , اور بدعت کو حس قراردینا ہے , ایک شخص چند بدعات ایجاد کرتا ہے جو سنن ہدى کے خلاف ہیں اورکہتا ہے کہ یہ حسن اوراچھی ہیں وہ اپنی بدعت کو رواج دیتے وقت کہتا ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے , تاکہ یہ بدعت مقبول ہو جائے اور اس پر عمل کیا جانے لگے , حالانکہ ایسا کہنا رسول £کے ارشاد کے خلاف ہے , آپ نے فرمایا ( کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار )"ہربدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے"
افسوس ہے کہ بعض اہل علم اس تضلیل سے جو اللہ اور اس کے رسول £کے حق تشریع میں کھلی زیادتی ہے دھوکہ کھا گئے , اور انہوں نے کہا کہ بدعت میں شریعت کے پانچوںاحکام یعنی وجوب ,ندب ,اباحت , کراہت اورحرام جاری ہوں گے , لیکن امام شاطبی رحمہ اللہ نے اس کو سمجھا , اورمیں یہاں پر بدعت کی اس تقسیم پر امام شاطبی رحمہ اللہ کی تردید اوربدعت حسنہ کے وجود کے انکار کی تقریر پیش کرتا ہوں , وہ فرماتے ہیں :
" بدعت کی تقسیم سیئہ اور حسنہ کی طرف اورپانچوں احکام ( وجوب ندب اباجت کراہت حرمت ) کا ان پر جاری کرنا ایک گھڑی ہوئی بات ہے جس کی کوئی دلیل شرعی نہیں , بلکہ اسکا رد خود اس کے اندر موجود ہے , کیونکہ بدعت کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہوا کرتی , نہ نصوص شرع سے اورنہ قواعد شرع سے , اسلئے کہ اگر وہاں کوئی دلیل شرعی اس کے وجوب یا ندب یا اباحت کی ہوتی تو پھر وہ بدعت نہ ہوتی اوروہ عمل ان اعمال میں داخل ہوتا جن کا حکم دیا گیا ہے یا جن کا اختیار دیا گیا ہے , لہذا ان اشیاءکو بدعت بھی شمار کرنا ارو اسکے وجوب یا ندب یا اباحت کی دلیل کا بھی ہونا اجتماع متناقضین ہے "(1)
محترم قارئین! آپ نے دیکھا کہ امام شاطبی رحمہ اللہ نے بدعت کے حسنہ ہونے کا کس طرح انکار کیا ہے اوررسول £اسکے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ گمراہی ہے اور اس شخص پر کس طرح نکیر فرمائی جس کا یہ گمان ہے کہ بدعت پر پانچوں احکام جاری ہوتے ہیں (2)
یعنی یہ کہ بدعت واجب ہوتی ہے یا مندوب ہوتی ہے ,یا مباح ہوتی ہے یا مکروہ ہوتی ہے یا حرام ہوتی ہے , کیونکہ بدعت تو وہ ہے جس پر شریعت یعنی کتاب وسنت اوراجماع وقیاس کی کوئی دلیل نہ ہو , اگر اس پر کوئی دلیل شرعی ہو تو وہ دین وسنت ہوگی نہ کہ بدعت , اس کو خوب سمجھ لو !
اب اگر یہ کہو کہ قرافی جیسے جلیل القدر علماء اس غلطی میں کیسے پڑگئے اورانہوں نے بدعت میں پانچوں احکام کے جاری ہونے کو کیسے کہ دیا ؟ تو میں جواب میں عرض کروں گا کہ اس کا سبب غفلت ہے اور بدعت کے ساتہ مصالحہ مرسلہ کا اشتباہ اور التباس ہے جسکی تفصیل یہ ہے کہ :
" مصالح مرسله "ميں "مصالح" مصلحۃ" کی جمع ہے جس کے معنی ہیں وہ چیزجو خیر لائے اور ضرر کو دور کرے اورشریعت میں اس کے ثبوت یا نفی کی کوئی دلیل نہ ہو اور یہی "مرسلہ" کے معنی ہیں کہ شریعت میں اس کے اعتبارکرنے کی یا اس کو لغو اور اس کی نفی ---------------------------------------------------------------------
(1) "(الموافقات ج/1ص/191) (2) اسکو قرافی رحمہ اللہ نے "الفروق" میں نقل کیا ہے اورافسوس کہ وہ بھی فریب کھا گئے
کی کوئی قید نہ ہو , اسی لئے بعض علماء نے اس کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ " مصالح مرسلہ "ہر وہ منفعت ہےجو شریعت کے مقاصد میں داخل ہو بدون اسکے کہ اس کے اعتبار یا الغاء ( لغو قراردینے) کا کوئی شاہد اوردلیل ہو " اورشریعت کے مقاصد میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شریعت جلب منافع اور دفع ضرر کی بنیاد پر قائم ہے , تو جس چیز سے مسلمان کو خیر پہنچےٍ اورشر دور ہو مسلمان کے لئے اسکا استعمال جائز ہے ,بشرطیکہ شریعت نے اس کو کسی ظاہری یا پوشیدہ فساد کی وجہ سے لغو اورباطل قرارنہ دیا ہو" چنانچہ کسی عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ مادی منفعت حاصل کرنےکے لئے زنا کرے اس لئے کہ اس وسیلہ کو جو منفعت کےمثل ہے شارع نے لغو اورباطل کردیا ہے , اسی طرح مرد کو یہ حق نہیں ہے کہ جھوٹ یا خیانت یا سود کے ذریعہ اپنا کوئی ذاتی مقصد پورا کرے یا دولت حاصل کرے کیونکہ ان مصلحتوں اورمنفعتوں کو شریعت نے لغو اور باطل کردیا ہے اورانکا اعتبارنہیں کیا ہے کیونکہ یہ شریعت کے پڑے مقاصد یعنی روح اور جسم کی سعادت کے منافی ہیں .
شارع نے جن چیزوں کا اعتبار کیا ہے اس میں سے بھنگ کی تحریم ہے .کیونکہ اگرچہ اس کی تحریم کی نص نہیں ہے لیکن وہ تحریم شراب میں داخل ہے ,اس لئے یہ نہیں کہا جائے گا کہ بھنگ کی حرمت مصالح مرسلہ میں سے ہے , کیونکہ شارع نے شراب کو حرام کردیا , کیونکہ اس میں ضرر اور نقصان ہے ,اور بھنگ بھی اسی طرح ہے اس لئے وہ شرعی قیاس سے حرام ہے , اس مصلحت کی وجہ سے نہیں کہ اس کی وجہ سے مسلمان سے شر دفع ہورہا ہے , اور اسی قبیل سے مفتی کا مال دار شخص پر کفارہ میں روزہ کا لازم کرنا ہے , کیونکہ غلام آزاد کرنا ,یا کھانا کھلانا اس کے لئے آسان ہے , اس لئے مصلحت شرعیہ کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ اس کی بے حرمتی کی مالدارلوگ جرأت نہ کریں , مالداروں پر روزہ ہی لازم کردیا جائے , تو یہ مصلحت باطل ہے, اس لئے کہ شارع نے اس کے لغو کرنے کا اعتبار کیا ہے اور مصالح مرسلہ وہ ہیں کہ شریعت نے نہ اس کا اعتبار کیا ہو اورنہ اس کو لغو کیا ہو ,اوریہاں پر شارع نے اس کو لغو قراردیا ہے کیونکہ روزہ کی اجازت اسی وقت دی ہے جب عتق یا اطعام سے عاجز ہو , اللہ تعالى کا ارشاد ہے :[المائدة:89] "پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کا کھلانا ہےاس درمیانہ درجہ سے جس سے تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو, یا ان کو کپڑا دینا ہے , یا گردن (غلام) آزاد کرنا, پس جو نہ پائے تو تین دن کا روزہ رکھنا, یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو "
اور کفارہ یمین ہی کی طرح رمضان کے دن میں جماع کرنے کا کفارہ بھی ہے , لہذا مفتی کویہ حق نہیں ہےکہ عتق یا اطعام کو چھوڑ کر روزے کا فتوى دے ,
محترم قارئین کو معلوم ہونا چاہئے کہ مصالح مرسلہ اور وہ چیز جس کا نام بدعت کے جاری کرنے والوں نے بدعت حسنہ رکھا ہے , یہ ضرورت اورحاجیات اورتحسینات میں ہوا کرتی ہے,
ضروریات سے مراد وہ چیزیں ہیں , جو فرد یا جماعت کی زندگی کے لئے ضروری اورناگزیر ہیں, اورحاجیات سے مراد وہ چیزیں ہیں جو فرد یا جماعت کی حاجت کی ہوں اگرچہ ان کے لئے ضروری اورناگزیرنہ ہوں , اورتحسینات سے مراد صرف جمالیات وزینت اورآراستگی کی چیزیں ہیں , نہ وہ ضروری اورناگزیرہیں اورنہ ان کی حاجت ہی ہے , مثال کے طور پرعرض ہے ,حصر مقصود نہیں کہ جیسے مصحف شریف کی کتابت اور قرآن مجید کے جمع وتدوین کا کا م جو حضرت ابوبکرصدیق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے عہد میں ہوا تو یہ عمل بدعت نہیں ہے (1) ,بلکہ یہ مصالح مرسلہ کے باب سے ہے , کیونکہ کمی اورزیادتی سے قرآن کی حفاظت اور قرآن کی پوری پوری حفاظت مسلمانوں پر واجب ہے , تو جب ان کو قرآن کے ضائع ہوجانے کا خوف اورخدشہ ہو ا تو انھوں نے اس کا وسیلہ اورذریعہ تلاش کیا جس سے یہ مقصد حاصل ہو تو اللہ تعالی نے ان حضرات کو اسکے جمع وتدوین اوراسکی کتابت کی رہنمائی فرمائی ,
-----------------------------------------------------------------
(1) مزید برآں یہ خلفائے راشدین کی سنت بھی ہے جن کے اتباع کا ہمیں حکم دیا گیا ہے
اس لئے ان حضرات کا یہ عمل مصلحت مرسلہ ہے کیونکہ شریعت میں نہ اس کے اعتبارکی دلیل ہے اورنہ اس کے الغاء کی بلکہ وہ مقاصد عامہ میں سے ہے اب اسکے بعد بھی کیا کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ یہ بدعت حسنہ یا بدعت سئیہ ہے , نہیں !بلکہ یہ مصالح مرسلہ ضروریہ میں سے ہے .
اورمصالح مرسلہ حاجیہ کی مثال :مسجد میں قبلہ کی طرف محراب بنانا ہے .کیونکہ رسول £کے زمانہ میں مسجدوں میں محراب نہیں ہوتے تھے , جب اسلام پھیلا اورمسلمانوں کی کثرت ہوگئی اور آدمی مسجد میں داخل ہونے کے بعد قبلہ کی جہت معلوم کیا کرتا تھا ,اورکبھی کوئی شخص نہ ملتا جس سے وہ معلوم کرے تو وہ حیرت میں پڑجاتا اس لئے ضرورت پیش آئی کہ مسجد میں قبلہ کی طرف محراب بنایا جائے جس سے اجنبی کو قبلہ معلوم ہوجائے ,
اور اسی کے مثل نماز جمعہ میں اذانِ اوّل کی زیادتی ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کی کیونکہ جب مدینہ بڑا ہوگیا اوراسلام کا دارالحکومت ہوگیا اوراس کی آبادی اوربازاربہت وسیع ہوگئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ رائے ہوئی کہ وقت سے پہلے اذان دے دی جائے تاکہ خرید وفروخت کی غفلت میں جولوگ پڑے ہوئےہیں وہ باخبراورمتنبہ ہوجائیں , اسکے بعد جب لوگ آجاتے اوروقت ہو جاتا اور مؤذن اذان دیتا, توآپ کھڑے ہوکرخطبہ دیتے اورنماز پڑھاتے , اس لئے یہ بدعت نہیں ہے , کیونکہ اذان نماز کے لئے مشروع ہے. اورکبھی کبھی فجرکی نمازکے لئے بھی دو اذانیں دی جاتیں , لیکن یہ بھی مصالح مرسلہ میں سے ہے , جس میں مسلمانوں کا نفع ہے , اگر چہ یہ ان کی ضروریات سے نہیں ہے لیکن یہ ان کو فائدہ پہنچاتی ہے کہ نماز جو ان پر واجب ہے اس کے وقت کے قریب ہونے پر تنبیہ کرتی ہے , اور چونکہ شریعت میں مسئلہ محراب یا مسئلہ اذان کے اعتبار یا الغاء کی کوئی دلیل اورشاہد نہیں ہے , اور دونوں مسئلے مقاصد شرع میں داخل ہیں اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ مصالح مرسلہ میں سے ہیں پہلی تو حاجیات (ضرورتوں ) کے قبیل سے ہے اوردوسری تحسینات کے قبیل سے .
اورانہی مصالح مرسلہ میںسے جس میں بعض اہل علم غلطی میں پڑگئے اورانہون نے کہا کہ یہ بدعت حسنہ ہے اوراس پربہت سی بدعات ممنوعہ کو قیاس کرلیا , مسجد میں مناروں اوراذان گاہوں کا تعمیرکرنا ہے تاکہ مؤذن کی آواز شھراوردیہات کے اطراف تک پہنچے, جس سے لوگوں کو وقت کے ہوجانے کا یا وقت قریب ہونے کا علم ہوجائے , اور اذان گاہوں ہی کی طرح امام کا خطبہ اس کی قرأت اورنماز کی تکبیرات سننے کے لئے لاؤڈ اسپیکر لگانا ہے , اوراسی طرح مکاتب میں حفط قرآن کے لئے اجتماعی قرأت اورتلاوت ہے (1) یہ ان مصالح مرسلہ میں سے ہے کہ شارع نے جس کے اعتبارکی یا الغاء کی شہادت نہیں دی ہے لیکن یہ مقاصد عامہ کے تحت داخل ہے , اسلئے کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں حاصل ہے کہ یہ بدعت حسنہ ہے اورپھر اس پر اس بدعت کو قیاس کرے جس کو رسول £ نے حرام قرار دیا ہے ,آپ £کا ارشاد ہے (إیاکم ومحدثات الأمور فإن کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ ) " تم (دین میں )نئی ایجاد کردہ چیزوں سے بچو,اسلئےکہ ہرنئی نکالی ہوئی چیز بدعت ہے اورہربدعت گمراھی ہے ".
قاری محترم! خلاصہ یہ ہے کہ مصالح مرسلہ اورہیں اوربدعت محدثہ اور, مصالح مرسلہ بالذات مقصود ومطلوب نہیں ہوتیں بلکہ کسی واجب کی حفاظت یا اس کی ادائیگی کے وسیلہ کے طورپر مطلوب ہوتی ہیں یا پھر کسی مفسدہ کو دفع کرنے کے لئے ان کا ارادہ کیا جاتا ہے ,لیکن
بدعت تو ایک شریعت سازی ہے ,جوشریعت الہی کے مشابہ ہے اوروہ بالذات مقصود ہوتی ہے , اوروہ جلب منفعت یا دفع مضرت کے لئے وسیلہ نہیں ہوتی , اوروہ تشریع جو مقصود بالذات ہو وہ صرف اللہ تعالى کا حق ہے ,کیونکہ اللہ تعالى کے سوا کوئی بھی ایسی عبادت وضع کرنے پر قادر نہیں ہے جو انسانی نفس میں تطہیر وتزکیہ کا عمل کرسکے , انسان کبھی بھی اسکا اہل نہیں ہوسکتا ,
---------------------------------------------------------------------
(1) بلاد مغرب میں اس مسئلہ پر بے حد قیل وقال ہے کیونکہ تونس ,جزائر اور مراکش کے لو گ بعض نمازوں کے بعد حزب پڑھتے ہیں یعنی بیک آواز اجتماعی قرأت کرتے ہیں , اورقرأت کی یہ ہیئت بدعت ہے .بعض اہل علم نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ یہ بعد کی ایجاد اوربدعت ہے , جوعہد سلف میں معروف نہ تھی , اور بعض اہل علم نے اسکی اجازت دی ہے اسلئے کہ یہ حفظ قرآن کا وسیلہ اور ذریعہ ہے اوران لوگوں سے میں نے جو بات کہی وہ دونوں آراء کی جامع تھی وہ یہ کہ اگراس اجتماعی قرأت سے مراد تعبد اورعبادت ہے تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ محدثہ اوربدعت ہے اوراگراس سے مراد قرآن کی حفاظت ہے تاکہ وہ ضائع نہ ہو تو ان مصالح مرسلہ میں سے ہے جس کی اجازت اہل علم دیتے ہیں واللہ اعلم .
اس لئے اس کے لئے لازم ہے کہ اپنی حد میں رہے , اور وہی طلب کرے جو اس کے لئے مناسب ہے اورجوچیز اس کے لئے مناسب نہیں ہے اس کو ترک کردے اس لئے کہ یہی اس کے لئے بہتر اورباعث سلامتی ہے
****************

Articles 